حکومت ،فوج اور عوام پاکستانی بنیں!

(Athar Wani, Rawalpindi)
 مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں 60سے زائد عام شہری ہلاک اورہزاروں زخمی ہو چکے ہیں اور ایک مینے سے زا ئد عرصے سے تمام مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کا مسلسل سخت کرفیو نافذ ہے۔اس کے باوجود مقبوضہ وادی کے ہر مقام پر کشمیریوں کے آزادی کے حق میں بھارت مخالف عوامی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں حکومت نے بھارت کے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سفارتی کوششیں تیز کی ہیں اورنہتے کشمیری عوام کے خلاف بھارتی فوج کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے تناظر میں بھارت پر عالمی دباؤ میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ تقریبا 25سال کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں ایک لاکھ سے زائد عام شہری ہلاک کئے گئے ہیں۔سینکڑوں گمنام قبریں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی ایک زندہ مثال ہے۔بڑی تعداد میں کشمیریوں کو ہلاک کرنے کے کئی واقعات مقبوضہ کشمیر میں ہر سال منائے جاتے ہیں۔بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری شہریوں کی ہلاکتوں سے بڑھ کر بھارتی فورسز کی پیلٹ گنز کے ذریعے بڑی تعداد میں کشمیری نوجوانوں ،بچوں ،لڑکیوں کے چھلنی اور بصارت سے محروم چہروں نے عالم انسانیت کو جھنجوڑ ا ہے۔اسی عالمی دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے کوئٹہ میں بم دھماکے کی دہشت گردی(جس میں70سے زائد ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے) کے اگلے ہی روز پاکستانی ہائی کمشنر کو بھارتی وزارت خارجہ طلب کر کے ایک پاکستانی شہری کی مقبوضہ کشمیر میں گرفتاری کی بات کی ۔نئی دہلی میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت کے بے تکے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے مسئلہ کشمیر کی حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ سیکریٹری خارجہ جے شکر نے پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے انھیں پاکستان سے سرحد پار ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے جس میں ایک پاکستانی شہری بہادر علی کا حوالہ دیا گیا ہے جس کو مبینہ طور پر انڈین فورسز نے 25 جولائی کوبھارتی مقبوضہ کشمیر سے گرفتار کیا گیا۔بھارتی ترجمان کے مطابق 21 سالہ بہادر علی عرف ابو سیف اﷲ لاہور کی تحصیل رائے ونڈ کے گاؤں جیا بگا کا رہائشی ہے۔یوں بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی دباؤ میں اضافے کو محسوس کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ’’ دراندازی‘‘ کے بھونڈے حربے ایک بار پھر استعمال کرتے نظر آ رہی ہے۔

گزشتہ روز ہی وزیر اعظم نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی ہلاکتوں سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے کمشنر انسانی حقوق کو الگ الگ خط لکھے ہیں۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے تیاری اجلاس میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جبر و استبداد کا شکار کشمیریوں کی آواز بننا ان کا فرض ہے، دنیا کو کشمیری عوام کی حالت زار اور جائز جدوجہد سے آگاہ کرنے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی نفی اقوام متحدہ کی مسلسل ناکامیوں میں سے ایک ہے، وہ ان کے مقصد کے حصول کیلئے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی حمایت کیلئے ہر کوشش بروئے کار لائیں گے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، خارجہ سیکرٹری اعزاز احمد چوہدری، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی، امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی اور دیگر سینئر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں شامل کئے جانے والے ایجنڈے پر غور کیا گیا جس میں وزیراعظم کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کشمیر بدستور اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے لہذا بھارت کو احساس ہونا چاہئے کہ کشمیر اس کا داخلی نہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی تشویش کا معاملہ ہے۔

صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں 70سے زائد معصوم شہریوں جن میں بڑی تعداد دکلاء کی ہے ،کی ہلاکتوں کے بھیانک دہشت گردی کے واقعہ سے ملک میں ایک نیا مطالبہ سامنے آیا ہے جس میں سیکورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ بلاشبہ دہشت گردی کی ایسے بھیانک وارداتوں کے جاری رہنے سے نہایت تشویشناک صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔پاکستان کی سلامتی کو درپیش سنگین ترین صورتحال کا تقاضہ یہی ہے کہ حکومت کی سربراہی میں فوج اور اور عوام بھی ایک’’پیج‘‘ پر ہوں۔ہم ماضی کی غلطیوں کو دھراتے ہوئے ماضی کے المناک نتائج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اس لئے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی کو درپیش چیلنجز سے ہم آہنگ کرنے کو موضوع بنانا اور تمام صورتحال کا مل کر جائزہ لینا اور ضرورت کے مطابق فیصلے اور اقدامات ناگزیر ہیں۔حکومت ،فوج اور عوام پاکستانی ہیں اور انہیں خود کو حکومت ،فوج یا عوام سمجھنے کے بجائے پاکستانی کے طور پر دیکھنا بھی اب ناگزیر ہو چلا ہے،اگر ملک کی بہتری مطلوب ہے تو۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 319379 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
11 Aug, 2016 Views: 412

Comments

آپ کی رائے