شادیاں ایسی بھی ہوسکتی ہیں

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)
جمعرات کی شام ایک دوست کے صاحب زادے کا ولیمہ تھا، مہر میں سونا اور ولیمہ میں کھانا دونوں میں اسراف اور تبذیر سے اتنا کام لیاگیاتھا کہ خوشی کے موقع پر بھی دل ہی دل میں افسوس ہی ہوا ،سمجھ نہیں آتی ،لوگوں کو سادگی اپنانے اور غمی خوشی کے موقع پر افراط وتفریط سے کیسے بچایاجائے ، کونسی زبان میں انہیں سمجھایاجائے، کیاسید التابعین حضرت سعید بن مسیب کا اپنی بیٹی بیاہنے کا طریقہ ہم میں سے کسی کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا ؟

امام غزالی احیاء علوم الدین میں رقمطراز ہیں: عبداﷲ بن ابو وداعہ کہتے ہیں،میں حضرت سعید بن مسیب کی خدمت میں حاضر رہا کرتا تھا،اتفاق سے مجھے کئی دن ناغہ کرنا پڑا، آپ نے میری غیر حاضری کے بارے لوگوں سے سوال کیا ،جب میں حاضر خدمت ہوا ،آپ نے پوچھا:تم کہاں تھے ؟میں نے عرض کیا ،میری اہلیہ کا انتقال ہو گیا تھا ،میں اسکی تجہیز وتکفین اور تعزیت کے امورمیں لگاہواتھا․․․آپ نے فرمایا ، مجھے کیوں نہیں بتایا؟میں بھی شریک ہوجاتا،پھر میں نے اٹھنا چاہا ،آپ نے فرمایا :تم نے کوئی لڑکی دیکھی ہے؟میں نے عرض کیا : خد ا آپ کا بھلا کرے ، اب مجھ سے کون نکاح کرائے گا ۔ میرے پاس شاید دو یا تین درھم ہو ں ۔

فرمایا : میں اپنی بیٹی سے تمہارا نکاح کراتاہوں ۔ میں نے تعجب سے کہا : آپ نکاح کرائیں گے ؟ فرمایا : ہاں، چنانچہ اسی وقت آپ نے خطبہ پڑھا اور میرانکاح کرادیا،میں آپ کی مجلس سے اٹھا تو مارے خوشی کے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتاتھاکہ میں کیا کروں ،پھر میں نے اپنے گھر کی راہ لی ، راستہ میں سوچنے لگا کہ کسی سے کچھ قرض لوں ؟ کسی سے کوئی رقم ادھار لوں ؟ لیکن کچھ بھی نہ کرسکا،مغرب کی نماز ادا کی اور اپنے گھر لوٹا ، گھر پہنچ کر میں نے چراغ جلایا ، میر اروزہ تھا ، ما حضراپنے سامنے رکھا ، وہ بھی کیا تھا ؟ روٹی اور زیتون کا تیل تھا، اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہاہے ، میں نے کہا : کون ہے ؟ آواز آئی : سعید !

میں نے سعید نامی ایک آدمی کا تصور کیا،کہ وہی سعید ہوسکتاہے ،لیکن سید التابعین ، عظیم محدث اور اہل مدینہ کے امام حضرت سعید بن المسیب ؒ کی طرف میر ا ذہن بھی نہیں گیا، کیونکہ چالیس سال کا عرصہ ان پر ایسا گزرا کہ وہ گھر سے مسجد تک کے علاوہ کہیں نہیں گئے ، میں لپک کر دروازے پر پہنچا ،دیکھا ، حضرت سعید بن المسیب ؒ ہیں ، مجھے وہم ہو ا کہ شاید آپ کا ارادہ بدل گیاہے، میں نے عرض کیا : ابومحمد (یہ حضرت سعید کی کنیت ہے) اگر آپ اطلاع کر دیتے ،میں خود آجاتا،آپ نے فرمایا نہیں ! تم اس کے زیادہ مستحق تھے ،کہ تمہارے پاس آیا جائے ، میں نے عرض کیا : فرمایئے کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا : تم غیر شادی شدہ تھے ،اب تمہاری شادی ہوگئی ہے، اس لئے مجھے اچھا نہیں معلوم ہو ا کہ تم رات کا کھانا بھی تنِ تنہا کھاؤُ․․․یہ تمہاری بیوی حاضرہے ، میں نے دیکھا ،تو آپ کی صاحبزادی، یعنی میری اہلیہ آپ کے بالکل پیچھے کھڑی ہے ، آپ نے صاحبزادی کو دروازے سے اند ر داخل ہونے کا کہااور خود لوٹ کرتشریف لے گئے ، وہ بیچاری شرم و حیا کی وجہ سے وہیں گرگئی ،مگر معاً سنبھل گئی ،میں نے دروازہ بند کیا اور اپنا فقیروں والاکھانا ’’ روٹی اور زیتون کا تیل ‘‘ چراغ کے سامنے سے جلدی جلدی ہٹا دیا ،تاکہ اس کی نظر نہ پڑے ، پھر مکان کی چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں کو آوازدی ،لوگوں نے جمع ہو کر پوچھا : کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : حضرت سعید بن المسیب ؒ نے اپنی صاحبزادی سے میر ا نکاح کردیا ہے ، اور وہ خود ابھی اس کو پہنچا گئے ہیں ۔ لوگوں کو بہت تعجب ہوا ،کہنے لگے : کیا واقعی حضرت سعید نے اپنی صاحب زادی سے آپ کی شادی کرادی ؟ میں نے کہا، ہاں ! انہوں نے کہا ـ: دلہن تمہارے گھر میں ہے؟ میں نے کہا : جی بالکل ! چنانچہ پڑوسی خواتین اسی وقت آگئیں ، اور میری بوڑھی والدہ تک بھی خبر پہنچ گئی، وہ بھی اسی وقت تشریف لے آئیں ، والدہ نے کہا : تین دن تم اس کے قریب نہیں آؤ گے، تاکہ ہم اس کو تیار کرلیں ، ورنہ تمہارا منہ نہ دیکھوں گی ۔

تین دن کے بعد جب میں نے اس سے تخلیہ کیا ، وہ حسن وجمال میں یگانۂ روز گار تھی ، اسے کلام پاک خوب یاد تھا، احادیث نبوی ﷺاس کی نوک زباں پر تھیں ، شوہر اورسسرال کے حقوق کے متعلق اسے کامل واقفیت حاصل تھی ، ایک ماہ تک میں حضرت مرشد کی خدمت میں نہیں گیا اور نہ ہی وہ تشریف لائے ، پھر جب میں حاضر ہوا تو وہاں لوگ خوب جمع تھے ،میں سلام کر کے بیٹھ گیا ، حضرت نے سلام کا جواب دیا ،لیکن کوئی اور بات نہیں کی، پھر جب سب احباب چلے گئے، حضرت نے فرمایا: اُس انسان کا کیا حال ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے ابومحمد ! نہایت بہتر ہے ، یہاں تک کہ دوست دیکھ کر خوش ہوں اور دشمن دیکھ کرجلیں ۔ حضرت نے فرمایا : اگر کوئی نا گوار با ت دیکھو تو لاٹھی سے خبر لینا ۔ پھر میں اپنے گھر لوٹ آیا ، حضرت سعید بن المسیب ؒ نے ایک شخص کے ذریعے بیس ہزار درہم مجھے بھجوادیئے ۔

یہ سیدھی سادی اورمبارک شادی کا دلچسپ اور نہایت سبق آموز سچا واقعہ ہے ، قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ حضرت کی اس صاحبزادی سے خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان نے اپنے بیٹے ولید بن عبد الملک کی شادی کیلئے رشتہ مانگا تھا ،لیکن امام اہل مدینہ حضرت سعید بن المسیب ؒ نے انکار کردیا ، اور اپنی اس پیاری حسین وجمیل ،حافظہ، عالمہ، فاضلہ اور دین داربیٹی سے نکاح اپنے غریب مگر صالح متوسل سے کرادیا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 479583 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
15 Aug, 2016 Views: 530

Comments

آپ کی رائے