سجد ہ شکر کے بجائے ’’ پش اپس‘‘

(Riaz Aajiz, Karachi)
انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ جیتے نے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے اﷲ تعالی کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کی رویت کو ترک کر کے پہلی بار جیت کے موقع پر پش اپس لگائے۔ مجھے بہت عجیب لگا۔ میں حیران تھا کہ جیت کے موقع پر اﷲ تعالی کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ یہ نجانے کے کے کہنے پر کیا جا رہا ہے اور نوجوانوں سمیت پوری قوم کو کس کام پرلگا رہے ہیں ؟ خوشی میں انسان جھومتا ہے ، رقص کرتا ہے لیکن پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں تو معاملہ بالکل الٹ ہورہا ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ میڈیا نے جیت کے موقع پر کسی احمق مشیر کی طرف سے پش اپس لگانے کے مشورے کو بغیر سوچے سمجھے اتنا زیادہ پروموٹ کیا کہ اب ملک کے نوجوانوں اور بوڑھوں کی ایک بڑی تعداد چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو، پش اپس لگارہی ہے۔راقم الحروف نے ایک نوجوان دولہا کو نکاح کے فوراً بعد پش اپس لگاتے دیکھا۔ اس کے کئی مطلب نکالے جا سکتے ہیں لیکن میری قارئین سے درخواست ہے کہ دولہا کے پش اپس کا کوئی دوسرا مقصد نہ نکالیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے نکاح ہونے کی کامیابی پر اﷲ تعالی کا شکر ادا کرنے کے بعد پش اپس لگائے ہوں۔ اسی طرح ایک 80برس کا ضعیف العمر شخص بھی اپنی65برس کی بیوی کے سامنے پش اپس لگاتا پایا گیا۔ ا س بیماری کے تازہ تازہ متاثر کچھ نوجوان نماز پڑھنے سے قبل پش اپس لگا تے ہوئے نظر آئے۔ ایک اسکول ٹیچر کلاس لینے قبل سے اور کلاس لینے کے بعد پش اپس لگاتے دکھائی دئیے۔ ان صاحب کو کب کامیابی ملی، کلاس لینے سے پہلے یا کلاس لینے کے بعد، یہ معاملہ ابھی تحقیق طلب ہے۔پیٹرول پمپ پر پیٹرول بھرنے والے کئی نوجوانوں کو ہر گاڑی میں سی این جی اور پیٹرول بھرنے سے پہلے پش اپس لگاتے دیکھا گیا۔ ایک خاتون گھر میں روٹی پکانے اور آٹا گودندھنے سے پہلے پش اپس لگاتی پائی گئیں۔ایک بیوٹی پارلر میں کچھ خواتین دولہن کا میک اپ کرنے سے پہلے پش اپس کرتی دکھائی دیں۔ایک سبزی والے نے صبح اپنے نرخ نامے پر سبزیوں کے دام تحریر کرنے سے پہلے پش اپس لگائے۔یہ کس کے لئے پیغام تھا قارئین بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ ابھی یہ تماشا جاری ہی تھا کہ ایک اور خبر میڈیا پر آ گئی کہ سندھ کابینہ میں شامل ہونے والے وزیر کھیل محمد بخش مہر نے پنجاب کابینہ کو پش اپس لگانے کا چیلنج کرتے ہوئے 50پش اپس لگائے اور ان کی با قاعدہ ویڈیو بھی بنوائی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر موصوف کا کہنا تھا’’ میں پنجاب کابینہ کو چیلنج کرتا ہوں کہ ان کا کوئی بھی وزیر 50پش اپس لگا کر دکھائیں‘‘ ۔انھوں نے کہا کہ وہ خود بھی فٹ ہیں اور اپنی وزارت میں کوئی بھی ان فٹ کھلاڑی قبول نہیں کروں گا۔جواب میں وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے سندھ کے وزیرکھیل محمد بخش مہر کا50پش اپس کا چیلنج قبول کر لیا۔پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ میں محمدبخش مہر کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ 50پش اپس کے ساتھ ساتھ 100کلو گرام وزن بھی اٹھائیں اور 45منٹ یوگا میں بھی ان کا (عابد شیرعلی کا) مقابلہ کر لیں۔ انھوں نے کہا کہ محمد بخش مہر کو پتہ چل جائے کہ کون زیادہ فٹ اور تندرست ہے۔انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ 45منٹ یوگا کرنے اور 100کلو وزن اٹھانے کے بعد وزیر کھیل سندھ پش اپ کے قابل ہی نہیں رہیں گے۔ دونوں وزیروں کے درمیان یہ دلچسپ مکالمہ سن کر اور دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے وزراء کے پاس تمام کام ختم ہو گئے ہیں اور اب مقابلہ صرف پش اپس کا ، وزن اٹھانے کا اور یوگا کرنے کا رہ گیا ہے۔ یہاں میں بہت ہی اہم سوالات قارئیں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ محمد بخش مہر پنجاب کابینہ کو کیوں چیلنج کر رہے ہیں اگر وہ یہ چینلج پندرہ بیس دن پہلے سندھ کے وزیر اعلی سید قائم علی شاہ کودیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔محمد بخش مہر کو پنجاب کابینہ کو چیلج کرنے سے پہلے سندھ کی حالت زار پر ضرور ترس کھانا چاہیے تھا کہ جہاں پیپلزپارٹی نے آٹھ برس تک سندھ میں ایک ایسے وزیراعلی کو مسلط رکھا جو شاید 10پش اپس لگانے کے قابل بھی نہیں ہے۔ سندھ کابینہ میں اب بھی نثار کھوڑو ، منظور وسان اور مولا بخش چاندیو جیسے وزیر و مشیر شامل ہیں کہ جو 20پش اپس بھی نہیں لگا سکتے۔ محمد بخش مہر کو یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے انسان کا جسم کمزور ہوتا ہے لیکن اس کا تجربہ بڑھتا ہے لہذا اس کی عقل میں وسعت آتی ہے۔محمد بخش مہر کے خاندان کے بزرگ اگر 50پش اپس نہ لگا سکیں تو اس کا ہر گز مقصد یہ نہیں کہ محمد بخش مہر ان سے عقل و دانش میں بھی زیادہ افضل ہیں۔یہ محمد بخش مہر کی عقل دانش کی کمی ہی تو ہے کہ انھوں نے جسمانی طاقت کے زعم میں پنجاب کابینہ کو پش اپس لگانے کا چلنج کیا۔ اگر وہ دانشمند اور تجربہ کار سیاستدان ہوتے تو وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر پنجاب کابینہ کو چیلج کرتے۔ وزیر کھیل ہونے کا ہرگز مقصد یہ نہیں ہوتا کہ خود کھیل کود شروع کر دیا جائے۔ وزیر کھیل کو بھی فکر و دانش کا حامل ہونا چاہیے کہ جو نوجوانوں میں کھیلوں اور اسپورٹس کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے نئے نئے منصوبے بنائے اور ان پر عملدآمد کرے تاکہ صوبے کا ایک سافٹ امیج دنیا کے سامنے آئے۔ جہاں تک وزیر مملکت عابد شیر علی کا تعلق ہے تو انھوں نے تو ماضی میں کئی بار ثابت کیا ہے کہ انھیں محض مخالفین کوجواب دینے اور بد کلامی کے لئے کابینہ میں رکھا گیا ہے چاہے ان کا جواب بے تکا اور بے محل ہی کیوں نہ ہو۔عابد شیر علی جیسے لوگ کہ جو بہت زیادہ پڑھے لکھے بھی نہیں، صرف اپنی قیادت کو خوش کرنے اور خوشامد کرنے کے لئے بہت سی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔اب میں اگر عابد شیر علی 100کلو وزن اٹھانے کاچیلنج کرنے سے پہلے اپنی پارٹی کے قائد اور ملک کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ہی دیکھ لیتے کہ جو پہلے دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں،وہ 100کلو تو درکنار، پچاس کلو ہی وزن اٹھا نے اور 45منٹ کے بجائے صرف10منٹ ہی یوگا کرنے کے قابل بھی ہیں۔ عابد شیر علی کی نظر سرتاج عزیز پر کیوں نہیں گئی کہ جو 50کلو بھی چھوڑئیے25کلو ہی وزن اٹھانے اور پانچ منٹ یوگا کرنے کے بھی قابل ہیں۔کیا کسی کے وزیر یا مشیر ہونے اور پرفارمنس دکھانے کا یہی معیار ہوتا ہے؟ آخر میں کرکٹ ٹیم کر کرتا دھرتاؤں سے گزارش ہے کہ وہ فتح کے موقع پر سجدہ شکر ادا کرنے کے بجائے پش اپس لگانے کے غیر دانشمندانہ ، غیر منطقی اور غیرسنجیدہ فیصلے پر ایک مرتبہ پھر نظر ثانی کریں اور کرکٹ ٹیم کو ان کا وقار واپس کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 41489 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2016 Views: 501

Comments

آپ کی رائے