سالگرہ

(Sami Ullah Malik, )
آج میرے پاکستان کی٦٩ویں سالگرہ ہے،مجھے اس کی دوستی پرفخرہے۔جب میں اس کے ہمراہ ہوتاہوں تومجھے ایک گونہ اطمینان ہوتاہے ۔ پاکستان کی ایک بدقسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس کوجوساتھی ملے،اس کے خلوص،اس کی محبت،اس کی ہمدردی ،اس کی وسیع القلبی کا بے جااستعمال کرتے رہے۔پاکستان یہ سب چکرسمجھتاتھامگراپنی طبعی شرافت کی وجہ سے اس نے یہ سارے معاملات اللہ پرچھوڑرکھے تھے۔ جب میں اپنے گھرسے باہرنکلاتومیں نے جگہ جگہ اجتماعات دیکھے جس میں مقرر حضرات پاکستان سے اپنی دوستی اورمحبت میں ایک دوسرے سے بڑھ کررطب اللسان تھے۔میں ایک جلسے سے دوسرے پھر دوسرے سے تیسرے میں پاکستان کوتلاش کرتارہامگرایسا لگتاتھاکہ شائدوہ اپنی اس٦٩ویں سالگرہ کی تیاریوں میں نہ توشریک ہوناچاہتاہے اورنہ دوسروں کی شرکت پراسے کوئی خوشی ہورہی ہے۔

ان پریشان کن خیالات کولیکرمیں نے گلی گلی اس کوڈھونڈناشروع کیا،جیسے جیسے میری تلاش بڑھتی گئی ،میری امیدکمزورپڑتی گئی اوروقت بھی تنگ ہوتاچلاگیا۔مجھے یہ بھی فکرلاحق تھی کہ شام کوبچوں نے بھی پاکستان سے مل کرمبارکباددیناتھی،اگرمجھے پاکستان نہ ملاتومیں اپنے بچوں کوکیا جواب دوں گا،ویسے بھی بچے پاکستان سے میری دوستی کوایک خواب ہی سمجھے تھے اورمیں نے بڑے وثوق سے ان کویقین دلایاتھا کہ میں تم کوبتاؤں گا کہ میں اور پاکستان کتنے اچھے دوست اورساتھی ہیں۔ اچانک خیال آیاکہ پاکستان جب گھبراتا ہے یاکسی بات پراس کوصدمہ ہوتاہے تووہ ایک ہی جگہ ملتا ہے۔

یہ خیال آتے ہی میں الٹے پاؤں بھاگتا ہواگھرآیااوراپنے بچوں،پوتوں کوساتھ لیکر قائداعظم کے مزارکی طرف روانہ ہوگیا ۔ بابائے قوم کے مزار کے احاطے میں آیاتوکیادیکھتاہوں کہ پاکستان باباکی قبر سے لپٹاہچکیاں لے رہاہے۔ قدموں کی آہٹ پرپاکستان نے اپناچہرہ قبرسے الگ کیااوراپنی سوجھی ہوئی آنکھوں سے میری طرف لپکا۔میں نے بے اختیاری میں اپنے ہاتھ پھیلائے،بغل گیرہوتے ہی میں نے کہاکہ پاکستان تم اپنی سالگرہ کے جلسوں میں کیوں نہیں تھے؟اس نے مجھے فوراًاپنے سے الگ کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے میراکندھا پکڑ کرزورسے جھٹکادیاکہ تم بھی مجھے یہی کہنے کیلئے آئے ہو؟کیاکوئی اپنی سالگرہ اس منافقت سے مناسکتا ہے؟میں نے کہا کہ میں تمہاری بات نہیں سمجھا، اس پرپاکستان نے مجھے یہ کہاکہ کیامجھے میرے باپ نے اسی لئے جنم دیاتھا کہ میری جنم بھومی عروس البلادمیں ٹارگٹ کلنگ،بھتہ خوری،لینڈمافیا،قتل و غارتگری،شوت،چوربازاری اورغنڈہ گردی کوختم کرنے کیلئے پچھلے دوسالوں سے مسلسل میرے بچے دن رات اپنی جانوں کی قربانیاں دیکراس کاامن واپس لانے کیلئے کوشاں ہیں توہزاروں میل دوربیٹھااسی شہرکاایک مفرورپہلے تو میرے وجودکودشمن کی سرزمین پرمجھے تاریخ کی ایک بڑی غلطی قراردیتارہااوراب توثابت بھی ہوگیاکہ وہ میرے وجود مسعودکوختم کرنے کیلئے باقاعدہ میرے ازلی دشمن سے مالی مددکے علاوہ اپنے کارکنوں کودہشتگردی کی تربیت بھی دلوارہاہے۔دکھ تواس بات کاہے کہ میں توتمہیں باوقاراندازمیں آزاد کروا کے گیاتھا،میری تصویرکواپنی پشت پرٹکا کرمیرے سامنے میری غیرت کوسرِعام نیلام کیا جائے اورتم سب منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر کسی مصلحت کی بناء پراف تک نہ کرو،حتیٰ کہ اب باقاعدہ دنیاکے ۵۵ ممالک کوبشمول بھارت کومددکیلئے پکاررہاہے؟؟؟؟؟

میں جب ایک سال اورکچھ دن کاتھاتومجھ سے میرے بابابچھڑگئے،اس یتیم کو پالنے کیلئے میرے چچاؤں نے بھرپورکرداراداکیااورآہستہ آہستہ وہ لوگ بھی مجھ سے بچھڑ گئے۔ایک پھوپھی تھی جومیری غمخواراورہمدرد تھی،باپ کی کمی جب مجھے محسوس ہوتی تومیں ان کی گودمیں سررکھ دیتااوربے انتہا سکون پاتا۔ افسوس وہ بھی مجھ سے جداہوگئیں،میں غیروں کے رحم وکرم پرآگیا،جوچچا اور رشتہ دارکروڑپتی تھے،نواب تھے،صاحبِ حیثیت تھے،انہوں نے اپنا تمام دھن مجھ پرلٹادیااورمرتے وقت ان کی زبان سے میرے لئے دعائے خیرکے کلمات ہی نکلے کہ اے اللہ!پاکستان کی حفاظت کرنا(آمین)۔اب تم خودہی بتاؤکیاوہ لوگ عظیم تھے جنہوں نے ایک یتیم کی پرورش کرنے کیلئے اپنی جان ومال داؤپرلگادیئے یاوہ لوگ عظیم ہیں جومیری جائیداد،میری دولت کولوٹتے رہے اوراپنے ناموں اوراپنی اولادوں کے نام منتقل کرتے رہے اورپھرڈھٹائی دیکھو کہ اس یتیم کو بجائے سنوارنے اوربنانے کے ایک بازوسے بھی محروم کردیااورپھربھی میری محبت کاجھوٹادم بھرتے ہیں۔اب تم خودہی بتاؤکیامیں ان کی محفلوں میں شریک ہو سکتاہوں؟

میں نے کہادیکھومیرے ساتھ میرے بچے اورمیرے پوتے بھی آئے ہیں اورمیں بڑے فخرسے اپنی اورتمہاری دوستی کے متعلق بتاتاہوں تویہ مانتے نہیں۔ پاکستان نے اپنے بازومیرے بچوں اورپوتوں پررکھے اورکہااے بچو!تمہارے اورتمہارے ابوجیسے لوگ مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیں اورانہی جیسے لوگوں کی وجہ سے میں اب تک مملکتِ خداداد ہوں ورنہ اپنوں کی ریشہ دوانیوں کاشکارہو کرکب کاختم ہوگیاہوتا۔مجھے آج بھی یادہے جب تمہاراباپ میراایک بازوکٹ جانے کی خبرسن کرزمین پرگرگیاتھاتواس کے سرپرایک چوٹ آئی تھی تومیرے ہی دوسرے سلامت مگرزخمی ہاتھ نے اس کوسہارادیکر زمین سے اٹھایااوراس کے زخم پراپنی محبت کامرہم رکھااوریہ احساس اسی وقت پیداہوتاہے جب کسی کیلئے زندگی جیسی قیمتی چیزبھی قربان کردی جائے ۔وہ لوگ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں جوایمانداری،وفاداری اورخلوص کے ساتھ میری خدمت میں لگے ہوئے ہیں اورکسی قسم کاصلہ نہیں چاہتے۔

پاکستان نے ان کومسرت سے دیکھتے ہوئے کہاکہ بچو!میری خدمت یامجھ سے محبت کے اوربھی بے شماراندازہیں جومیں تم کوبتاناچا ہتاہوں۔لال بتی پررکنا ، قانون کی پاسداری کرنا،اپنے اختیارات کاناجائز استعمال نہیں کرنااورمظلوموں کے حقوق دلانا،یہ بھی مجھ سے محبت کے اندازہیں۔اپنے کام کو تندہی سے کرنا،میرے باباکے فرمان''ایمان،اتحاد، تنظیم'' کی پاسداری کرنااورجس منصب پرفائزہو اس کوایمانداری سے انجام دینابھی میری محبت ہے۔میری پوتی نے کہا کہ پاکستان!میں نے آج صبح اسکول میں آپ کے باباکے احسانات پرتقریرکی تھی اورمجھے یہ دیکھ کربہت افسوس ہواکہ میں جب تقریرکررہی تھی تو اسٹیج پربیٹھے بزرگ بجائے میری بات سننے کے باتوں میں مشغول ہوگئے اورمیری تقریرکے بعد جب یہ اعلان ہواکہ اب ان کی خدمت میں ایک گانااور رقص پیش کیاجائے گاتووہ خوشی کےمارے اپنی اپنی کر سیوں سے اٹھ کرکھڑے ہوگئے اورمسلسل تالیوں کے ساتھ وہ زمین پرپاؤں مارنے لگے۔

پاکستان نے سردآہ بھری اورمیری پوتی کے سرپراپنا کانپتاہاتھ رکھ کرکہابیٹی!تم صحیح کہہ رہی ہو،ہمارے بڑوں نے اپنے مقصدِحیات کارخ صحیح راہ پرنہیں ڈالاجس کے نتیجے میں ہم اپناتمدن اورثقافت،آداب واطوارفراموش کربیٹھے،پھر پاکستان نے کہابیٹا!یہ میرے بابا کی عظمت ہے کہ آزادی کی جنگ میں جہاں لاکھوں افرادقربان ہوتے ہیں انہوں نے ایک گولی چلائے بغیراورایک قطرہ خوں بہائے بغیراتنی بڑی اسلامی مملکت وجود میں لے آئے،یہ الگ بات ہے کہ فرنگی اورہندو بنئے کی سازشوں نے میرے ہزاروں بچوں کوہجرت کرتے ہوئے کاٹ دیا لیکن اس کے باوجودوہ جب مجھ سے ملے توان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔پھر پاکستان نے میرے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہابیٹا!تم استادہومگر تمہارایہ علم اورپیشہ تمہارے لئے دولت کمانے کاذریعہ نہ بنے بلکہ تمہارے ساتھیوں اوردوسرے شہریوں کیلئے باعثِ خدمت ہو،یہی تمہاری محبت کااظہار ہوگا۔پھرننھے معصوم پوتے کی طرف دیکھتے ہوئے کہاکہ یہ عمرمعصومیت کی ہے اوراس کی معصومیت کوبچانااوراس کی حفاظت کرنایہ تم بڑوں کاکام ہے۔یہ ابن الوقت لوگ جواس وقت میرے نام کی بیساکھی لیکرسیاسی میدان میں اونچااڑنا چاہتے ہیں،وہ زیادہ عرصے تک پنپ نہیں پائیں گے۔

بچو!میں تمہیں آج ایک رازکی بات بتاتاہوں کہ تمہارے ابواورداداکی محبت جووہ مجھ سے کرتے ہیں،ایک عجیب سی محبت ہے۔یہ دنیا میں جہاں جہاں بھی گئے میرے نام کوبلندہی کرتے رہے!ایک بات اوربتا دوں کہ آج صبح تمہارے ابونے اپنے تمام ساتھیوں کو کانفرنس روم میں جمع کیااورمیرے بھائی اقبال کی لکھی ایک نظم''لب پہ آتی ہے دعابن کے تمنامیری'' سب نے مل کرپڑھی،پھرہرایک نے باری باری میری تاریخِ آزادی اورلوگوں کی مجھ سے عقیدت اورمحبت کے اوپر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔محبت کایہ اظہارکسی کے زور،کسی زبردستی،کسی لالچ کے بغیرتھا،سب ساتھیوں کے چہروں پرجذبات کی حرارت،آنکھوں میں فرطِ محبت سے امڈے ہوئے آنسواورکپکپاتے ہوئے لب اس بات کی غمازی کررہے تھے کہ یہ اوران جیسے بے شمارلوگ اب بھی مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیں توبچو!تم بھی اپنے ابواوران کے ساتھیوں جیسے بنوکیونکہ تم ہی سے ان کی کل اورمیری نئی صبح وابستہ ہے۔ پاکستان کی آوازگلوگیرتھی اوروہ خاموش کھڑا اپنے باپ سے کہہ رہاتھا!

بابا!تم نے میراایک تشخص بنایا،آپ توجانتے ہیں کہ میرے وجودکویقین میں بدلنے کیلئے صدی کی سب سے بڑی ہجرت کی گئی اوراس عمل میں ہزاروں جانیں قربان ہوگئیں،دس ہزارسے زائدبچیاں توصرف مشرقی پنجاب میں لاپتہ ہو گئیں،لاکھوں افراد اپنے گھروں کوچھوڑکراس امیدپرمیرے دامن میں پناہ لینے کیلئے آئے کہ یہاں اپنے رب سے کئے گئے وعدے پرعمل پیراہوکرقرآن کونافذ کیاجائے گالیکن آج تک مجھ پرحکومت کرنے کیلئے کبھی جمہوریت کانام لیتے ہیں،کوئی''جمہوریت کوسب سے بڑاانتقام قراردیکرمیری مشکیں کس دیتاہے، کوئی میرے نام کے ساتھ ''نیا''کالاحقہ لگاکرمجھ پرسواری کاخواہاں ہے اوراس میں شک نہیں کہ تمہارے چندساتھیوں نے اس میں رنگ بھرنے کی کوشش کی اورکچھ نادانوں نے اس رنگ کواپنی حماقتوں سے مٹانے کی کوشش کی اوراب تومسلسل ڈھٹائی کے ساتھ میرے وجودکومٹانے کے درپے ہیں۔ متنازعہ کشمیر جس کو تم نے میری شہ رگ قرار دیا تھا،پچھلی سات دہائیوں سے جانوں کی بے مثال قربانیاں دیکراپنے عزم صمیم کوثابت کردیاہے بلکہ اب پچھلے تین ہفتوں سے بدترین ظلم وستم کانشانہ بن رہے ہیں کہ بھارتی درندے پیلٹ گن کے چھروں سے براہِ راست نوجوانوں کو شکارکررہے ہیں لیکن مجھ پرحکومت کرنے کیلئے اغیارکے احکام کے اس قدرتابعدارہیں کہ دشمن کی دہشتگردی کے تمام شواہد کے باوجوداس سے ایسے مرعوب ہیں جس نے میری غیرت وحمیت کوتارتارکر دیاہے۔بابا!مگر اب بھی بہت سے لوگ(سیدعلی گیلانی کی قیادت میں)میری محبت میں تن من دھن کی بازی لگانے کیلئے تیارہیں اورجنت نظیر میں بیٹھ کر''ہم ہیں پاکستانی،پاکستان ہماراہے'' کے فلک شگاف نعرے لگاکرمجھ سے پرخلوص محبت کانہ صرف اظہارکرتے ہیں بلکہ پیرانہ سالی میں صعوبتوں کامقابلہ بھی بڑی پامردی سے کررہے ہیں۔بابا!میری ایک بہادردخترآسیہ اندرابی بھی ہے جوہرسال میری سالگرہ بڑے پرعزم طریقے سے مناکرمیرے وجودکی گواہی دیتی ہے مجھے امید ہے میرانام،میری شناخت انشاءاللہ ختم نہیں ہو سکتی!

پھر پاکستان نے اپناآنسوؤں سے ترچہرہ اٹھایا،میرااورمیرے بچوں کاہاتھ پکڑا،ہم نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرپاکستان پائندہ باداورقائداعظم زندہ بادکے پرجوش نعرے لگائے،قومی ترانہ پڑھ کرمزارسے باہرآئے۔ سب نے باری باری پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملایااورتجدیدِعہدکرکے ہم لوگ اپنے گھر کوواپس ہوئے۔
(پاکستان پائندہ باد)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 225681 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Aug, 2016 Views: 326

Comments

آپ کی رائے