میں آزاد ہوں

(Shahid Shakeel, Germany)
جی ہاں میں آزاد ہوں کیونکہ میں کسی کا غلام نہیں ،میرا جو جی چاہتا ہے میں کسی قانون کے خوف یا کسی کی دھونس میں آئے بغیر سب کچھ کر سکتا ہوں کیونکہ میں آزاد ہوں کسی کا قیدی یا غلام نہیں مجھے میرے آباؤاجداد نے جن صعوبتوں اور مشکلات کو سہتے ہوئے پروان چڑھایا میں کیسے فراموش کر سکتا ہوں اور انہی کے نقش قدم پر چلتا ہوا آج جیسی بھی زندگی بسر کر رہا ہوں اس سے خوش اور مطمئن ہوں کیونکہ میں آزاد ہوں اور اپنے بچوں کو بھی وہی اسباق از بر کروانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں جو مجھے وراثت میں ملے ہیں انہیں آزادی اور غلامی کے کئی قصے سناتا ہوں اور یہی کہتا ہوں کہ میرے نقش قدم پر چلو تب ہی کامیاب اور زندگی بھر پر سکون رہو گے کیونکہ میں آزاد ہوں لیکن شاید میرے بچے مجھے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ میں کہیں باؤلا تو نہیں ہو گیا یا شاید تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے کسی شے کی پرکھ نہیں ہے اور سوچے سمجھے بغیر ہر وہ عمل کرنے کی دھمکی دیتا ہے جو شاید دنیا کی کسی کتاب میں بھی درج نہ ہو میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ غربت میں کیسے اپنے والدین کی خدمت کرتا رہا، مجھے تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا لیکن پیٹ کی خاطر اپنی خواہشات کو دبادیا اور تم کو بھی اپنی ہر خواہش کو رد کرکے وہی کچھ کرنا پڑے گا جو میں کہتا ہوں کیونکہ مجھے میرے والدین نے یہی کچھ سکھایا ہے لیکن بچے میری کسی بھی بات سے متفق نہیں ہوتے انہیں کئی بار سمجھایا کہ ہم آزاد ہیں اورجو چاہیں کر سکتے ہیں کیونکہ آزاد وہی ہوتا ہے جو کسی کی پرواہ نہ کرے لیکن مجھے بچوں سے ایسی امید نہیں تھی کہ وہ میری ہر بات کو منفی اور اپنی نئی سوچ کو مجھ جیسے آزاد انسان پر مسلط کریں ۔بابا اگر آپ لاٹین کی روشنی میں تعلیم حاصل نہ کر سکے ،اگر آپ کی شادی آپ کی مرضی سے نہیں ہوئی ،اگر آپ اتنے بچوں کی کفالت نہیں کر سکتے ،اگر آپ اتنی بڑی فیملی کیلئے روزی روٹی ، تعلیم ،صحت اور دیگر دنیاوی لوازمات کا بندوبست نہیں کر سکتے تو کیوں کیا یہ سب کچھ آپ کہاں آزاد ہیں آپ تو غلام ہیں ہر اس شے کے جسے آپ پانا چاہتے ہیں لیکن وہ آپ کو کبھی میسر نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ نے فیوچر پلاننگ نہیں کی تھی ۔میں سوچتا ہوں لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا بس اتنا جانتا ہوں کہ میں آزاد ہوں۔میں نے آزادی کی جنگ میں حصہ لیا اور آزادی کی خوشی میں سرشار تھا کہ میرا ملک آزاد ہو گیا غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی کھلی فضا میں سانس لونگا وقت کے دھارے اس امید پر قائم رہا کہ ملک میں خوشحالی آئے گی آزادی کی جنگ لڑنے والے ایک دن خوشی سے جھومیں گائیں گے اپنی آزاد سر زمین پر محنت کریں گے اور ایک دن ہماری محنت رنگ لائے گی ہم چاہتے تھے کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی حالت ہماری محنت اور لگن کے ساتھ کسی ایسے راہنما کی بدولت ہماری سر زمین پر چار چاند لگائے گی ہم ہر نئے آنے والے راہنما سے امیدیں اور آس لگائے بیٹھے تھے کہ یہ راہنما ملک کو ترقی کی منزلوں تک پہنچائے گا ہم سب کچھ برداشت کرتے رہے کہ اگر پینے کو صاف پانی نہیں تو کوئی بات نہیں گزارہ کریں گے بیمار ہو نے کی صورت میں صحت کا نظام درست نہیں تو کوئی بات نہیں بچوں کو تعلیم دلوانے کے لئے مالی حالت پتلی ہے اور معقول تعلیمی ادارہ نہیں تو کوئی بات نہیں، وقت گزرتا رہتا ہے حتیٰ کہ ہمارے ملک کے ساتھ آزاد ہوئی دنیا میں کئی ریاستیں ترقی کرتے ہوئے ہم سے کئی گنا آگے چلی گئیں اور ہم اگر ان جیسا مقام حاصل نہ کر سکے تو یہ ہی سوچتا تھا کوئی بات میں آزاد ہوں،لیکن یہ بھی سوچتا کہ کہاں اور کس چیز کی کمی رہ گئی کہ ملک ترقی کیوں نہیں کرتا محض آزادی حاصل کرنے سے ملک کا نظام یا ہمارے حالات تو تبدیل نہیں ہوئے کہاں گڑبڑ ہے کہ ہم آزاد ہوتے ہوئے بھی اپنے راہنماؤں کے غلام ہیں ، کیا ہمیں جو وراثت میں ملا اس وجہ سے ،کیا ہم غیر تعلیم یافتہ ہیں اس وجہ سے ،کیا ہم میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں اس وجہ سے ،کیا ہم سوچے سمجھے بغیر دوسروں کی تقلید کرتے ہیں اس وجہ سے ،کیا ہم پر ہمارے ان دیکھے انجانے دشمن مسلط ہو گئے ہیں،کیا ہم کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں اس وجہ سے کہاں اور کونسی غلطی کرتے ہیں کہ ترقی کی دھول تک بھی نہیں پہنچ پاتے سوچتے سوچتے دماغ ماؤف ہو جاتا ہے لیکن پھر سوچتا ہوں میں آزاد ہوں۔ میں ایسا کون سا جرم یا غیر قانونی عمل کرتا ہوں جو میری یا ملک کی ترقی میں روکاوٹ بن رہا ہے ،کیا وراثت میں حاصل کی ہوئی ہر شے آج کے منافی ہے کیا میں وقت کے ساتھ نہ چل کر پھر غلامی کے اندھیروں میں گم ہو چکا ہوں ، میری آنکھوں اور دماغ کے ہر حصے میں کئی طرح کی ہولناک تصویریں ناچتی ہیں کبھی میں ستر برس پیچھے چلا جاتا ہوں کبھی جنگیں مجھے جھنجھوڑکر رکھ دیتی ہیں کبھی دھماکے سن کر کان کے پردے پھٹنے لگتے ہیں کبھی موذن کی آذ ان مجھے ذہنی سکون پہنچاتی ہے تو کبھی بے مقصد نعرے بد اعتمادی پھیلاتے ہیں اور اب میں اتنا لاغر ہوچکا ہوں کہ برداشت نہیں کر پاتا ایک ایسے گھپ اندھیرے میں گم ہو گیا ہوں کہ کئی برسوں کی کوشش کے بعد بھی مجھے اجالے کی کوئی کرن نظر نہیں آتی ۔سوچتا ہوں میرے بچے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ ہم وہ سب کچھ نہیں کر سکتے ہم ایسی زندگی نہیں جینا چاہتے جس زندگی میں آزاد ہو کر بھی غلامی کی چادر اوڑھے آزادی کے نعرے مارے جائیں۔ میں جانتا ہوں میں چند دنوں کا مہمان ہوں اور ایک دن یہ دنیا،ملک ،اپنا خاندان اور سب کچھ چھوڑ کر میری روح میرے جسم سے آزاد ہو جائے گی مجھے اسی وقت چین اور سکون ملے گا اور صحیع معنوں میں جسم سے جدا ہوتے ہوئے کہوں گا کہ میں آزاد ہوں۔لیکن مرنے سے پہلے اپنے بچوں کو کچھ حقائق ضرور بتاؤں گا کہ آزادی حاصل کرنے کیلئے کئی سرفروشوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر غلامی کی زنجیروں کو توڑا ہے ان کی قربانی رائگاں نہیں جائے گی آج اگر ہماری سر زمین پر چند احسان فراموشوں نے قبضہ کر رکھا ہے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہر رات کی صبح ہوتی ہے ،وقت ایک سا نہیں رہتا امید پر دنیا قائم ہے اور ہم اگر آزاد ہوتے ہوئے بھی غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں تو شاید اس میں ہماری کئی غلطیاں ہو سکتی ہیں لیکن ان غلطیوں پر پشیمان ہونے کی بجائے ہماری آنے والی نسلیں ایک دن اس آزاد سرزمین کو دوبارہ غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرے گی اور ملک کے چپے چپے پر بسنے والا ہر انسان یہ نعرہ لگائے گا کہ اب میں آزاد ہوں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Shakil

Read More Articles by Shahid Shakil: 250 Articles with 155766 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2016 Views: 368

Comments

آپ کی رائے