کالی آندھی

(Tanvir Sadiq, Lahore)
میرے گھر کے قریب ایک پولیس کا ایک مستقل ناکہ ہے۔ جب تک ہائی الرٹ نہ ہو ، پولیس والے ہمیشہ خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔گپ شپ کے دوران کوئی ایک پولیس والا اٹھتا ہے۔ کسی کمزور اور مسکین سے موٹر سائیکل والے کو قابو کرتا ہے۔ تلاشی دو، کاغذات چیک کراؤ۔ یہاں ہلکا سا دابا کام کر جاتا ہے، دو جھڑکیں کھانے کے بعد مسکین موٹر سائیکل والا بہت کچھ لٹا کر چلا جاتا ہے۔صبح صبح موٹر سائیکل پر دودھ لے کر جانے والے مستقل ان پولیس والوں کے دابے کا شکار ہیں اسلئے کہ ان کے پاس موٹر سائیکل کے متعلق کوئی کاغذ نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایک کلو خالص دودھ علیحدہ برتن میں رکھا ہوتا ہے۔ ناکے پر رکتے ہیں ، پولیس والوں کو سلام کرتے ہیں۔ دودھ انہیں دیتے ہیں اور یہ جا وہ جا۔ اصلی چیکنگ پولیس والے اس دن کرتے ہیں جس دن ہائی الرٹ ہو، اس لئے کہ اس دن مجبوری ہوتی ہے۔ وہ بھی دودھ والوں یا ایسے تعلقات والوں کی نہیں۔ باقی بہت دنیا ہے۔

ویسے تو دنیا بھر میں دابے کا ہتھیار بہت کارگر ہے مگر پنجاب کے کلچر کا یہ ایک اہم جزو ہے۔یہاں روایت ہے کہ کسی کو دابا لگانا ہے اور وہ کمزور نظر آئے تو بھڑک لگاؤ۔ وہ ڈر جائے گا۔ دب جائے گا۔آپ کا کام ہو گیا۔ پولیس اس معاملے میں بڑی گھاگ ہے۔ پولیس والا کسی کی بھی شکل دیکھ کر اندازہ لگا لیتا ہے کہ وہ شخص کتنا دابا برداشت کر سکتا ہے یا اسے دابا لگایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں کیونکہ دابا بعض اوقات الٹا بھی پڑ جاتا ہے۔ ہر بڑے سیاست دان کے خلاف کئی کئی کیس درج ہیں۔ وہ دندناتے پھرتے ہیں۔ عدالتوں سے پولیس انہیں اشتہاری قرار دلواتی ہے۔ نہ پولیس انہیں پوچھتی ہے نہ عدالت یہ سوال کرتی ہے کہ وہ سارا دن عوام میں نظر آتے ہیں پکڑا کیوں نہیں۔ ایسے لوگوں کی طرف جاتے ہوئے ہر ایک کے پر جلتے ہیں۔یہاں دابا الٹا ہونے کا ڈر ہمیشہ رہتا ہے۔

ایک دفتر کے باہر لمبی قطار تھی۔ شروع سے پانچویں یا چھٹے نمبر پر ایک نوجوان کھڑا تھا۔ اس کے گلے میں ایک فیتے کے ساتھ اس کے محکمے کا شناختی کارڈ لٹک رہا تھا۔ ٹھوڑی ٹھوڑی دیر بعد نوجوان کارڈ ہاتھ میں پکڑ کر اونچا کرتا اور کہتا، ’اوئے بے غیرتو، جلدی کرو، میں لیٹ ہو رہا ہوں۔ جا کر تمھاری شکایت لگا دی تو تم فارغ۔ حیا کرو۔ جلدی جلدی لوگوں کا کام ختم کرو ۔‘ میں نے غور کیا۔ اس نے کارڈ اس انداز سے پکڑا ہوا تھا کہ صرف اوپر والی لائن ہی نظر آ رہی تھی جس پر دفتر وزیر اعلی پنجاب لکھا تھا ۔ باقی سب کچھ اس کی انگلیوں کے نیچے چھپا تھا۔ کمپیوٹر پر کام کرتے شخص نے اسے ایک دو دفعہ سمجھایا کہ میں فارغ نہیں بیٹھا۔ لگاتار کام کر رہا ہوں ، تھوڑی دیر میں تمھاری باری آ جائے گی ، تم مہربانی کرو اور اپنی زبان ٹھیک رکھو۔ یہ بار بار بے غیرت کہنا بند کرو۔نوجوان کے ذہن پر مگر و زیر اعلی کا دفتر سوار تھا وہ اس حوالے سے دفتر والوں پر پورا دابا لگانے کے موڈ میں تھا۔ کمپیوٹر والے نے کچھ دیر اور برداشت کیا، پھر شاید اس کی غیرت جاگ گئی، وہ اٹھا، اس لڑکے کو گریبان سے پکڑا اور خوب دھلائی کی اور کہنے لگا اب جا کر وزیر اعلی کو بتانا کہ تم کس طرح ان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہو، وہاں سے جتنی مار پڑے اس کے بارے مجھے آ کر ضرور بتانا۔ نوجوان مار کھانے کے بعد کچھ سہما سمٹا خاموشی سے قطار میں کھڑا ہو گیا۔ قطار میں کھڑے دوسرے شخص نے مذاق میں کہا، بھا ئی یہ تو بے عزتی کی بات ہے اب کچھ کرو۔ سہمے ہوئے بڑے نرم لہجے میں بولا۔ اب دفتر جا کر ہی کچھ کروں گا۔ فکر نہ کرو میں چھوڑوں گا نہیں۔میں سوچ رہا تھا اسے فقط پندرہ دن کے لئے ’دابا‘ ٹرینگ کی خاطر پولیس کے سپرد کر دیا جائے تو آئندہ مار کھانے سے بچ جائے گا۔

سڑک پر چلتے ہوئے ہمیں عام طور پر آگے پیچھے چلتے دو موٹر سائیکل نظر آتے ہیں۔ یہ ایک نئی طرح کی پولیس ڈولفن فورس ہے یہ پولیس تو بس سراپا دابا ہی دابا ہے۔اس کا مقصد تو شاید سٹریٹ کرائم پر قابو پانا تھا۔ مگر لگتا ہے یہ خود بے قابو ہو چکی۔ خوفناک سی کالی موٹر سائیکل، اس سے زیادہ خوفناک کالی وردی ، ہاتھ ہیں انتہائی خوفناک کالی گن ، انہیں دیکھ کر ہی خوف آنے لگتا ہے یوں لگتا ہے جیسے کالی آندھی آ گئی ہو۔ دابے سے بھرپورکمال فورس ہے۔ میں نے ایک دفعہ ان کی کارکردگی دیکھی اور مان گیا ہوں کہ ان کی کارکردگی بھی عام پولیس سے بڑھ کر خوفناک اور کالی کالی ہے۔

چوک میں ٹریفک دور تک رکی ہوئی تھی۔ چوک کراس کرنے کے لئے تین چار دفعہ اشارہ کھلنے اور بند ہونے کا انتظار کرنا پڑ رہا تھا۔ ایک چودہ پندرہ سالہ نوجوان گاڑیوں او ر موٹر سائیکلوں کے درمیان راستہ بنا کر آگے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک اس کی موٹر سائیکل سلپ ہو گئی،موٹر سائیکل کا ہینڈل زور سے ایک گاڑی کے دروازے پر لگا۔ لڑکا زمین پر گرا ہوا تھا۔ گاڑی والا تیزی سے گاڑی سے نکلا۔ زور سے ٹانگ مار کر موٹر سائیکل کو پرے دھکیلا۔ گرے ہوئے لڑکے کوبالوں سے پکڑ کر اٹھایا اور لگا گالیاں دینے کہ تم نے میری نئی گاڑی کا ستیاناس کر دیا ہے ۔ میرا بیس ہزار کا نقصان ہو گیا ہے۔ بیس ہزار لاؤ یا میں تمھاری یہ موٹر سائیکل لے رہا ہوں۔ تمھیں گرفتار بھی کروا رہا ہوں۔ دس پندرہ سال پرانی گاڑی تھی۔ دو تین بیس ہزار میں تو پوری آ جاتی مگر دعوی کرنے میں تو حرج نہیں ہوتا۔ لڑکا رونے لگا۔ عمر کے اعتبار سے ڈرائیونگ لائیسنس اس کے پاس یقیناً نہیں تھا۔ لڑکے نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ اس کے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔ وہ اجازت دے تو فون کرکے اپنے والد کو بلا لے۔ گاڑی والا کچھ نشے میں لگتا تھا۔ اس نے اس کے باپ کو بھی گالیاں نکالنی شروع کر دیں اور کہا جلدی بلاؤ۔ لڑکے نے فون پر باپ کو ساری صورتحال بتائی اور فوراً پہنچنے کا کہا۔

دس پندرہ منٹ میں ایک رکشا پر لڑکے کا باپ وہاں پہنچ گیا۔شکل سے مزدور نظر آ رہا تھا۔ ایک ایسا شخص جسے دابا لگانے کی ضرورت ہی نہیں ۔ وہ دبا دبایا پیدا ہوا لگتا تھا۔ آتے ہی ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ جناب مانتا ہوں آپ کا بہت نقصان ہو گیا مگر میں غریب آدمی ہوں ۔ بیس ہزار نہیں دے سکتا۔ میرے بیٹے کو پولیس میں مت دیں۔ گھر میں کل تین ہزار تھے۔ یہ میں لے آیا ہوں آپ لے لیں اور میرے بیٹے کو چھوڑ دیں۔ گاڑی والے نے تین ہزار اچک کر اپنی جیب میں ڈال لئے اور مزید دینے کا کہا۔کچھ لوگ اکٹھے ہو چکے تھے مگر گاڑی والے کی بد زبانی کے آگے کسی کا بس نہیں چل رہا تھا۔تھوڑے فاصلے پر چوک میں ٹریفک وارڈن بھی موجود تھے لیکن چوک میں بے پناہ رش کی وجہ سے وہ وہاں سے کہیں دائیں بائیں جا نہ سکتے تھے۔

یکایک کالی آندھی کی طرح دو کالی موٹر سائیکلوں پر سوار چار جوان کالی وردی میں ملبوس، ہاتھ میں کالی بندوقیں لئے وہاں پہنچ گئے۔ گاڑی والے کا دابا ایک دم ٹھس ہو گیا۔ ڈولفن کے جوانوں نے پوچھا کیا ہو رہا ہے۔ موٹر سائیکل والے بچے اور اس کے باپ نے اپنی بپتا سنائی۔ گاڑی والے سے پوچھا کہ بیس ہزار والا نقصان بتاؤ کونسا ہے۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ بات کرتے ہوئے اچانک انہیں پتہ چلا کہ گاڑی والا نشے میں ہے۔ بس جرم بڑا سنگین ہو گیا۔ موٹر سائیکل والے کے پاس جو جوان کھڑا تھا اسے اندازہ ہو گیا کہ اب لڑکے کے پاس دینے کو کچھ نہیں تھا۔ جو تین ہزار تھے وہ گاڑی والے کے پاس سے وصول ہو ہی جانے تھے اسلئے اس نے لڑکے کے باپ سے کہا کہ یہ تھانے کا کیس ہے ۔ آپ شریف آدمی نظر آتے ہو کہاں مصیبت میں پھنسو گے۔ موٹر سائیکل یہیں سے واپس لے جاؤ۔ لڑکے اور اس کے باپ نے تشکر بھری نظروں سے کالی آندھی کی طرف دیکھا اور وہاں سے یوں غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

اب تین جوان ہاتھوں میں رائفلیں لئے گاڑی کے ارد گرد گھوم رہے تھے اور ایک جوان گاڑی والے کے ساتھ گاڑی کے اندر بیٹھا تفتیش مکمل کر رہا تھا۔ چند منٹ بعد تفتیش کرنے والا فاتحانہ انداز میں گاڑی سے باہر نکلا۔ آنکھوں ہی آنکھو ں میں چاروں نے ایک دوسرے کو خوشی کا پیام دیا اور اگلے ہی لمحے وہ کالی آندھی اپنی نئی منزل کی طرف گامزن تھی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 436 Articles with 219936 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
10 Aug, 2016 Views: 314

Comments

آپ کی رائے