ملک میں’گجرات ماڈل‘کانفاذ

(محمدشارب ضیاء رحمانی, New Delhi)
برہمنوں کے ذریعہ ہورہے مظالم اوراستحصال کے خلاف اب دلت بیدارہورہے ہیں،ایسے وقت میں ضروری ہے کہ مسلم جماعتیں ،ان کی آوازمیں آوازملائیں،ان کے ساتھ اظہارِیکجہتی کریں،مسلم مجلس مشاورت کااس سمت میں قدم قابلِ تعریف ہے ۔انہیں اسلام سے قریب کرنے کی کوشش کی جائے ،یہ ایک اہم موقعہ ہے جب ہم دلتوں کے سامنے دین متین کورنگ ونسل کے امتیازسے جدااس کی آفاقیت کے تناظرمیں، ایک مہذب مذہب کی حقیقی شکل میں پیش کریں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی وزیراٹھاؤلے نے مایاوتی کوچیلنج کیاہے کہ ویہ باباصاحب کی طرح بودھ مذہب کیوں قبول نہیں کرلیتیں،چنانچہ مایاوتی نے اس چیلنج کوقبول کرتے ہوئے کہاہے کہ معاشرہ بیدارہوجائے توکروڑوں دلتوں کے ساتھ بودھ مذہب قبول کرسکتی ہوں۔
جب وزیراعظم کے عہدہ کے امیدوارگجرات ماڈل کوپیش کررہے تھے توکچھ لوگوں کے خیال میں ترقی یافتہ ریاست وحکومت کاتصورآگیاہوگالیکن حقیقت میں گجرات ماڈل سے مرادوہ ماڈل ہے جہاں گائے کاقتل(سی آئی ڈی کی رپورٹ کے مطابق)’شیرکریں اورپیٹادلتوں کوجائے اورجہاں فرضی انکاؤنٹرزکے مجرموں کودوبارہ عہدہ پربحال کردیاجائے۔حقیقی گجرات ماڈل وہی ہے جس کی وجہ سے اس وقت کے و زیراعلیٰ پرعالمی طاقتوں نے اپنے ملک میں داخلہ پرپابندی لگادی تھی۔سابق ریاستی وزیرداخلہ اوراب بی جے پی صدرپراپنی ہی ریاست میں داخلہ پرعدالت کی طرف سے پابندی لگائی گئی۔خودمودی سرکارمیں ایک بڑی تعداد مجرمانہ پس منظررکھنے والے وزراء کی ہے۔’داہندو‘کی رپورٹ کے مطابق مودی کابینہ میں کم ازکم14وزراء کے خلاف کرمنل کیسزہیں۔ ’انٹرنیشنل بزنس ٹائمز‘کے مطابق کل186ممبرزآف پارلیمنٹ پرریپ اورقتل جیسے معاملات درج ہیں۔خودبی جے پی کے63ایم پی پرسنگین کرائم کے کیسزہیں۔مودی کی پہلی غیرتوسیعی کابینہ میں19وزراء میں سات پرمجرمانہ چارجزلگے ہوئے ہیں۔’انڈیاٹوڈے‘کے مطابق کابینہ کونسل میں بیس یااکتیس فیصدوزراء کے خلاف قتل،فرقہ وارانہ فسادات،تشددجیسے کریمنل معاملات ہیں جبکہ گیارہ وزراء یاسترہ فیصدوزراء کوسیریس کریمنل کیسزکاسامناہے۔حالانکہ کجریوال کے بقول’جانچ ایجنسیوں کواپنے فرائض کی ادائیگی سے بالکل معطل ‘کرکے اپوزیشن کے پیچھے لگادیاگیاہے توکہاں سے بی جے پی کے وزراء کے خلاف الزامات سامنے آئیں گے‘۔پھربھی سشماسوراج،وسندھراراجے کے خلاف داغ لگ چکے ہیں۔ بی جے پی،شیوسیناسرکارمیں سرکردہ لیڈرایکناتھ کھڑسے،داؤدلنک اورزمین گھوٹالہ پراستعفیٰ پرکیوں مجبورہوئے؟،مزیدپنکجامنڈے کے کئی اسکینڈل سامنے آئے ہیں۔پاک صاف حکومت کادعویٰ اسی وقت درست ہوگاجب ان مشکوک لیڈران پربھی ویسی ہی کارروائی کی جائے جس طرح اپوزیشن لیڈران کے خلاف کی جارہی ہے۔اگرصرف الزامات اورکیسزگرفتاری کے لئے جوازہیں توپہلے ان کم ازکم ان وزراء کوجیل کی ہواکھلاکرصاف ستھراکرادیناچاہئے۔عدالت جمہوریت کے قتل پرجب سخت سست کہتی ہے توسنیئروزیربرس پڑتے ہیں۔اروناچل پردیش اوراتراکھنڈمیں جس طرح جمہوریت کاقتل عام کیاگیا،عدالت نے صدرجمہوریہ کے اقدام سمیت گورنرکے کردارپربھی اہم سوال اٹھائے ہیں ،اس سے ہماری جمہوریت شرمسارہوگئی ہے۔
ناگپورسے چلنے والی سرکارمیں جہاں ایک طرف پورے ملک میں غنڈہ راج ہے، وہیں حیرت ہوتی ہے کہ مرکزی وزیردفاع بھی ’غیرذمہ دارانہ زبان‘ بول رہے ہیں۔ اگرملک میں فرقہ ورانہ ماحول کے درست نہ رہنے کی بات کہی جائے تویہ کون سی دیش سے غداری ہے،سنگھ پریواراینڈکمپنی کی ڈکشنری میں حکومت کے کسی قدم کے خلاف بولناغداری ہے۔لیکن ساری گیدڑبھبھکی وہاں دھری کی دھری رہ جاتی ہے جب ’دوست اوبامہ‘ نصیحت کرجاتے ہیں۔حالیہ دنوں میں امریکہ پھرمودی سرکارمیں عدمِ رواداری کے ماحول پرتشویش کااظہارکرچکاہے۔آخرسنیئروزیرکی بولتی اس پرکیوں بندہے؟۔صرف اسی لئے کہ وہ نام ’عامر خاں‘تھا۔ پاریکرکایہ لہجہ،اورطریقہ کار خودعدم تحمل کے ماحول کی دلیل اور غنڈوں اورکرمنلوں کی حوصلہ افزائی ہے۔اقلیتوں میں احساسِ عدم تحفظ اوراکثریتی طبقہ میں شکوک وشبہات کافروغ ایک محسوس حقیقت ہے۔اب یہ تسلیم کرلیناہوگاکہ جس سے(بقول اٹل بہاری واجپئی)بطورِوزیراعلیٰ’راج دھرم‘نہ نبھایاگیا،اس سے بطورِوزیراعظم گڈگورننس کی امیدفضول ہے۔پورے ہندوستان کواسی گجرات کے نہج پر چلایا جارہا ہے۔مہاراشٹراورپنجاب میں کسانوں کی خودکشی،ہریانہ میں جاٹ تحریک ،غنڈہ گردی،کشمیرمیں ستم عام،اورگجرات میں ناانصافی اورمظالم کے خلاف پہلے پٹیل تحریک اوراب دلتوں کی تحریک اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔

دراصل برہمن وادمیں پسماندہ طبقات،دلتوں اوراقلیتوں کے حقوق ومفادات کاکوئی گوشہ نہیں ہے۔’سب کاساتھ ،سب کاوکاس کانعرہ‘صرف دنیاگھومنے،بلکہ اب دوہراکرگھومنے اوروہاں سوال وجواب سے بچنے کیلئے دیاجاتاہے۔پوراملک فرقہ پرستی کی زدمیں ہے،کوشش یہ ہے کہ تمام شعبوں کابھگواکرن کردیاجائے ۔گذشتہ دنوں پٹنہ میں منعقدمیڈیکل کے نیٹ ایکزام میں بدسلوکی کی گئی ۔میڈیکل کے امتحان میں سی بی ایس ای کی اجازت تھی کہ اگرکوئی مذہبی لبا س میں آتاہے تواسے ایک گھنٹہ پہلے رپورٹنگ کرنی ہوگی ۔پانچ سنٹرزپرمسلم طالبات ڈیڑھ گھنٹہ قبل پہونچیں،نگراں امتحان نے نقاب اوراسکارف اتروائے،ویڈیوگرافی کی اورپھرآخرتک حجاب میں نہیں آنے دیا۔ان طالبات کے حوصلوں کوسلام ہے جنہوں نے امتحان کے فوراََبعدسخت دفعات کی ایف آئی آردرج کرائی ہے اورتوانائی کے ساتھ قانونی لڑائی لڑکر قوم کوفرقہ ورانہ ناانصافی کے خلاف اٹھنے ،سچ پراڑنے اورنہیں ڈرنے کا حوصلہ پیداکرنے کی سمت میں نہایت اہم پیغام دیاہے۔

لوک سبھاالیکشن کے وقت دہلی سمیت ملک کے طول وعرض میں جگہ جگہ پوسٹرچسپاں تھے’اب نہ ہوگاناری پہ وار،اب کی بارمودی سرکار‘۔یوپی میں’ مہیلاؤں کے سمان میں،بی جے پی میدان میں‘کودگئی تھی لیکن اتراکھنڈکے بی جے پی ایم ایل اے اوربہارقانون سازکونسل کے رکن پرجنسی بدسلوکی کے الزامات اوردیاشنکرکی بدزبانی جیسے معاملات اس کی ہوانکالنے کیلئے کافی ہیں۔مرکزی حکومت کی ناک کے نیچے دہلی کالاء اینڈآرڈر بدترہے،راجستھان اورمدھیہ پردیش میں صرف شک کی بنیادپرعوامی جم غفیرکے درمیان خواتین کی پٹائی کردی گئی۔ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق وہ گوشت بھینس کاتھا۔جب ’مسلم نماوزیر‘مختارعباس نقوی کوپارلیمنٹ میں گھیراگیاتوان کاانتہائی قابل مذمت جواب تھا’’ کارروائی کردی گئی‘‘۔جب کہ ان ہی مظلوم خواتین کوگرفتارکیاگیاتھا۔بعدمیں ہنگامہ کے بعدمزیدکئی لوگ گرفتارہوئے۔ایک بات اورکہنی ہے کہ آخرایسے پرآشوب ماحول میں ضرورت ہی کیاپڑی ہے کہ گوشت خواہ کسی بھی چیزکاہو،بورے میں بھرکرسفرکریں،بسااوقات ہم خودمواقع فراہم کرتے ہیں۔’’گؤررکشا‘‘کابھوت بی جے پی کی ذیلی جماعتوں میں اورغنڈوں میں سرچڑھ کربول رہاہے تودوسری طرف مودی حکومت کامختلف چہرہ بھی قابل دیدہے۔’گائے کے ہمدردوں کی سرکار‘میں نہ صرف بیف کی درآمدبڑھی ہے بلکہ مودی سرکارنے نئے بوچڑخانے کھولنے اوران کی جدیدکاری کے لئے اپنے پہلے بجٹ میں15کروڑکی سبسڈی دے دی۔2014.2015میں میٹ درآمدسے ہونے والی آمدنی میں4فیصدکااضافہ ہوااورسال2014.2015میں کے دوران ہندوستان نے 24لاکھ ٹن میٹ درآمدکیا۔

کشمیرمیں ’دیش بھکتوں‘کی سرکارہے ۔لیکن حالات قابوسے باہرہیں۔محبوبہ مفتی گھڑیالی آنسوبہارہی ہیں۔اب برہان وانی کے قتل پردرپردہ افسوس کااظہارکیاجارہاہے۔محبوبہ کی پالیسی بی جے پی سے یارانہ مضبوط کرنے کی ہے تووہ کشمیریوں کی منہ بھرائی بھی چاہتی ہیں۔یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ جاٹ اورپٹیل تحریکوں اورکشمیریوں کے مظاہروں سے نمٹنے کا طریقہ کارجداگانہ رہا۔وزیرداخلہ کہہ چکے ہیں کہ طاقت کااستعمال کرنے سے بچناچاہئے اورفوج کوتحمل سے کام لیناچاہئے ۔یعنی حکومت نے اعتراف کرلیاہے کہ کشمیریوں پرعدمِ تحمل کامظاہرہ بلکہ طاقت کااستعمال کیاگیا۔مذہب کے نام پرمظاہرین سے نمٹنے کے طریقہ کارمیں واضح تفاوت کی یہ روش فرقہ پرستی نہیں توا ورکیاہے؟۔کشمیریوں پرسینہ زوری دکھائی جارہی ہے،لیکن چھپن انچ سینے والے وزیراعظم اتراکھنڈمیں چینی فوج کی دراندازی پرخاموش ہیں؟۔ایک ایم پی کوپارلیمنٹ کی کارروائی کی ویڈیوبنانے کے الزام میں تادیبی کارروائی کاسامناہے ۔بھگوت مان نے سوال اٹھایاہے کہ پاکستانی حکام کوایئربیس میں داخلہ کی اجازت دیناملک کی سیکوریٹی کے ساتھ کھلواڑہے اس کی ذمہ داری طے کیوں نہیں کی جاتی؟۔جاپان میں ملک کاترنگاالٹاہوجاتاہے ہمارے وزیراعظم فوٹوکھنچانے میں مصروف رہتے ہیں۔اسی طرح روہت ویمولاکیس میں پارلیمنٹ کوگمراہ کرنے کے الزام میں اسمرتی ایرانی کے خلاف استحقاق شکنی کا نوٹس لایاگیاتھالیکن اب تک اس پرکیاکارروائی ہوئی ،ملک جانناچاہتاہے۔سابق زیررام شنکرکھٹیریاکے مسلم مخالف بیان پرجس دھڑلے سے مرکزی وزیرداخلہ نے پارلیمنٹ میں غلط بیانی کی اس پراپوزیشن کیوں خاموش ہوگیا؟۔اس خاموشی کوحزبِ اقتداروحزبِ اختلاف کے درمیان میچ فکسنگ کیوں نہیں کہناچاہئے؟۔

برہمنوں کے ذریعہ ہورہے مظالم اوراستحصال کے خلاف اب دلت بیدارہورہے ہیں،ایسے وقت میں ضروری ہے کہ مسلم جماعتیں ،ان کی آوازمیں آوازملائیں،ان کے ساتھ اظہارِیکجہتی کریں،مسلم مجلس مشاورت کااس سمت میں قدم قابلِ تعریف ہے ۔انہیں اسلام سے قریب کرنے کی کوشش کی جائے ،یہ ایک اہم موقعہ ہے جب ہم دلتوں کے سامنے دین متین کورنگ ونسل کے امتیازسے جدااس کی آفاقیت کے تناظرمیں، ایک مہذب مذہب کی حقیقی شکل میں پیش کریں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی وزیراٹھاؤلے نے مایاوتی کوچیلنج کیاہے کہ ویہ باباصاحب کی طرح بودھ مذہب کیوں قبول نہیں کرلیتیں،چنانچہ مایاوتی نے اس چیلنج کوقبول کرتے ہوئے کہاہے کہ معاشرہ بیدارہوجائے توکروڑوں دلتوں کے ساتھ بودھ مذہب قبول کرسکتی ہوں۔

ہماراایمان ،فرعونِ وقت کے انجامِ بدپرہے لیکن اس کے لئے ایقان موسوی بھی ضروری ہے،نمرودِوقت کی حاکمیت وغرورکاتہہ وبالاہوناممکن ہے، آتشِ نمرودمیں کودجانے والابراہیمی جگر مطلوب ہے۔ضروری ہے کہ دیانت،فراست اوربغیرکسی سودے بازی کے 2019کالائحہ عمل ابھی سے طے کیاجائے۔رہی بات یوپی الیکشن کی توتمام نام نہادسیکولرپارٹیاں ہندوؤں کی منہ بھرائی میں مصروفِ عمل ہوکرپوری طرح ہندوووٹ بینک کی پالیسی پر گامزن ہیں اوریہی صورتحال 2019میں بھی رہے گی ۔حیرت اس پرہے کہ ایس پی اوراس کے’ نمک حلال مسلم لیڈران‘کہہ رہے ہیں کہ ایس پی نے تمام وعدے پورے کردیئے۔اس قوم پرجتناسرپیٹاجائے، کم ہے ،ہماری غیرت ایمانی کاحال تویہ ہے کہ کشمیرجل رہاہوتاہے اوربیلٹ گن کااستعمال کرنے والوں کے ساتھ عیدملن کی تقریب قوم کے پیسوں کوان پرلٹاکرفائیواسٹارہوٹلوں میں منائی جارہی ہوتی ہے۔سیکولرزم کوبچانے کاساراٹھیکرامسلمانوں نے اپنے سرآخرکیوں لے لیا؟۔جس کے نتائج،بے وزنی کی شکل میں سامنے ہیں۔اگرسیکولرزم ملک کی ضرورت ہے تونام نہادسیکولرپارٹیاں اس کی ذمہ درای کیوں نہیں لیتیں۔مسلمانوں نے بہارمیں اویسی کومستردکرکے سیکولرزم کے ان ہی ٹھیکیداروں کوحکومت پربیٹھایالیکن مسلمانوں کاکون سامسئلہ تقریباََایک سال ہونے کوہے،حل کرلیاگیا۔ریاست وملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس کی دوسری سب سے بڑی آبادی کواس کی مین اسٹریم سے نہ جوڑاجائے۔الغرض آپ تسلیم کریں یانہ کریں،پورے ملک میں غیراعلانیہ ایمرجنسی نافذہوچکی ہے۔ بس اب برہمنیت کے خلاف ملک کی اکثریت کوبیدارکرنے اوران کاساتھ دینے کی ضرورت ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Md Sharib Zia Rahmani

Read More Articles by Md Sharib Zia Rahmani: 43 Articles with 22223 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2016 Views: 353

Comments

آپ کی رائے