گورا قبرستان

(RAFI ABBASI, KARACHI PAKISTAN)
گورا قبرستان کے بارے میں تارخی خقائق پر مبنی میرا جامع مضمون
کراچی میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق 182قبرستان ہیں،جن میں سے 163مسلمانوں کےاور 19غیر مسلموں کے ہیں، ان میں سے 70شہری حکومت کی نگرانی میںکام کررہے ہیں، جب کہ 112کا انتظام مذہبی و رفاہی تنظیموں کےبورڈز اور ٹرسٹ کے پاس ہے ۔ ان ہی میں شاہراہ فیصل پر واقع ’’گورا قبرستان‘‘ بھی شامل ہے، جو مسیحی برادری کا قدیم قبرستان ہے۔ ویسے تویہاںمسیحی برادری کے نصف درجن سے زیادہ قبرستان ہیں لیکن گورا قبرستان کی انفرادیت یہ ہے کہ اسے سب سے پہلے یورپی باشندوں کی میتوں سے آباد کیا گیاتھا، اس میں برطانوی فوجیوں اور سویلین کے ساتھ ساتھ پولینڈ کے باشندے بھی مدفون ہیں ،جب کہ ایک حصے میں جسے ایک چہار دیواری بناکر الگ کردیا گیا ہے، افواج پاکستان کے افسران سمیت ملک کی بعض اہم شخصیات محوِ خواب ہیں لیکن اس حصے میں داخلے کے لیے علیحدہ سے راستہ بنایا گیا ہےجو ایک کلومیٹر گھوم کر بزرٹا لائن کے اندر سے سی ایس ڈی کی طرف جاتا ہے جس کے سامنے ایک وسیع و عریض احاطے میںیہ شخصیات مدفون ہیں۔ سرکاری دستاویزات میں اس کا’’ مسیحی قبرستان‘‘ کے نام سے اندراج ہے، لیکن پاک و ہند میں یورپ کے لوگوں کو ان کی سفید چمڑی کی وجہ سے ’’گورا‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے اس لیے مذکورہ قبرستان بھی اسی کی مناسبت سے مشہور ہوگیا ۔ 1857 ء کی جنگ آزادی سے قبل جب برطانیہ نے کراچی میں اپنا تسلط قائم کیا تو اپنے فوجی افسران اور جوانوں کی رہائش کے لیے بیرکس اور لائنز بنادیں جو جیکب لائن، ٹیونیشیا لائن، بزرٹا لائن، اے بی سینیا لائن ، نیپیئر بیرکس کے نام سے مشہور ہوئیں۔ 1843ء میں جب ایچ ایم 28رجمنٹ کے ایک لیفٹننٹ کرنل جونیپیئر بیرکس کے علاقے میں رہائش پذیرتھے، ان کی جواں سال بیٹی نے وفات پائی تو اسے بزرٹا لائن اور عائشہ باوانی اسکول سے متصل ایک میدان کے اندر قبر بنا کردفنایا گیا، بعد میں اس کے ساتھ مزید قبریں بنتی گئیں، یوں ڈرگ روڈ یا شاہراہ فیصل پر ایک قبرستان وجود میں آگیا، حالانکہ اس سے چند سال قبل بندرروڈکے گنجان آباد علاقے میں بھی گورا قبرستان بن گیا تھالیکن یورپی باشندوں کو محل وقوع کی وجہ سے مذکورہ قبرستان زیادہ پرسکون معلوم ہوتا تھا۔ اس کا قدیم حصہ شاہراہ فیصل پر بنے ہوئے مرکزی گیٹ سے داخل ہونے کے بعد دائیں ہاتھ پر واقع ہے، جہاں چٹانی پتھروں سے چوکنڈی طرز کی تقریباً پونے دو سو سال پرانی قبریں بنی ہوئی ہیں۔ ایک قبر پر پتھر کی ایک سلیب پر انگریزی حروف میں کندہ ہے، ’’ ماریا کاٹن کی یاد میں ، جو لیفٹننٹ کرنل کاٹن کی پیاری بیٹی تھی ، جس نے 13اکتوبر 1843کو 18 برس کی عمر میں وفات پائی‘‘۔ قبرستان کے اس حصے میں بارش ، سیوریج اور سیم و تھورکی وجہ سے زیادہ ترقبروں کا وجودمٹ چکا ہے،یہاں دلدلی میدان نظر آتا ہے۔ قدیم طرز تعمیر کی وجہ سے یہ ہمارا تاریخی ورثہ ہے لیکن بچی کھچی قبروں کے تحفظ کے لیے محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے کوئی اقدامات نظر نہیں آتے جب کہ قبرستان کی انتظامیہ نےبھی اس حصے کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ اس حصے میں قبرستان کی انتظامیہ کے دفاتربنے ہوئے ہیں، جن میںقبرستان بورڈ کے چیئرمین اور سکریٹری بیٹھتےہیں۔قدیم قبروںسے ذرا سا آگے نئی قبروں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے ساتھ بزرٹا لائن کے مکانات ہیں ، جن کی کھڑکیاں قبرستان میں کھلتی ہیں، مکین ان کھڑکیوں سے اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ قبرستان کے اندر پھینکتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی جنوبی سمت کی دیوار کے ساتھ ہر طرف غلاظت کے انبار نظر آتے ہیں۔

جس زمانے میں یہ قبرستان قائم کیا گیا، اس وقت نیپیئر بیرکس سے ڈرگ روڈ چھاؤنی کے علاقے تک کوئی عمارت نہیں تھی، یہ بالکل سنسان علاقہ تھا۔ قبریں بننے کے بعد اس کے گرد ایک چھوٹی سی چہار دیواری بنائی گئی اور پانی کی فراہمی کے لیے جیکب لائنز کے ذخیرئہ آب تک نصف میل طویل پانی کی لائن ڈالی گئی۔ یہاں کے ماحول کو سر سبز بنانے کے لیے درخت، بیل بوٹے اور خوش رنگ پھول لگائے گئے، صفائی ستھرائی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ جنگ عظیم دوم کے دوران جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا تو 1942سے 1945کے دوران پولینڈ کے تقریباً تیس ہزار شہریوں نے جان بچانے کے لیے کراچی میں پناہ لی، انہیں کنٹری کلب اور ملیر میں بنائے گئے پناہ گزین کیمپوں میں رکھا گیا۔ کراچی میں قیام کے دوران پولینڈ کے تقریباً 58شہری وفات پاگئےتھے، جنہیں اسی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ 2005ء میں پولینڈ کے قونصل خانے کی طرف سے قبرستان میںسنگ مرمرسے ایک یادگارتعمیر کرائی گئی ہےجس میں مذکورہ شہریوں کی اموات کا تفصیل سے تذکرہ ہے ، شمالی گیٹ کی طرف سے اندر داخل ہوتے ہی تھوڑی دور دائیں جانب یہ تاریخی یادگار واقع ہے۔ ابتدا میں قبرستان کا رقبہ دس مربع ایکڑ پر محیط تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور آج یہ تقریباً 22 ایکڑ رقبے پر قائم ہے۔ اس کی حدود شاہراہ فیصل پر عائشہ باوانی کالج سے ایف ٹی سی پل ، جب کہ کورنگی روڈ پر کالا پل تک ہیں۔ قبروں کی دیکھ بھال اور متفرق کاموں کے لیے 14 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں، جو یہاں کے کل وقتی ملازم ہیں اور ان کو قبرستان کی انتظامیہ تنخواہوں کی ادائیگی کرتی ہے۔ ان میں 5گورکن، 5چوکیدار،3خاکروب اور ایک سپروائزرشامل ہیں۔گورا قبرستان چرچ آف پاکستان اور رومن کیتھولک کے ماتحت کام کرتا ہے، لیکن قبرستان میں عیسائیوں کے دونوں فرقوںیعنی پروٹسٹنٹ اورکیتھولک افراد کی تدفین ہوتی ہیں۔ اسی مناسبت سے قبرستان کے ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے 4 ممبران کا تقرر کیا جاتا ہے،جن میں سے 2 پروٹسٹنٹ اور 2رومن کیتھولک فرقے کے ممبران ہوتےہیں جب کہ سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کو چرچ آف پاکستان مقرر کرتا ہے، جس کی مدت 5 برس ہوتی ہے،اس مدت کے بعدانتخابات کے تحت ایڈمنسٹریشن کے سیکریٹری کو منتخب کیا جاتا ہے، جو قبرستان کی دیکھ بھال کے لیے چرچ آف پاکستان کے نمائندے کا کردار ادا کرتا ہے ۔قبرستان میں داخلے کے لیے دو دروازے ہیں ایک شمالی جو لکڑی کا قدیم طرز کا خوب صورت دروازہ ہے جب کہ دوسراسابقہ سلور کوارٹرزکے سامنے کورنگی روڈ پر ہے۔ یہ لوہے کے بڑے سے گیٹ کی صورت میں ہے جو حال ہی میں لگایا گیا ہے اس کے ساتھ ہی ایشیا کی بلند ترین صلیب تعمیر کی جارہی ہے جو 140فٹ اونچی اوراس کی بنیاد 20 فٹ گہری کھودی گئی ہے۔ اسے حفاظتی نقطہ نظر سے کنکریٹ اور اسٹیل سے تعمیر کیا جارہا ہے جو بلٹ اور بم پروف ہوگی۔ جس دور میں یہ قبرستان وجود میں آیا اس وقت ضروری اخراجات کے لیے میت کے لواحقین سے معمولی رقم قبر کی بکنگ کی فیس کی مد میں وصول کی جاتی تھی جب کہ قبراور یادگاریں بنانے کے برٹش گورنمنٹ آف انڈیا کی جانب سے رقم کی فراہمی کی جاتی تھی۔
1947 ء میں پاکستان کے قیام کے بعد جب مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو کراچی کی آباد ی جو ساڑھے تین لاکھ نفوس پر مشتمل تھی ،بڑھ کر بیس لاکھ تک جا پہنچی ۔ ان میں سے بیشتر خاندان قبرستان سےملحقہ علاقوں میںرہائش پذیر ہوگئے۔ قبرستان کی جنوبی دیوار کے ساتھ واقع بزرٹا لائن میں رہنے والوں نے اے بی سینیا لائن اور کورنگی روڈ کی طرف جانے کے لیے قبرستان میں سے گزرگاہ بنالی۔ دیواریں مسمار کردی گئیں، لہلہاتے درخت کاٹ دیئے گئے، سبزہ اور پیڑ پودے ختم کردیئے گئے، جب کہ بچوں نے یہاں کھیل کا میدان بنالیا،جس سے قبروں کوشدید نقصان پہنچا۔قدیم دور کے قیمتی اور نادر کتبے چوری کرلیے گئے ۔ پاکستا ن بننے کے بعد برطانوی حکومت کا مذکورہ قبرستان پر سے عمل دخل ختم ہوگیااور قبروں کی تعمیر، یہاں کی تزئین و آرائش اور دیکھ بھال کے لیے فنڈ کی فراہمی بند ہوگئی تو کراچی کے مسیحی قبرستانوں کا ایک بورڈ تشکیل دیا گیا، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام گرجا گھروں، سفارت خانوں، تجارتی کمپنیوں اور مخیر حضرات سے چندے کی اپیل کی جائے، تا کہ مذکورہ قبرستان کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ اس کے بعد اس علاقے کے تقریباً چار مربع کلومیٹر کی حدود میں اونچی دیواریں تعمیر کر کے اس کی گزرگاہوں کو بند کردیا گیا اور یہاں عام راہ گیروں کا داخلہ ممنوع قراردے دیا گیا۔ قبرستان کی نگرانی کے لیے مستقل طور سے ایک سپروائزر کی تعیناتی عمل میں آئی۔ قبرستان کے باہر کے حصے کو سر سبز و شاداب بناکر وہاں یونانی طرز کے پلرز کھڑے کیے گئے ہیں، جب کہ قبرستان کے اندر خوب صورت مجسمےنصب ہیں۔ نئی قبروں پر جو کتبے لگے ہوئے ہیں وہ بھی انتہائی دل کش ہیں، ان میں سے بعض پرصاحب قبر کی تصاویر بھی آویزاںاور دل چسپ حکایات بھی درج ہیں ۔ مثلاً ایک پر لکھا ہے ’’اچھی کشتی لڑ چکا ہوں، میں نے دوڑ کو ختم کرلیا، میں نے ایمان کو مضبوط رکھا‘‘۔ بعض قبروں پر احاطے بھی بنائے گئے ہیں لیکن جنوبی سمت کی دیوار کے ساتھ کا حصہ کوڑے کے پہاڑ اور غلاظت کے ڈھیر سے اٹا ہوا ہے۔ لوگوں نے گندے پانی کی نکاسی کے لیے نالہ بنایا ہوا ہے۔ اسی حصے میں رومن طرز کا ایک مقبرہ ہے، جس میں کراچی کے انگریزکلکٹر، سر ہنری اسٹیولی لارنس کی اہلیہ فلس لوئس لارنس دفن ہیں۔ یہ مقبرہ 1912ء میں تعمیر کیا گیا تھا، جس میں لگے کتبے پر مرحومہ کی تاریخ وفات 30جون 1912ء درج ہے۔ مقبرے میں داخلے کے لیے مرکزی دروازے تک پختہ راستہ بنایا گیا تھا، جب کہ قبر تک جانے کے لیے سرخ پتھروں سے سیڑھیاں بنائی گئیں۔ سر ہنری نے تو اپنی چہیتی بیگم کی آخری آرام گاہ کے لیےاپنے تئیں عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا تھا لیکن آج وہ غلاظت کے ڈھیر میں ہے۔ اس کے دونوں جانب دو منزلہ گھر بنے ہوئے ہیںجن کی کھڑکیاں مقبرے کے احاطے میں کھلتی ہیں۔ یہاں کوڑا کرکٹ کے علاوہ چلچلاتی دھوپ سے بچنے کے لیے کتے بھی پناہ لیتے ہیں۔

قبرستان کی حال ہی میں بننے والی قبروں کی تعمیر میں امیر اورغریب کی تفریق نمایاں نظر آتی ہے۔یہاں تین مختلف طرز کی قبریں بنی ہوئی ہیں، کالے پتھروں، سفید سنگ مرمر کے علاوہ کچی قبریں بھی ہیں۔ایک بڑے شخص کی یہاں قبر کی بکنگ کی فیس5000روپے جب کہ بچے کی قبر کے لیے2500روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ دوبارہ دفن کرنے کی فیس 6000روپے جب کہ قبر پکی کرنے کے لیے قبرستان کی انتظامیہ کی طرف سے جو اجازت نامہ دیا جاتا ہے، اس میں سفید ماربل سے بنوانے کی فیس 10,000روپے ہوتی ہے، جب کہ سنگ سیاہ سے تعمیر کرنے کی اجازت کے لیے صرف فیس کی مد میں 15000 روپے وصول کیے جاتے ہیں۔مرنے والے کے لواحقین تمام مٹیریل اپنے پاس سے لاتے ہیں، اس طرح قبر کی فیس اور تعمیر کے اخراجات کی مد میں30سے پچاس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں ،جب کہ غریب افراد صرف انتظامیہ کی فیس کی ادائیگی کے بعد کچی قبریں بنواتے ہیں، جن پر مجموعی طور سے10,000روپے تک کے اخراجات آتے ہیں۔ قبرستان کے مستقل ملازمین کی تنخواہیں 6000روپےماہانہ ہیں، جو کسی بھی ادارے کے مقابلے میں سب سے کم تنخواہ ہے۔ یہاںکے ریکارڈ کے مطابق اس وسیع و عریض قبرستان میں تقریباً 5000 قبریں ہیں جن میں تقریباً پانچ لاکھ افراد دفن ہیں۔ایک ایک قبر کوکئی کئی مرتبہ کھود کر تدفین کی گئی ہے۔

یہاں کے ایک ملازم شمعون مسیح نے ہمیںبتایا کہ،ملازمین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔ تنخواہیں بہت ہی قلیل ہیں، حکومت کی طرف سے تمام ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 13000روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے لیکن مذکورہ قبرستان کے ملازمین کو صرف 6000 روپےتنخواہ کی مد میں دیئے جاتے ہیں۔ قبروں کی فیس کے علاوہ قبرستان کو پاکستان کے تمام مسیحی اداروں، مخیرحضرات ، برطانیہ اور پولینڈحکومت کی طرف سے پاکستانی حکومت کے توسط سےبھی امداد فراہم کی جاتی ہے جووہ قبرستان کی انتظامیہ کو دیتی ہے۔ پہلے یہ فنڈ کیتھولک اینڈ پروٹسٹنٹ مشن کے پاس آتا ہے۔ مسیحی برادری کےدونوں مشن مشترکہ طور سے اس کا انتظام چلا رہے ہیں، انہوں نے قبرستان میں کمیٹی بنائی ہوئی ہے، جو یہاں آنے والے لوگوں سے ہر چیز کا معاوضہ وصول کرتی ہے۔ اب یہ قبرستان بھرتا جارہا ہے لیکن کمیٹی والے پرانی قبروں میں ہی نئے مردوں کی تدفین کرادیتے ہیں۔

قبرستان کا قدیم حصہ ایک وسیع میدان کی صورت میں ہے، کیوں کہ بارش اور سیوریج کےپانی کی وجہ سے، یہاں کی زیادہ تر قبریں ختم ہوچکی ہیںلیکن اسے انتظامیہ نے نظر انداز کیا ہوا ہے،حالانکہ اس حصے میں سیکڑوں نئی قبروں کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ شمعون نے بتایا کہ پہلے ہمیں قبرستان کے احاطے میں ہی رہائشی سہولت حاصل تھی لیکن ہمارے گھر مسمار کرکے یہاں سےبے دخل کردیا گیا۔ ہم سے وعدہ کیا گیا تھاکہ، سٹی گورنمنٹ کے تعاون سے یہاں مکانات کی از سر نو تعمیر ہوگی، جس کے بعد ہم دوبارہ یہاں رہائش اختیار کرسکیں گے لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل نہ ہوسکا۔ ہم نے اپنی محنت مشقت سے اجڑے ہوئےقبرستان کولہلہاتے باغ کی مانند بنادیا ہے۔ شاہراہ فیصل اور کورنگی روڈ سے اس
کے اطراف دل کش منظرنظر آتے ہیں۔ پرانے حصے کو چھوڑ کر گیٹ سے لے کر فوجی قبرستان کی دیوار تک لہلہاتے درخت اور سبزہ لگایا گیا ہے، لیکن ہماری دن رات محنت کا معاضہ صرف 6000 روپے ماہانہ کی صورت میں ملتا ہے، جس سے ہم اپنے اہل خانہ کو صحیح طریقے سے روٹی بھی نہیں کھلا سکتے۔ قبرستان کی انتظامیہ کو ماہانہ کروڑوں روپےکے فنڈ، چندہ اور دیگر مدات میں ملتے ہیں لیکن اس کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھا جاتا اور نہ ہی اس کا آڈٹ ہوتا ہے ۔شمعون مسیح نے مزیدکہا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے، سرکارکی طرف سے متعین کی ہوئی تنخواہ ادا کی جائے، جب کہ ہمیں رہائشی سہولت دوبارہ فراہم کی جائے۔ قبرستان میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے اس نے کہا کہ یہاں سکیورٹی کے انتظامات بے انتہا کڑے ہیں۔ عام دنوں میں تو یہاں لوگ بلا روک ٹوک آتے ہیں لیکن مخصوص تہواروں کے موقع پر زائرین کی سخت چیکنگ کی جاتی ہے۔ پہلے اطراف کی آبادی کے بچوں نے اسے کھیل کا میدان بنالیا تھا جب کہ قیمتی پتھروں پر بنائے گئے کتبے اور قبروں کے ٹائلز بھی چوری کرلیے جاتے تھے لیکن قبرستان کی انتظامیہ نے چاروں طرف بلند چہار دیواری بنوا دی ہے اور عام لوگوں کا داخلہ بھی بند کردیا گیا ہے۔

گورا قبرستان کے ساتھ ’’فوجی قبرستان‘‘ ہے ، اس کا راستہ کورنگی روڈ پر سی ایس ڈی کے سامنے ہے۔ اس میں پاکستان کی کئی اہم شخصیات آرام فرما رہی ہیں ۔ داخلی دروازے سے بائیں طرف ایک چھوٹا سا مقبرہ ہے، جس میں پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل ملک غلام محمدکی قبر ہے ۔ اس پر کتبہ لگا ہے جس پر لکھا ہوا ہے، ’’ملک غلام محمد (وارثی)، سابق گورنر جنرل پاکستان، پیدائش 29اگست 1895 وفات 29اگست 1956ء ، اس سے آگے راشد منہاس شہید محو خواب ہیں، ان کے نزدیک معروف شاعر اور دانش ور جمیل الدین عالی اپنی اہلیہ اور والدہ کے درمیان آرام فرماہیں۔ مذکورہ قبرستان میں 2420قبریں بنی ہوئی ہیں جو انتہائی عالی شان طرز پر بنائی گئی ہیں۔

یہ تو کراچی کاوہ گورا قبرستان ہے جو شاہراہ فیصل پر واقع ہے لیکن گوروں کا ایک قبرستان 1740 ء میں بندرروڈ پر ریڈیو پاکستان کے سامنے بھی بنایا گیا تھاجو قصہ پارینہ ہوگیا ہے اور اس کی جگہ ایک رہائشی پلازہ بنادیا گیا ہے۔ اس میں سب سے پہلےگرینڈئیر رجمنٹ کے کیپٹن ہینڈرز کو دفن کیا گیا جوکراچی میں تعیناتی کے بعد علاقے کی سیر کے لیے نکلا تھا کہ منگھوپیر کے علاقے میں اسے قتل کردیا گیا تھا۔ مذکورہ قبرستان دس ایکڑ کے رقبے پر قائم گیا تھا اور اس کی حدود ایم اے جناح روڈ سے چونا بھٹی کے پاس واقع پارک تک پھیلی ہوئی تھیں ، اس میں تقریباً دو ہزار کے قریب قبریں تھیں جو سب گوروں کی تھیں۔ پاکستان کے قیام کے بعددیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ قبرستان کا وجود ختم ہوتا گیا اور یہاں صرف چند قبریں ہی باقی بچیں۔ قریبی علاقوں میں رہنے والے بچے اسے کھیل کامیدان سمجھ کر کھیلا کرتے تھے۔ لیکن 1978 ء میں اس میدان اور قبرستان کی جگہ ایک کاروباری شخصیت کو الاٹ کردی گئی جس نے اس جگہ ایک تجارتی و رہائشی عمارت تعمیر کرلی۔ آج کراچی کا’’ پہلا گورا قبرستان ‘‘تاریخ کے گمشدہ اوراق کا حصہ بن چکا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RAFI ABBASI

Read More Articles by RAFI ABBASI: 109 Articles with 82130 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2016 Views: 1276

Comments

آپ کی رائے
رفیع عباسی کا شمار سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے، 1980سے مضامین لکھ رہے ہیں ان کے طنز و مزاح کے مضامین اور کالم خاصے مقبول ہوئے، روزنام جنگ سے وابستہ ہیں،جہاں وہ مختلف النوع موضوعات پر فیچر لکھتے ہیں جن میں سے بیشتر نیٹ پر بھی پڑھے جاسکتے ہیں۔
By: Rafi Abbasi, Karachi on Mar, 29 2017
Reply Reply
0 Like