ترکی میں امریکی سازش ناکام

(Sami Ullah Malik, )
سولہ جولائی کوساری دنیاکے میڈیاپرایک عجیب وغریب منظر دیکھنے کوملاکہ ترکی میں جمہوریت اوراسلام پسندعوام کو تاریک دور میں دھکیلنے کی سازش کوبروئے کارلانے والے مسلح گروہ جوزمین پرتوپ وتفنگ اورٹینکوں کے علاوہ فضاؤں میں ایف سولہ طیاروں سے سڑکوں پرگولیاں برسارہے تھے بالآخرنہتے شہریوں کے سامنے بالکل بے بس ہوگئے اور جرأت مندنہتے ترک عوام نے ٹینکوں اورتوپوں سے ٹکراکر ثابت کردیا کہ وہ ایک باشعور،زندہ اورغیرت مندہی نہیںاپنی اسلام پسندقیادت اورملک میں اسلام کی طرف بڑھنے والے ایک ایک قدم پراپنی جان تک نچھاور کرنے کیلئے ہمہ وقت تیارہیں اورپھردنیانے دیکھاکہ ترکی نے امریکی سازش اسی پرالٹ دی۔ترکی کی حالیہ تاریخ کے ہردلعزیز ترین قائدطیب اردگان کوجان سے مارکرملکی اقتدارپرقابض ہونے کی سازش پرعمل شروع ہوتے ہی اردگان کی اپیل پران کی عوامی سپاہ شہرشہرقریہ قریہ سڑکوں پرتھی۔مساجدکے مینار اردگان اوراس سے محبت کرنے والوں کے نیزوں کی انیاں بن کرغیرملکی آشیر آبادسے بغاوت کرنے والے توپ وتفنگ،جنگی جہازوں اورٹینکوں سے لیس باغیوں کیلئے مسجدوں کے مینارے صحیح معنوں میں نیزے اوربرچھیاں بن کر ان کوللکاررہے تھے۔
طیب اردگان کے الفاظ کے مطابق ترکی کے طول وعرض میں موجودمسجدیں عوامی قلعوں کی صورت میں باغیوں کاراستہ روک کرکھڑی ہوگئیں کہ ترک عوام حقیقی معنوں میں جمہوریت اور اسلام سے محبت کے اظہارکیلئے صدر اردگان کی پکارپربیدارہوشیارنکل کھڑے ہوئے تھے۔اقباؒل نے ایسے ہی شاہین صفتوں کیلئے کہاتھا:
یوں ہاتھ نہیں آتاوہ گوہریک دانہ
یک رنگی وآزادی اے ہمت مردانہ
یاسنجروطغرل کاآئین جہانگیری
یامردِ قلندرکے اندازِ ملوکانہ
یاحیرت وفارابی یاتاب وتب رومی
یافکر حکیمانہ ، یاجذبِ کلیمانہ
یاعقل کی روباہی،یاعشق یدِاللٰہی
یاحیلہ افرنگی یاحملہ ترکانہ
یاشرع مسلمانی،یادیرکی دربانی
یانعرۂ مستانہ ،کبوہ ہوکربت خانہ
میری میں،فقیری میں شاہی میں غلامی میں
کچھ کام نہیں بنتابے جرأت رندانہ

ترکی میں بھی ایک جانب حیلہ افرنگی تھا،جس کااظہاراس ناکام بغاوت کے ساتھ ہی نظرآناشروع ہوگیاجبکہ اس سے پہلے امریکی اوربعض مغربی ملکوں کے سفارت کاروں میں پراسرارخاموشی اورکام میں تعطل لانے کی صورت میں سامنے آنے والی علامات بھی اسی حیلہ افرنگی کامظہرہیں۔صرف یہی نہیں امریکی اورمغربی میڈیاجس طرح اس ناکام بغاوت کو کئی گھنٹوں تک عملاً ہلہ شیری دینے کی کوشش میں نظر آیا اور امریکا سمیت اس کے حواری ملکوں کا میڈیااہل ترکی اوروہاں کی جمہوریت یامنتخب حکومت کے ساتھ اظہاریکجہتی کی بجائے اردگان کی اپیل پرباہرنکل کراپنی جانیں پیش کرنے والے اہل ترکی کو پر امن رہنے کےنام پردرپردہ باغیوں سے تعاون پرمائل کرتارہا۔یہ سلسلہ اس کے باوجودجاری رکھاگیاکہ اگرچہ ترک عوام کے سڑکوں پر نصف شب کو جوق درجوق آجانے سے باغی فوجیوں کے حوصلے پست ہورہے تھے اوروہ بوکھلاہٹ میں فوجی ٹینکوں سے اپنے ہی نہتے ہم وطنوں کو کچل رہے تھے، ان پربمباری کررہے تھے،سیدھی گولیاں چلارہے تھے لیکن ان مناظرکے بعدبھی کسی امریکی رہنماء میڈیاہاؤس یااس کے حواری نے ان مظلوم اورشہدائے جمہوریت واسلام کے حق میں کوئی کلمٔہ خیرکہانہ باغی فوجی دستوں کی دہشتگردی کوزیربحث لانے یاان کی مذمت کرنے کیلئے پہاڑے پرچلنے والی انسانی حقوق کی نام نہادعالمی تنظیموں کومتوجہ کیا۔

اس امریکی بے حسی کے دوران لگ بھگ تین سوترک شہری اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ ،اسلام سے اپنی گہری وابستگی اور اپنی منتخب قیادت سے بے مثال محبت کیلئے اپنی جانیں جانِ آفریں کے حوالے کرچکے،اس دوران ترک عوام کوامن کاٹیکہ لگانے کے خواہاں امریکاکوداعش کے خلاف کاروائیوں کیلئے دیئے گئے فوجی ہوائی مستقرسے باغیوں کوترک شہریوں پربمباری کیلئے ایندھن بھرنے کی سہولت دی جاتی رہی۔واضح رہے امریکانے امن کے نام پراوردہشت گردکاروائیوں کے چکرمیں دنیاکے کئی ممالک میں ہوائی اڈے حاصل کررکھے ہیںیامختلف ممالک میں فوجی نوعیت کی دوسری سہولیات کے حصول کیلئے تعاون لے رکھاہے۔ان ملکوں میں مسلم ،غیرمسلم،ایشیائی،جنوبی امریکا،عرب اورمغربی ممالک شامل ہیں۔ حالیہ موومنٹ میں ثابت ہوا ہے کہ ایک امریکی اڈہ اس عمل میں شامل رہاتوپھریہ سوال اٹھتاہے کہ باغیوں کویہ اڈہ استعمال کرنے کی اجازت کس نے اورکیوں دی؟اس امریکی حرکت کے بعداپنے فوجی اڈے امریکاکوپیش کرنے والے ہرملک کویقینایہ فکرلاحق ہونی چاہئے کہ امریکاامن کوششوں کے نام پر ان کے خلاف انہی کے ہاں سازشوں کااڈہ نہ بنالے۔

اس سے پہلے دنیاکے تقریباً ہرملک میں موجودامریکی سفارت خانے متعلقہ ملکوں کی جاسوسی اوران کے خلاف سازشوں کا مرکز رہے ہیں،اس جانب کبھی کسی کی توجہ کم ہی جاتی ہے کہ امریکادہشتگردی کے خلاف اپنی کاروائیوں کو کثیرالمقاصدبنانے کی سازشوں میں لگاہواہے۔ترکی کے اس تجربے سے آئندہ دنوں امریکاکیلئے دنیاسے اس نوعیت کی تمام فوجی سہولیات اوراڈے حاصل کرنے میں دقتیں پیش آئیں گی کہ متعلقہ ممالک کے عوام اپنی حکومتوں پر امریکاسے بچ کررہنے کامطالبہ کریں گی۔اس کی پہل کا امکان خودترکی سے ہی پیداہوگیاہے کہ جس نے امریکی سازش کوخوداسی پرالٹ دیاہے۔ایک طرف ترکی نے امریکی فوجی اڈے کی اس بغاوت میں ملوث ہونے کاسوال اٹھایاتودوسری جانب امریکی چہیتے اورنام نہادصوفی ازم کے پرچارک فتح اللہ گولن کی ترکی کوحوالگی کاامریکاسے مطالبہ کردیاہے۔دلچسپ بات ہے کہ ایک ایساصوفی جو دنیاکوامن ومحبت اوردنیاسے بے رغبتی کے ساتھ ساتھ اللہ کی قربت کا صوفیانہ اندازسکھانے کادعویدارہو،وہ خوددنیامیں سب سے زیادہ تباہی کاسامناکرتے رہنے اورسب سے زیادہ جنگیں لڑنے والے امریکامیں خودکو آسودگی واطمینان محسوس کرتاہے،صرف یہی نہیں دنیامیں بدمعاشی کامظہراسرائیل بھی اس صوفی سے رام ہے اوریہ صوفی اسرائیل سے رام اورشانت ہے۔اس صوفی کو گوانتانا موبے کی غیرانسانی امریکی جیل نے کبھی امریکاکے بارے میں انقباض محسوس نہیں ہونے دیا،مسلمان بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی مظلومیت نے کبھی امریکاکی مذمت پرتک پرنہیں ابھارا جبکہ ترک صدرمغربی میڈیاکی طرف سے بے رحمی کے القابات کااس کے باوجودسزاوارسمجھاجاتاہے کہ وہ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والے جماعت اسلامی کے بوڑھے اورجوان رہنماؤں کوپھانسیاں دیے جانے پر تڑپ تڑپ جاتاہے اوربنگلہ دیش سے بطور احتجاج فوری طورپراپناسفیرواپس بلالیتاہے لیکن طیب اردگان اپنے ان رحجانات کے باعث امریکی پالیسی سازوں اوراسرائیلی نیتن یاہواوردوسرے امریکی حواریوں کوکانٹے کی طرح کھٹکتاہے بعینہ فتح اللہ گولن کا ساراصوفی ازم طیب اردگان سے الرجک رہتا ہے اسی بنیادپراس پندرہ اورسولہ جولائی کی درمیانی شب رونماہونے والی فوجی بغاوت میں یہ سب ہم خیال اپنااپناحصہ ڈالتے نظرآتے ہیں۔اطلاعات ہیں کہ اپنے عالمی آقاؤں کوخوش کرنے والا مصری فوجی ڈکٹیٹر اور منتخب حکومت کا بزورظلم وجبرتختہ الٹنے کے بعداخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنوں کوشہید کرنے والاالسیسی بھی انہیں کے ساتھ شامل باجے کے طورپرشامل تھا۔

بہرحال ذکرترکی میں ناکام فوجی بغاوت کاہورہاتھاکہ جسے امریکاشائداس لئے بھی کامیاب دیکھناچاہتاتھاکہ امریکاکے صدارتی انتخاب سے پہلے ڈیمو کریٹک پارٹی اپنے عوام کو کچھ کارگزاری کے طورپربتاسکے کہ ایک اوراسلام پسند منتخب صدرکے خلاف باغیوں کوسہولت دی اورترقی کی طرف مسلسل بڑھنے والے سیاسی طورپرمستحکم ترکی کوغیرمستحکم بھی کیا۔اس''عظیم مقصد'' کیلئے اپنے فوجی اڈے تک کوملوث کرنے کارسک لے لیاگیا لیکن باغیوں کے ساتھ ساتھ امریکی ومغربی آرزوئیں بھی خاک ہوگئیں۔اس کے باوجودکہ باغی فوجیوں کوبھرپورمیڈیاسپورٹ دی گئی اورباغی فوجیوں کے خلاف نکلنے والے ترک شہریوں کوکنفیوژکرنے کیلئے اپنے میڈیاکوبھرپورتوانائی کے ساتھ بروئے کار رکھاگیا۔

ترکی کے اس باغی گروہ کی بغاوت صدراردگان اوران کی حکومتی حکمت عملی اورعوامی بیداری کے باعث ناکام ہونے کے بعد اردگان حکومت کواس باغی عناصرکوکلی طورپرختم کرنے کا جائزحق دستیاب ہوگیاہے۔اردگان کے خلاف امریکی ومغربی میڈیاہی نہیں امریکااوراس کے دنیابھرباغیوں کے خلاف اردگان اوران کی حکومت کی کاروائیوں،گرفتاریوں اور انہیں ملازمتوں سے معطل کرنے کوبھی سخت تنقیدکانشانہ بنارہے ہیں اورکہاجارہاہے کہ ناکام بغاوت کے بعدچھ ہزارگرفتاریوں سے انسانی حقوق کو خطرہ ہے۔سیکڑوں ججوں اورہزاروں باغی فوجیوں کی معطلی وگرفتاریاں اردگان کے بے رحم ہونے کا اظہارہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ باغیوں کے یہ حامی اورخیرخواہ ایک ہی رات میں تین سوکے قریب شہریوں کی ہلاکت پرہرگزدکھی نہیں ہیں لیکن انہیں آٹھ کروڑسے زائدکی آبادی کے ملک میں چھ ہزارکی گرفتاری سخت تکلیف دے رہی ہے۔انسانی حقوق کی کسی ایک عالمی تنظیم نے بھی یہ مطالبہ نہیں کیاکہ نہتے شہریوں پرٹینک چڑھادینے والے اوربمباری کرنے والے دہشتگردباغیوں کوقرارواقعی سزادی جائے۔ جوباغی تین سوکے قریب شہریوں کا قتل عام کرکے یونان وغیرہ بھاگ گئے ہیں،انہیں ترک حکومت کے حوالے کیاجائے تاکہ اپنے ہی ملک کے بے گناہ شہریوں کولقمہ اجل بنانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجا سکے ۔ امریکااورمغربی دنیاسے ترکی میں امکانی طورپرسزائے موت بحال کرنے کے خلاف بھی یکدم ابھی سے ایک تازہ مہم کاآغازکردیاگیاہے اگرچہ امریکاکی نصف سے زائد ریاستوں میں اب بھی سزائے موت دی جاتی ہے۔یہ بحث بہرحال چلتی رہتی ہے کہ سزائے موت پر عملدر آمدکس طریقے سے کیاجائے،زہریلے انجکشن سے،بجلی کاکرنٹ لگا کریاکسی اور طریقے سے۔بغاوت کوناکام بنانے والی ترک حکومت کے خلاف اس مہم کے علاوہ انسانی حقوق کے کیس بنائے جانے کی بھی تیاری شروع ہوگئی ہے،امریکی اورمغربی میڈیااس معاملے میں سرگرم ہونے کوہے۔ اس طرح صدرطیب اردگان اوران کی ٹیم کے خلاف کردارکشی کی مہم بھی اگلے دنوں میں غیرمتوقع نہیں کہی جاسکتی ہے۔اس ساری مہمات کامقصد ناکام باغیوں کوبچانے کیلئے اپنا کرداراداکرنابھی ہے اوراسلام پسندترک صدراوران سے محبت کرنے کروڑوں عوام کوسزادینے کیلئے سازش کے پلان پرعمل کرنا بھی۔

مسجدوں کواپنے قلعے بتانے والا،مسجدوں کے گنبدوں کواپنے خودقرار دینے والااورمیناروں کواپنے نیزے کہنے والے صدراردگان سے امریکا ،اسرائیل اور کئی مغربی ممالک سخت نالاں ہیں کہ اردگان نے ترکی کوآئی ایم ایف کے چنگل سے نکال کرعملاًامریکی شکنجے سے نکلنے کاسفرمکمل کرلیاہے۔فلسطینیوں کے حق میں آوازاٹھاتے رہنے والے اس صدرسے جتنااسرائیل اورنیتن یاہوپریشان ہے ، کوئی اورنہیں اورترکی میں بغاوت کی ناکامی پرجوواویلااورماتم''فاکس نیوز''نے اپنے تبصروں میں کیا،وہ کسی سے مخفی نہیں۔ مغربی دنیااپنے ہمسائے میں ایک تنو منداسلام سے محبت کی بنیادپرابھرنے والے ترکی سے خوش کیونکر ہوسکتی ہے ۔عرب دنیامیں بھی کئی ممالک سیاست کے ترک ماڈل سے پریشان ہیں لہنداترک قوم اور اس کے صدرکو راستے سے ہٹاناان سب کیلئے ازبس ضروری ہے۔طیب اردگان کے بقول اگرچھٹیاں گزارنے کیلئے سیاحتی مقام کے ہوٹل سے نکلنے میں انہیں صرف پندرہ منٹ کی تاخیرہوجاتی تووہ باغیوں کے ہاتھوں شہیدہوسکتے تھے لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے کے مصداق صدراردگان بھی محفوظ رہے اوران کی بروقت فوری ہدایات پران کی حکومت بھی۔شنیدیہ بھی ہے کہ انہیں اس ممکنہ بغاوت اورفوری طورپرہوٹل سے نکلنے کی اطلاع ایک اسلامی دوست ملک کی انٹیلی جنس نے فراہم کی۔

ترک عوام صدراردگان سے آخراتنی محبت کیوں کرتے ہیں کہ ان کوبچانے کیلئے تین سوکے قریب لوگوں نے اپنی جانیں پیش کردیں اورسیکڑوں زخمی ابھی تک ہسپتال میں موجود ہیں،اس لئے کہ طیب اردگان محض جمہوری نعرہ بازقسم کے حکمران نہیں ہیں۔انہوں نے اپنے آبائی علاقے سے بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ استنبول آکرزندگی کے تلخ وشیریں لمحات کو بڑے قریب سے دیکھاہے۔اب بھی ان کاایک بھائی استنبول میں پھل کی ریڑھی لگاکررزقِ حلا ل کمارہاہے۔وہ عام آدمی کے مسائل نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ انہوں نے میئر استنبول بننے سے لیکر٢٠٠٣ء سے اب تک بطوروزیراعظم اور بطورصدر اپنے عوام اورملک کوخوشحالی صرف نعروں ،دعوؤں اورشعروں کی حدتک نہیں دی بلکہ انہوں نے حقیقی طورپرعوام کی خدمت کی ہے۔اپنے اب تک کے دورِ حکومت میں تعلیمی بجٹ کوپانچ گنابڑھا دیاہے ،ملک میں جامعات کی تعدادمیں تقریباً دوگنااضافہ کرکے اٹھانوے سے ایک سوچھیاسی کردی ہے ۔ملک میں سڑکوں کاجال بچھایاہے،صرف یہی نہیں نئی ریلوے لائنیں بھی بچھائی ہیں۔ نو برسوں میں ملک کے ٢٦ہوائی اڈوں کوڈبل کردیاہے، ملکی زرمبادلہ کے ذخائرکو اپنے دورِ اقتدارمیں ٢٦/ارب ڈالرز سے ٩٢/ارب ڈالرزتک پہنچادیاہے۔آئی ایم ایف کے ٢٣/ارب ڈالرزسے زائدکے قرضوں کونہ ہونے کے برابرکی سطح پرلے آئے ہیں۔ مجموعی طورپرقومی آمدنی میں ٦٤٪اضافہ ممکن بنایاہے،توپھرایسے حکمران کیلئے عوام کیوں جان نہ چھڑکیں۔عوام کوحقیقی جمہوریت کی طرف لانے والے اس ترک صدر کوامریکاومغرب اوران کاپروردہ میڈیایہ حق دینے کیلئے کیوں تیارنہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین توڑنے والوں،تین سوسے زائدعام بے گناہ شہریوں کوایک ہی رات میں ہلاک کرنے والے باغیوں کو کیوں نہ کٹہرے میں لائے،ان کے عہدوں سے الگ کرے؟؟جبکہ یورپی یونین نے ٢٠٠٤ء سے ترکی میں سزائے موت پرلگائی گئی پابندی کے باوجودآج تک ترکی کویورپی یونین کی ممبرشپ دینے کی حامی تک نہیں بھری ہے۔کیایہ جائزہے کہ منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے فوج،عدلیہ اورپولیس کے عہدے داربیرون ملک موجوداپنے آقاؤں سے ہدایات لیں اور ملک میں امن وامان کی صورتحال برباد کرکے اس کاجمہوری حق چھین کراس کاتختہ الٹ دیں اورمنتخب حکومت کو،ان کے حواریوں اورحامیوں کو اپنا اوراپنے جمہوریت پسندعوام کادشمن قرار دیکر قانون کے کٹہرے میں کھڑاکردیں جس طرح امریکا، اسرائیل اورمغربی قوتوں کے پٹھوڈکٹیٹرالسیسی نے مصرکے اندراپنے آقاؤں کے توسط سے کیاہے۔کسی قوم کواپنے پسندکے حکمران چننے کاحق امریکاویورپ سے باہرحاصل نہیں ہے؟کیایہ ضروری ہے امریکا اور اس کے لبرل حواری مسلمان دنیاکوجمہوریت سے کاملاً مایوس کرنے کیلئے ان کے منتخب حکمرانوں کے خلاف عالمی سطح پرمہم چلائیں؟یہ سب غیر جمہوری اورغیرقانونی باتیں ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ امت مسلمہ کے ملک اوران کے عوام اپنے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں کامقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف کب تک صف آراءرہیں گے؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 455 Articles with 140353 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2016 Views: 462

Comments

آپ کی رائے