سیلف میڈ

(aina syeda, Karachi)
ہم پاکستان میں ہوں یا اپنی قسمت سنوارنے بیرون ملک چلے جائیں مگر ہماری فطرت میں جو دوہرا میعار ہے جسے ہم دوسروں کے لیے " منافقت " اور اپنے لیے مصلحت کہتے ہیں ، وہ ہمیں کہیں بھی نہیں چھوڑتا ایک صاحب کی "آپ بیتی " جو تقریبا ہر پہلے پاکستانی نہ سہی تو دوسرے پاکستانی پر ضرور چسپاں ہوسکتی ہے
میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں .میری کہانی سچی ہے اور آپ سے میری مماثلت اتفاقیہ ہے-

میرا تعلق پنجاب کے ایک چھوٹے شہر سے ہے.میرے والدین سیدھے سادے دیہاتی تھےمیں تین بھائیوں اورتین بہنوں پر مشتمل بڑےکنبے کا فرد ہوں-

اس وقت تو میری عمر 63 سال ہے مگر جب اچھے مستقبل کے خواب دیکھنا شر و ع کیۓ تو میں صرف 19 سال کا تھا لیکن تین سال کے اندر اندر میں نے اپنے خوابوں کو سچ کرنے کے لیے اپنا وطن پاکستان چھوڑ دیا -

٢٢ برس کی عمرتھی جب میں نے "سیلف میڈ " بننے کی ٹھان لی .آج بھی میں اپنے حلقے میں ایک کامیاب سیلف میڈ اوورسیز پاکستانی کہلاتا ہوں. یہ الگ کہانی ہے کہ پردیس تک پہنچنے کا خواب پورا کرنے کے لیے میں نے اماں کے زیور اور ابا کی چھوٹی موٹی زمین بیچی ،اپنے دوست کما لے کے ٹریولنگ ایجنسی والے چاچا سے دو نمبر ویزہ لگوایا آپا کے ہمسا یۓ ریاست اللہ کےشہر والےگھرمیں دو ہفتے قیام کیا ،خلیل ماما سے ادھار لیا اور آپا کا زیور گروی رکھوا کر ٹکٹ اورکرنسی جیب میں ڈالی بیرون ملک پہنچنےپرمردان کے ارشد خان کی سفارش پرگیس اسٹیشن کی نوکری ہاتھ میں کی اور اسی ارشد خان کی منت سماجت پرمجھے ایک ٹیکسی بھی چلانے کومل گئی لائسنس حاصل کرنے کی آسان ترکیب گیس اسٹیشن پر کام کرنے والے عربی بھائی حبیب نے بتائی اس دوران شکار پور والے اختر سومرو نے مجھے اپنے کمرے میں مفت رہائشش دی اور اپنی لینڈ لیڈی کو یہ کہہ کر رام کر لیا کہ میں اسکا بھائی ہوں اور کچھ دن کے لیے سیر کرنے آیا ہوں میں ٹیکسی ڈرائیونگ میں بہتر ہوگیا اور ایک ہفتہ بعد ہی مجھے پہلی دھاڑی موصول ہوگئی. آ ٹھ دس مہینے میں نے ٹیکسی چلائی اس دوران ایک کمپیوٹر ادارے میں داخلہ لیا اور وہاں سے کچھ ضروری کورسز کر لیے میں ذہین تھا اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنانا چاہتا تھا مگر اسکے لیے میرا غیر ملک میں رہنا ضروری تھا-

ایک سال بعد اختر سومرو نے اپنے دوست شجاعت ملتانی سے سفارش کروا کر مجھے ایک ریسٹورینٹ میں نوکری دلوادی میں نے ریسٹورینٹ کے قریب ایک اسٹوڈیو میں بسیرا کر لیا میرا وزٹ ویزہ ختم ہوچکا تھا اور میں یہاں غیر قانونی طور پر نوکری کر رہا تھا سو میں نے چھپ کر زندگی بسر کرنے کی بجاۓ ریسٹورینٹ میں کام کرنے والی ڈورتھی سے دوستی کر لی ،اپنی منزل پانے کے لیے میرے ارادے مضبوط تھے سو یہ کوئی بہت مشکل کام نہ تھا-

ڈورتھی بس ایک عام سی لڑکی تھی ،کچھ خاص نہ تھی عقل میں نہ شکل میں.... ہاں مال میں مجھ سے بہتر تھی اس لیے کہ دو تین جگہ کام کرتی تھی خیروہ میری ضرورت تھی اس لیے اس وقت " اہم " بھی تھی سومیں نےاسکو محبت اورشادی دونوں پرراضی کرلیا گو کہ ڈورتھی کی سگی ماں اور سوتیلا باپ اپنی بیٹی کی ایک مسلمان اور پاکستانی سے شادی کے خلاف تھے مگر میری محبت "جیت " گئی اور ڈورتھی نے" بغاوت" کرتے ھوۓ مجھ سےشادی رچا لی وہ بھی اس سے پہلے کہ میرےغیرقانونی قیام کی وجہ سے پولیس مجھ پر ہاتھ ڈالے. ڈورتھی سے شادی نے مجھے ایک قانونی شہری بنا دیا تھا-

ڈورتھی کی ماں ایک بہترین ادارے میں ٣٠ سال سے کام کرتی تھی اسی کی سفارش پرمجھے اچھی نوکری مل گئی خدا نے اس دوران مجھے دو بیٹوں سے نوازا یوں میرا خواب تکمیل کے مراحل میں پہنچ گیا.آج میرے پاس ایک سجاسجایا گھر، نئے ماڈل کی گاڑی ،اچھا کاروبار،گوری بیوی اوردوبیٹے ہیں -

ڈورتھی چاہتی تھی کہ ہمارے یہاں ایک بیٹی ہو کیونکہ یہ ڈورتھی کا خواب تھا مگر میں ایسا نہیں چاہتا تھا میں اس ماحول میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ میری بیٹی بھی کل کو ڈورتھی کی طرح کسی لڑکے کے لیے میرے سامنے کھڑی ہو جاۓ-

سو میں نے ڈورتھی کو اپنا یہ خواب پورا کرنے نہ دیا لیکن مجھ پر خدا کا یہ فضل رہا کہ میرا ہر خواب پورا ہوا اور کیوں نہ ہوتا میں ایک " سیلف میڈ " انسان ہوں اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے میں نے کسی امداد ،سفارش ، اقربا پروری رشوت وغیرہ کا سہا ر ا نہیں لیا بلکہ اپنے قوت بازو اور ذھانت سے ہر مرحلہ طے کیا-

آج بھی جب میں کسی نئے نئے تا رک وطن پاکستانی سے ملتا ہوں تو اپنی کامیابی کا یہی راز بتاتا ہوں کہ میں ایک آزاد جمہوری ملک میں رہنے والا "سیلف میڈ " شخص ہوں جس نے کسی کے سامنے امداد ، سفارش کے لیے ہاتھ نہ پھیلایا نہ ہی پاکستان کی طرح مجھے غیر قانونی حربے اختیار کر کے کامیاب ہونا پڑا،میں نے اس جمہوری ، آزاد ملک میں رہ کر دوسروں کے حقوق بھی پورے کیے اور اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کیں-

میں پاکستانیوں کو کہتا ہوں کہ اگرآج میں پاکستان میں ہوتا تو سفارش ، اقربا پروری اور جھوٹ کی وجہ سے اپنے خواب کبھی بھی پورے نہ کر سکتا اور نہ ہی دوسروں کے حقوق ادا کرسکتا-

میں نے محنت کی اور اپنے زور بازو سے یہاں تک پہنچا مجھے یقین ہے کہ اگر پاکستان میں ڈنڈے کی حکومت ہو تو لوگوں کو سفارش جھوٹ، اقرباپروری ، کرپشن ،رشوت ستانی اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی ہمت ہی نہ ہو-

اچھا میں ایک فون سن لوں پھر آپ کو اپنی کامیابی کی مزید داستانیں سناتا ہوں
!! ہیلوکون ؟جی نہیں نام سے نہیں پہچانتا"
!کون ؟ راشد خان کون ؟ اچھا وہ ٹیکسی ڈرائیور نہیں مجھےکچھ خاص علم نہیں
سومرو؟ ہاں یہ کچھ سنا سا نام لگ رہا ہے اچھا ہاں اختر سومرو ! نہیں جاننے والاتو نہ تھا بس آتے جاتے سلام د عا ہو جاتی تھی کافی پرانی بات ہے
جی ایسا ہے کہ میں ذرا مصروف ہوں سب کچھ مجھے ہی سنبھالنا ہوتا ہے آخر اتنی محنت کی ہے یہاں تک پہنچنے میں کاروبار کو وقت تو دینا ہی ہوتا ہے-

یوں کرتے ہیں باہر ملتے ہیں پھر آپکے مسلۓ کا کچھ کرتے ہیں ... وہ آپ فکر نہ کریں چالیس سال میں اس ملک کا قانون اتنا تو سمجھ آگیا ہے کہ اچھی "جوگاڑ " لگا لوں گا بندے بھی آپ تک پہنچ جائیں گے اور ٹیکس کو تو بھول جائیں-

..... بس پھرمیرے کمیشن کی بات پکی کریں اگلی ملاقات پر
اوکے پھر ملتےہیں اس ویک اینڈ پرمڈ نائیٹ کلب میں ! اللہ حافظ
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: aina syeda

Read More Articles by aina syeda: 38 Articles with 40088 views »
I am a teacher by profession, a writer by passion, a poet by heart and a volunteer by choice... View More
16 Aug, 2016 Views: 808

Comments

آپ کی رائے
ہر دوسرے تو نہیں مگر بہت سے پاکستانیوں کی یہ کہانی ہے کہ ماں کا زیور بہنوں کا جہیز اور باپ کی زمین یا دوکان بکوا کر بیرون ملک پہنچتے ہیں ۔ پھر جو غیر قانونی طور سے مقیم ہوتے ہیں ان کی زندگی کسی دھوبی کے کتے والی ہوتی ہے ۔ انہیں کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں ملتی کم تنخواہ پر گھٹیا سے گھٹیا کام بھی چوروں کی طرح چُھپ کر کرتے ہیں گاڑی نہیں چلا سکتے ۔ جہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہوتی وہاں سواری لینے کے لئے انہیں کسی مقامی یا قانونی ہموطن کی خوشامدیں کرنی پڑتی ہیں ۔ اسکی بے اعتنائی یا سردمہری کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ اور پھر ان کٹھنائیوں سے دلبرداشتہ ہو کر نجات کا واحد راستہ وطن واپسی نہیں بلکہ کسی مقامی خاتون سے شادی ہی کی صورت میں نکلتا ہے ۔ مگر امتحان ختم نہیں ہوتا ۔ اب اپنا مطلب پورا ہونے تک اس گوری سے ہر ناگوار ترین ماحول میں بھی اس سے بنا کر رکھنا ہوتا ہے بلکہ کسی کتے ہی کی طرح اس کے آگے پیچھے دُم ہلانا پڑتا ہے ۔ پھر جناب ایسی بھی کوئی شام ہے کہ جس کی سحر نہیں ۔ اس گوری آقا کے طفیل جب دیار غیر کی شہریت حاصل ہو جاتی ہے تو اسے لات مار کرکھسکنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے ۔ مگر کچھ لوگ اس رشتے کو تا دیر نبھاتے ہیں ۔ زندگی بھر ساتھ نبھنے کی مثالیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Aug, 17 2016
Reply Reply
1 Like
آپ نے تو ایک اور سچی کہانی لکھ دی
بہترین کمنٹ اور بلاگ پڑھنے کا شکریہ
By: aina syeda, Karachi on Sep, 01 2016
0 Like