حج بیت اﷲ کی زیارت، حضوری سے پہلے حضوری کے بعد

(Hafiz Hashim Qadri, India)
 اﷲ کی رحمت ہے ان لوگوں پر جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے گھر خانۂ کعبہ و مسجد نبوی اورمدینہ منورہ کے لئے توفیق ِ رفیق عطا فرمائی۔ الحمد ﷲ، سبحان اﷲ !
شکر ہے خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے
اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیئے
اصلِ مراد حاضری اس پاک در کی ہے

یہ بڑی قسمت اور نصیب کی بات ہے۔ بلا منظوری بلاوانہیں آتا۔ حج اسلام کے دوسرے ارکان کی طرح ایک اہم رکن ہے ،فرض عین ہے۔ ۹ ؁ہجری میں فرض ہوا ۔ اس سے پہلے مستحب تھا۔ اس کی فرضیت قطعی ہے ۔جو اس کی فرضیت کا منکر ہو کافر ہے۔ پوری عمر میں صرف ایک بار حج فرض ہے۔ اس کے علاوہ نفل ہے۔ حج کا مطلب قصد اور زیارت ہے مگر شریعت کی اصطلاح میں حج سے مراد وہ عبادت ہے جومسلمان بیت اﷲ اور میدان عرفات میں پہنچ کر مخصوص انداز میں کرتا ہے۔ چونکہ حج میں مسلمان بیت اﷲ کی زیارت کے ارادہ سے جاتا ہے اس لئے اسے حج کہا جاتا ہے۔ حج کی فرضیت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: بلا شبہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا جو مکہ میں ہے، بڑی برکت والا اور سب جہانوں کے لئے ہدایت کا مرکز ہے۔ اس میں کھلی نشانیاں ہیں، مقامِ ابراہیم ہے اور جو داخل ہوا اس میں وہ امن پا گیا ۔ اور اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں پر اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے جو وہاں پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور جو کوئی اس کا انکار کرے تو بے شک اﷲ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔( القرآن، سورۃ آل عمران، آیت ۹۷)

اس آیت کریمہ سے حج کی فرضیت کا حکم ظاہر ہوتا ہے اور اس کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں حج بیت اﷲ کی اہمیت اور اس کی فضیلت کثرت سے بیان ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عمررضی اﷲ عنھما حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ (۱) اس بات کی گواہی دیناکہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اﷲ ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں(۲) نماز پڑھنا (۳) زکوٰۃ دینا(۴) بیت اﷲ کا حج کرنا (۵) اور رمضان کے روزے رکھنا۔ حضرت ابو ہریرہ صنے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا :جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کے ارادے سے نکلا اور پھر راستے میں مر گیا تواﷲ تعالیٰ اس کے حق میں ہمیشہ مجاہد، حاجی اور عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھ دیتا ہے۔(بیہقی، مشکوٰۃ، صفحہ ۲۲۳) حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنھمانے کہا رسول کریم ﷺ نے فرمایا : مَنْ اَرَادَ الْحَجَّ فَلْیُعَزِّلْ0 یعنی جو شخص حج کا ارادہ کرے تو پھر جلد اس کو پورا کرے۔(ابو داؤد، دارمی، جلد اول صفحہ ۶۷۲، مشکوٰۃ ۲۲۲، کتاب المناسک)

انتباہ:
دکھاوے کے لئے حج کرنا اور مالِ حرام سے حج کو جانا حرام ہے۔(در مختار، رد المختار، بہار شریعت حصہ ۶، صفحہ ۷) حج کے پروگرام کی تصویریں بلا دریغ کھنچوانا، سی ڈی بنوانا جائز نہیں۔ اس لئے گناہ سے بچنا کسی نیکی کے اکتساب سے اہم و اعظم ہے۔ جیسا کہ حضرت مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے فتاویٰ رضویہ تیسری جلد صفحہ ۷۲۹ پر تفصیل سے لکھا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:حاجی کی مغفرت ہو جاتی ہے اور حاجی جس کے لئے استغفار کرے اس کی بھی مغفرت ہوجاتی ہے۔(بہار شریعت جلد۶، صفحہ۶)
زیارت مدینہ منورہ و روضۂ اقدس ﷺ
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

قرآن پاک میں بارگاہ رسالت مآب ﷺ کی حاضری کو گناہوں کی بخشش کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وَلَوْاَنْتُمْ․․․․․․․․․الخ(ترجمہ: اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے کے بعد آپ کے پاس حاضر ہوجائیں اور اﷲ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رسول بھی ان کے لئے بخشش کی دعاکریں تو بلا شبہ اﷲ کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پائیں گے۔(القرآن، سورۃ نساء۴، آیت نمبر ۶۳) حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ جو شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ جائے اس کے بعد میری مسجد (مسجد نبوی) میں آئے تو اس کے لئے دو مبرور حجوں کاثواب ہوگا۔

عاشقوں کے لئے عشق کی منزل محبوب کائنات ﷺ کا آستانہ ہے، جہاں سوز عشق کو قرار و سکون ملتاہے۔کیا خوب عاشق رسول نے کہا ہے
جان ہے عشقِ مصطفی روز فزوں کرے خدا جس کو ہو درد کا مزہ نازدوااٹھائے کیوں
بیتاب دل سکون پاتے ہیں، متلاشی نگاہیں روضۂ اقدس کی جالیاں دیکھ کر شوقِ محبت میں آبدیدہ ہوجاتی ہیں اور دل آنکھوں کو کہتا ہے کہ تم کتنی خوش نصیب ہو کہ آج تم اس در پر پہنچی ہو جہاں دونوں جہاں کے سردار مصطفی جانِ رحمت ﷺ آرام فرما ہیں۔

اس لئے جسے اﷲ کے گھر جانے کی توفیق مل جائے اسے روضۂ اقدس کی زیارت سے بھی ضرور شرف یاب ہونا چاہئے ۔ حضور ﷺ مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد جلوہ افروز ہوئے اور تا دم آخر یہیں قیام پذیر رہے۔ یہیں آپ نے مسجد نبوی بنائی۔ حج یا عمرہ کرنے کے بعدمدینہ طیبہ ، مسجد نبوی ، روضۂ رسول ﷺ کی حاضری حضور شفیع المذبنین کی شفاعت عظمیٰ کا ذریعہ بنے گی۔ مدینہ منورہ کی زیارت ،مواجہہ شریف کی زیارت، مسجد نبوی کی زیارت کے بغیر واپس لوٹ آنا سخت محرومی اور بد بختی ہے۔ حضور ﷺ کے روضہ ِ اقدس کی زیارت کرنا دین و دنیا میں سر خروئی کا موجب ہے۔ اس کی نسبت خود رسول اﷲ کا ارشاد گرامی ہے۔ مَنْ وَّ جَدَ سَعَۃً وَّ لَمْ یَزُرْنِی فَقَدْ جَفَا نِی(ترجمہ: جس کومدینہ تک پہنچنے کی وسعت ہو اور وہ میری زیارت کو نہ آئے (یعنی صرف حج کر کے چلا جائے) اس نے میرے ساتھ بڑی بے مروتی کی ۔ نیزحضرت عمرص سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مَنْ زَارَا قَبْرِی وَ جَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِی (ترجمہ:جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت لازمی ہوگی۔ (دارقطنی، بیہقی جلد ۵صفحہ۴۰۳، باب زیارہ قبر النبی ﷺ) اور حدیث ملاحظہ فرمائیں۔عَنْ اِبْنِ عُمَرْ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِیْ بَعْدَ وَفَا تِیْ کَانَ لَمَنْ زَارَنِیْ فِیْ حَیَاتِی(حضرت عمر ص نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایاکہ جس نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو ایسا ہے جیسے میری حیات (دنیوی) میں زیارت سے مشرف ہوا۔(دارقطنی، طبرانی جلد۱۲، صفحہ۳۱۰)

حاطب صسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی اس نے میری زندگی میں زیارت کی اور جو حرمین طیبین میں مرے گا قیامت کے دن امن والوں میں اٹھے گا۔(بیہقی)حضرت مولانا عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ایک بزرگ سید صدرالدین صاحب کا مقولہ نقل فرمایا ہے ۔نعمتیں دنیا میں اس وقت ایسی ہیں کہ دنیاکی کوئی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ مگر افسوس کہ لوگ ان سے غافل ہیں۔ ایک تو حضور ﷺ کا وجود مبارکہ جیساکہ زندگی میں تھا اور دوسری نعمت قرآن مجید۔ علماء لکھتے ہیں کہ وہ مقام جو حضور ﷺ کے جسدِ اطہرسے متصل ہے وہ عرش و کرسی سے بھی افضل ہے ۔ اس لئے ہر حاجی بیت اﷲ کی زیارت سے فارغ ہوکر ر روضۂ رسول کی زیارت کو جائے۔ اگر ممکن ہو تو ننگے پاؤں روتاہوا، عاجزی سے باادب شوق ِ دیدار کے ساتھ جلدجلد قدم اٹھائے۔ جب مدینہ طیبہ پہنچ جائے تو نہایت صبر و سکون سے رہے ۔ اگر دورانِ قیام میں کوئی تکلیف پہنچے تو دل میں کسی قسم کی شکایت نہ لائے۔ تمام نمازیں مسجد نبوی میں ادا کرنے کی کوشش کرے۔ رات کے حصہ میں بیدار رہ کر عبادت کرے۔مسجد نبوی میں بیٹھ کر قرآن مجید آہستہ آواز سے پڑھے ۔ مسجد نبوی میں اکثراعتکاف کرے۔ اگر ممکن ہو تو ہر ستون کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے، روضۂ اطہر پر اکثر نگاہ ڈالتارہے۔ مسجد نبوی میں دنیاکی باتیں نہ کرے۔ درود شریف کثرت سے پڑھے ، مواجۂِ شریف میں حاضری سے پہلے غسل کرے ،با وضو، صاف و پاک کپڑے پہنے، خوشبو لگائے اور روضۂ اقدس پر نظر پڑتے ہی الصلاۃ و و السلام علیک یا رسول اﷲ سلام پیش کرے، درود پاک پڑھتا رہے۔
مدینہ طیبہ کے فضائل و برکات احادیث نبویہ میں
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے او جانے والے
او پائے نظر ہوش میں آ یہ کوئے نبی ہے
آنکھوں سے بھی چلنا یہاں بے ادبی ہے

حضرت ابو ہریرہ صسے مروی ہے ۔رسول کائنات ﷺ نے فرمایا: مدینہ کی تکلیف و شدت پر میری امت سے جو کوئی صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کا شفیع ہوں گا۔(مسلم، ترمذی) مدینہ طیبہ اپنے رہنے والوں کے دلوں کا کھوٹ اس طرح نکالتا ہے جیسے لوہے کا کھوٹ آگ کی بھٹی زائل کردیتی ہے۔(حدیث بحوالہ وفاء الوفاء ، جلد اول صفحہ۴۱)

مدینہ شفا ہے:
جو شخص صبح کو مدینہ کی وادی میں سات کھجور یں کھالے تو شام تک اس پر کوئی نقصان دہ چیز ا ثر نہ کرے گی۔ (متفق علیہ) حضور ﷺ نے مدینہ طیبہ سے محبت کا اعلان فرمایاہے۔ اس کے لئے مکہ سے دوگنی برکت کی دعا مانگی ہے۔ فرمایا ہے کہ مقدس بستی مدینہ وباؤں ، بیماری اور دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گی اور اس کے دروازوں پرفرشتے حفاظت کے لئے مقرر ہیں۔ مدینہ منورہ وہ مقدس شہر ہے جسے حضور سید الاولین و الآخرین حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی فداہ ابی و امی ﷺکا ننیہال ، دارالہجرت اور آخری آرام گاہ بننے کا شرف حاصل ہے۔

مدینہ طیبہ کے فضائل و برکات احادیث نبویہ میں
جو شخص اہلِ مدینہ کو تکلیف پہنچائے گا، سازش کرے گا وہ ایسے پگھل جائے گا جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔ (بخاری شریف)حضرت سعد صسے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: مدینہ لوگوں کے لئے بہتر ہے اگر جانتے ۔مدینہ کو جو شخص بطور اعراض چھوڑے گا اﷲ اس کے بدلے میں اسے لائے گا جو اس سے بہتر ہوگا اور مدینہ کی تکلیف و مشقت پر جو ثابت قدم رہے گا روز محشر میں میں اس کا شفیع یا شہید ہوں گا ۔ اور ایک روایت میں ہے :جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اﷲ اسے آگ میں اس طرح پگھلا ئے گا جیسے سیسہ یا اس طرح جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔اس کی مثال بزار نے حضرت عمر صسے روایت کی ہے ۔(بہار شریعت حصہ ۶صفحہ۱۲۰، باب فضائل مدینہ)ابن حبان اپنی صحیح میں جابر صسے راوی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: جو اہل مدینہ کو ڈرائے گا اﷲ اسے خوف میں ڈالے گا۔طبرانی عبادہ بن صامت صسے راوی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: اﷲ جو اہلِ مدینہ پر ظلم کرے اور انھیں ڈرائے تو اسے خوف میں مبتلا کر اور اس پر اﷲ اور فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت اور اس کا نہ فرض قبول کیا جائے گا نہ نفل ۔ اس کی مثل نسائی و طبرانی نے سائب بن خلاد صسے روایت کی ہے۔(بہار شریعت جلد۶صفحہ۱۲۱، حدیث نمبر ۱۵۔۱۶۔۱۷)

دیارِ حبیب میں جانے والو! قدم قدم پر خدا وند کریم کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیجئے۔ زیارت حرمین شریفین (مکہ مدینہ) سے رخصت کے وقت خوف، ذوق، شوق سے اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے اوراس ناچیز کے لئے بھی دعا کیجئے۔حصولِ نعمت پر اظہارِ مسرت کا حکم الٰہی ہے: پھر جب اپنے حج کے کام پورے کر چکو تو اﷲ کا ذکر کثرت سے کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے۔بلکہ اس سے زیادہ اﷲ کا ذکر کرو۔(القرآن ،سورۃ البقرہ، آیت نمبر۱۹۹)
عجب بے کلی ہے عجب اشتیاق ، حضوری سے پہلے حضوری کے بعد
در مصطفی کی جدائی ہے شاق، حضوری سے پہلے حضوری کے بعد
حضوری میں کتنی حضوری ہوئی ، کہ نزدیک کس درجہ دوری ہوئی
نہیں اس کا کوئی سیاق و سباق، حضوری سے پہلے حضوری کے بعد

مذکورہ احادیث و قرآن کے علاوہ اور بھی آیات مقدسہ ، احادیث ِ مبارکہ میں حج کے بعد روضۂ مقدسہ پر حاضری کی تاکیدیں موجودہیں۔ اس لئے ہر حاجی کو چاہئے کہ وہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضری دے کر اپنے دل وجگر کو سکون ،آنکھوں کو ٹھنڈا کرے اور اپنی نجات و مغفرت کا سامان کرے۔ اسی لئے اعلیٰ حضرت امام عشق و محبت مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Hashim Quadri Misbahi

Read More Articles by Mohammad Hashim Quadri Misbahi: 166 Articles with 113221 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2016 Views: 932

Comments

آپ کی رائے
من زار قبري وجبت له شفاعي

جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری سفارش ضروری ہو گئی۔

نقد و جرح:

اس حدیث کو ابو الشیخ اور ابن ابی الدنیاؒ نے عبد اللہ بن عمر سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث ابن خزیمہؒ میں بھی ہے اور امام موصوف نے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے، کہتے ہیں:

"اس کی سند کے بارے میں میرے دل میں کھٹکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔"

میں کہتا ہوں اس میں دو راوی مجہول ہیں۔ (الف) عبد اللہ بن عمر العمری جس کے بارے میں ابو حاتم نے کہا ہے، وہ مجہول ہے۔ (ب) موسی بن ہلال البصری۔ اسے ابو حاتم نے مجہول کہا ہے اور بقول عقیلیؒ اور ذہبیؒ محدثین نے اس کی حدیث کا انکار کیا ہے۔ ایک روایت میں ''وجبت'' کی بجائے ''حلت'' کا لفظ آیا ہے۔ (مختصرا)

من حج فزار قبري بعد وفاتي کان کمن زارني في حیاتي

جس نے میری وفات کے بعد حج کیا پھر میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔

نقد و جرح:

اسے طبرانیؒ اور بیہقی نے عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں حفص بن سلیمان القاری ہے جس کے متعلق ابن عدیؒ نے کہا ہے کہ اس پر جھوٹی حدیثیں گھڑنے کا الزام ہے۔ امام احمدؒ کہتے ہیں: ''وہ متروک الحدیث ہے۔'' بخاریؒ کہتے ہیں، ''ائمہ حدیث نے اسے ترک کیاکر دیا ہے۔'' ابن خراشؒ کہتے ہیں ''جھوٹا ہے حدیثیں گھڑتا ہے' ' اور ذہبیؒ نے اس حدیث کو اس کے منکرات میں شمار کیا ہے، کہتے ہیں امام بخاریؒ نے اپنی کتاب الضعفاء میں تعلیقاً اس کے حالات کے بیان میں یوں کہا ہے: ابن ابی القاضیؒ کہتے ہیں ہم کو سعید بن منصور نے حدیث سنائی، وہ کہتے ہیں ہم کو حفص بن سلیمان نے لیث سے، انہوں نے مجاہد سے انہوں نے عبد اللہ بن عمر سے جو نبی ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہیں جس نے حج کیا اور میری موت کے بعد میری زیارت کی۔۔۔۔ الخ (یعنی امام بخاریؒ نے اس راوی کو کتاب الضعفاء میں ذکر کر کے وہاں اس حدیث کا ضعف بھی بیان کر دیا۔)
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Aug, 14 2016
Reply Reply
3 Like
baber tanwer bhai,

asal masala he tu ye hai hai k ye ahbaab kabhi riwayt ki istanadi haissiyat tu daikhte he nahi. Na he in ko ye ilm hota hai, isi lie tu inhe ilm he nahi hota k pesh ki jaane waali hadeeth sahee hai, dhaeef hai, mangharat hai, matruk hai ya kia hai? bas in ko sirf apne haq mai evidences chahye aur baas. aap aglay 20 din bhi lagay rehtay, tu mushkil tha illa ma sha Allaah k ye sahab, kabhi bhi ye na bataa patay k pesh ki jaane waali riwayt tamaam sahee aur hasan hai k nahi?

ye khaasa tu ma sha Allaah ahl-e-hadeeth ulamah ka hai k woh riwayt ko pesh karne se qabl us ki istanaadi haissiyyat bhi daikhte hain.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Aug, 16 2016
2 Like
بارک اللہ فیک بھائ منہج السلف۔ میں بھی اسی طرف آ رہا تھا۔ صرف حافظ صاحب کا انتظار کر رہا تھا۔ کہ شائد وہ جواب دے دیں بہر حال آپ کا شکریہ
By: Baber Tanweer, Karachi on Aug, 15 2016
1 Like
اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیئے)))))))))
اصلِ مراد حاضری اس پاک در کی ہے))))))))
-------------------------------------------------
محترم حافظ صاحب کیا اپ نے اس شعر کے الفاظ پر غور فرمایا؟ جیسا کہ آپ خود ہی لکھا کہ حج ایک فرض عبادت ہے۔ اور اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری گو ایک بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ لیکن اس کا مقابلہ ایک فرض عبادت سے نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس شاعر کے نزدیک ترجیح میدینہ حاضری کو حاصل ہے۔ ایک فرض عبادت کو نہیں محترم اگر آپ کا بھی یہی عقیدہ ہے تو توبہ کریں اس عقیدہ باطلہ پر، ،
By: Baber Tanweer, Karachi on Aug, 10 2016
Reply Reply
2 Like
محترم حافظ صاحب اوپر اپ نے متعدد روایات پیش کی ہیں۔ ایک بات جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ تمام روایات صحیح یا حسن درجے کی ہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Aug, 07 2016
Reply Reply
1 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ