زندہ باد کے نعرے لگانے والے ہی مجرم ٹہرے ہیں۔

(M.P Khan, Buner)
الطاف حسین نے لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں ایسی ہرزہ سرائی کی کہ ہرپاکستانی کے دل میں غیظ وغضب کاطوفان برفاہوا ہے اوراس پرمستزادتقریرسننے کے لئے مختلف مقامات سے آئے ہوئے وہ لوگ ہیں، جو ہمہ تن گوش اپنے الطاف بھائی کی تقریرکاایک ایک لفظ اس انہماک کے ساتھ سن رہے تھے،جیسے لندن سے نوائے سروش ہورہی ہو ،جواس مجمع کے مرد اورخواتین کے لئے ایمانی طاقت کاسرچشمہ ہو۔الطاف حسین نہ جانے، کس کیفیت میں تھے، اس کے اوپر حب الوطنی کاجذبہ غالب آیاہے یااسکے اندرکی حقیقی وطن دشمنی آشکارہ ہورہی ہے ، جوش خطابت میں ’’پاکستان مردہ باد، پاکستان مردہ باد‘‘ کی دلخراش صدائیں لگاتارہا اورمجمع پورے اداب کے ساتھ سنتارہا۔۔۔

الطاف حسین نے توبہ بانگ دہل اپنے مذموم عزائم کااظہارکردیالیکن انکی طرح اوربھی بے شمارپاکستانی ہیں ،جو ریاست کے تمام وسائل پر قابض ہیں اورسترسال سے وطن عزیز کی تباہی اوربربادی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔جن کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ جو علاج کے لئے بیرون ملک جاتے ہیں ۔جنہوں نے قومی خزانے کو لوٹ لوٹ کربیرون ملک جائدادیں بنائی ہوئی ہیں۔جنہوں نے تمام سرمایہ کاری پاکستان سے باہرکی ہوئی ہے اورجن کی وجہ سے وطن عزیز تباہی کے دہانے پر کھڑاہے۔جن کی وطن دشمنی کے کتنے ثبوت منظرعام پرآئے اورمٹ گئے۔جنہوں نے تعلیم اورصحت کی دکانیں کھولی ہوئی ہیں اوردرستی کتب اورادوایات روبروز مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔جواپنے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹ سجاکروطن سے محبت کااظہارکرتے ہیں ، لیکن انکے اندروطن دشمنی کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے ، جس کااظہارانکی زبان سے ہوتارہیگا۔ آج غداران وطن کے ایک قائد کی زبان سے ’’مردہ بادپاکستان ‘‘ کے الفاظ نکلے ۔رفتہ رفتہ اصل مجرموں کی پہچان ہورہی ہے ۔سرعام جرم کے مرتکب ہونے والے ، سزاکے مستحق ہیں اورغداران وطن کسی قسم کی رعایت کے حقدارنہیں۔

دوسری طرف وہی لوگ ہیں جن کے بچوں کے لئے سکولوں کے دروازے بندہیں۔جن کوگھرکی چھت کے نیچے رہنے پر تاحیات پابندی ہے۔جن کو پاکستان کے ہسپتالوں میں علاج کے خواب دیکھنے کی بھی اجازت نہ ہے۔جنہیں نہ دوقت کاکھانامیسرہے اورنہ انکو پینے کیلئے پانی دستیاب ہے۔جن کے بچے دوپہر کی تپتی دھوپ میں نیم عریاں شہرکی سڑکوں کے کنارے کوڑے اورکچرے کے ڈھیراس لئے کریدتے ہیں کہ کہیں انہیں ایک وقت کے رزق کاسراغ مل سکے۔کئی کئی بستیاں ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہیں ، جنہیں دیکھ کر یوں اندازہ ہوتاہے کوئی افریقہ کے دورافتادہ غریب ملک میں پھررہاہو۔معمولی تیزہوائیں چلتی ہیں ، توان سے خشگ گھاس اورچیتھڑوں سے بنی ہوئی چھت بھی چھین لیتی ہیں۔گرمی کی شدت بڑھتی ہے ، توصحراکے تپتے ہوئے ریگستانوں میں کسی سایہ داردرخت اورشدیدپیاس کی حالت میں پانی کی تلاش میں دیوانوں کی طرح سرپٹ دوڑتے پھررہے ہیں۔جوبرقی پنکھے اورفریج کے ٹھنڈے پانی کاتصوربھی نہیں کرسکتے ۔ جنکے لئے روزگارکے دروازے بندہیں اورجنکی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے ریاست نے مکمل دستبرداری کاارتکاب کیاہے۔لیکن وہ ہیں کہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشارہروقت پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہتے ہیں۔یوم آزادی کے موقع پرانکی جونپڑیوں پرقومی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ انکے معصوم چہروں پروطن دوستی اوروطن سے محبت کے اثارصاف دکھائی دیتے ہیں۔ تحریک آزادی میں ایسے ہی لوگوں نے بے شمارقربانیاں دی ہیں ، لیکن کاش ۔۔۔آج ہماری نئی نسل تاریخ کے اس دردناک باب کو پڑھنے کی زحمت نہیں کرتی۔آج بھی وطن عزیز کی سلامتی ، عزت اورساکھ کی خاطرہرقسم کی تکالیف خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں ، لیکن کبھی انکے منہ سے ایک لفظ ایسانہیں نکلتا، جس سے شکوے کااظہارہویاجس سے اﷲ کی دی ہوئی نعمت کی ناشکری ہوجائے۔اپناخون پسینہ ایک کرکے سارادن کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور وطن عزیزکو سرسبزوشاداب اور پھل پھولوں سے مالامال کردیتے ہیں۔شہرکے بلند وبالا عمارتوں کی ایک ایک اینٹ ایسے لوگوں کے پسینے اورہاتھوں کے چھالے پھٹنے سے ترہوکر لگی ہوئی ہے۔یہی لوگ کارخانوں اورملوں میں دن رات ایک کرکے سرمایہ داروں کو دولت فراہم کرتے ہیں۔بدبودارنالیوں میں اورمتعفن کوڑے کے ڈھیروں میں سرسے پاؤں تک ڈوبے ہوئے ، وطن عزیز کے شہروں ، بستیوں اورگلی کوچوں کوصاف کرتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ہروقت سرپر کفن باندھ کرتیاررہتے ہیں ، پھرانکے ساتھ یوں دشمنی اورعداوت کیوں؟۔۔۔کس جرم کے سزاوارٹہرے ہیں یہی سچے محب وطن پاکستانی۔۔۔؟یہی مظلوم لوگ بادشاہ وقت کے دربارمیں یہی فریادکرتے ہیں:-
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمربھی
اے نامہِ براندازچمن کچھ توادھربھی

اب وقت ہے کہ وطن دوستوں اوروطن دشمنوں کی نشاندہی کی جائے اورجو لوگ سچے محب وطن ہیں ، انکی زندگی آسان بنادی جائے اورملکی وسائل سے انکو بھی مستفید ہونے کاحق دیاجائے ۔انکے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے اورانہیں علاج معالجے کی سہولتیں میسرہوں، کیونکہ یہی لوگ پاکستان کاسرمایہ ہے۔۔۔۔اورہمیشہ دل سے یہی کہتے ہیں۔۔۔کہ ۔۔پاکستان زندہ باد۔۔پاکستان زندہ باد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MP Khan

Read More Articles by MP Khan: 100 Articles with 51481 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2016 Views: 343

Comments

آپ کی رائے