ادب پہلا قرینہ ہے...

(Nighat Qayyuoom, )
آج اپنی ایک سہیلی کی طرف جا نا ہوا جو کہ گہر پہ بچوں کو قران پاک کے علم سے آراستہ کرتی ہے. تو وہاں میں نے ایک عجیب منظر دیکہا. شائد میرے لیے عجیب ہو باقی سب تو ہو سکتا ہے دیکہتے ہوں گے اپنے ارد گرد.

اور وہ یہ کی وہاں بچے اور بچیاں قران کریم اور قرانی قائدے فرش پہ بیٹھ کر پڑھ رہے تہے. اور وہ چونکہ با قائدہ مدرسہ نہیں بلکہ ایک گہر تہا تو گہر کی ایک دو عو رتیں ا ن کے سامنے کرسی اور چارپائی پہ براجمان تہی. بچے اپنے قائدے کبہی زمین پر پاؤں کے برابر رکھ لیتے اور کبہی اٹھا کر گود میں. تب میں نے اپنی سہیلی سے کہا کہ تم یہ سب نہیں دیکھ رہی کیا، کہ بچے کیسے قران پاک کی بے ادبی کر رہے ہیں.

اور یہ عورتیں بہی کیسے بے ادبی سے قران کریم کے سامنے قران کریم سے اونچی جگہ پہ براجمان ہیں.. یہ تو سرا سر بے ادبی ہے.

تو اس نے جواب دیا کہ میں بچوں کو سمجہاتی تو ہوں کہ قران پاک کو نیچے نہ رکہا کرو لیکن! آخر بچے ہیں نہیں سمجھ سکتے اور جہاں تک قران پاک سے اونچے ہو کہ بیٹہنے کی بات ہے تو ادب دل میں ہونا چا ہیے ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا.

تب میں نے کہا کہ میں ہر گز ر تمہاری اس بات سے اتفاق نہیں کرتی ہوں. کیو نکہ! میرا ماننا ہے ادب اگر دل میں ہو تو واضح بہی ہونا چہیے. وہ اس لیے کہ، ادب ہی انسان کو بنا نے اور بگاڑنے میں معاون کردار ادا کرتا ہے، مولانا انور شہ کاشمیری جیسے لوگ جن کے حافظے کی لوگ مثالیں دیا کرتے ہیں اور ان کے بارے میں پڑہا اور سنا ہے کہ جب وہ ایک بار کوئی کتاب پڑھ لیتے تو کبہی بھولتے نہیں تہے. بلکہ، وہ کتابیں ان کو حفظ ہو جاتی تہی.

ان کے بارے میں ایک واقعہ ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ان کو عدالت جانا پڑا تو وہاں انہوں نے ایک کتاب کا یوں حوالہ دیا کہ اب سے قریبا 30 سال پہلے میں نے ایک کتاب پڑہی تہی اور اس کہ فلاں صفحے کی فلاں سطر میں یوں لکہا تہا. جب وہ کتاب منگوا کر دیکہی گئی تو بالکل یونہی لکہا تہا.

وہ بازار سے بہی گزرتے تو کانوں میں انگلیاں ڈال کر کان اس لیے بند کر لیا کرتے کہ کہیں با زار میں جو گانے چل رہے ہوتے وہ یاد نہ ہو جائیں. ایسا کمال حافظہ ہونے کا جب ان سے سبب پوچہا گیا تو انہوں نے بتایا.

کہ یہ مجہے ادب کی وجہ سے عطا ہوا ہے. کیوں کہ میں نے کبہی حدیث کی کتاب قران پاک کے اوپر نہیں رکہی اور کبہی حدیث کی کتاب پہ فقہ کی کتاب نہیں رکہی. اور ہمیشہ اپنے اساتﺫہ کے احترام کا خاص خیال رکہا. ہمارے بہت سے اکابرین کے بارے میں یہ بہی پڑہا ہے کہ وہ مدینہ طیبہ میں بنا جوتوں کہ گہوما کرتے تہے اس ادب کی وجہ سے کہ کہیں ہمارا پاؤں ایسی جگہ نہ پڑ جا ئے جہاں کبہی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا قدم مبارک رکہا ہو.

اما م شا فعی رحمۃ اللہ کے بارے میں ہے کہ وہ کبہی اس طرف پاؤں کر کے بیٹہتے یا لیٹتے نہیں تہے جس سمت ان کے استاد کا گہر تہا. ایسے بے شمار واقعات سے تا ریخ بہری پڑی ہے جو بیان کرنے کے لیے سینکڑوں کتابیں بہی کم پڑ جا ئیں.

اور یہ ادب کا ہی کرشمہ تہا جس نے ان ہستیوں کو وہ مقام عطا کیا کہ دنیا سے جانے کے بعد بہی وہ ہمارے دلوں میں زندہ و جا وید ہیں. ایک آدمی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بہت مفلوک الحال اور تعلیم سے بے بہرا تہا کہ راستے میں چلتے ہوئے اسے کا غز کا ایک ٹکڑا زمین پہ پڑا دکہائی دیا جب اس نے اٹہا کر دیکہا تو اس پہ کچہ لکہا ہوا ہے. وہ بس اتنا سمجھ سکا کہ یہ کوئی عربی عبارت ہے، تو اس نے ادہر ادہر اسے رکہنے کے لیے نگہ دوڑائی جب اسے اس کے شایان شان کوئی محفوظ جگہ دکہا ئی نہ دی تو جیب میں ڈال لیا.

بس پہر کیا تہا اس آدمی کے دیکہتے ہی دیکہتے حالات بہتر سے بہتر ہوتے چلے گئے اور وہ شہر کا امیر کبیر آدمی بن گیا.

اس سے ایک دن کسی نے یوں دنوں میں حالات بدلنے کا دریافت کیا تو وہ بولا اور تو معلوم نہیں مجہے تو یہ سب اس کاغﺫ کے ٹکڑے کی بدولت لگتا ہے جو راستے میں پڑا ملا تہا اور میں نے احترام سے اٹہا کر جیب میں رکھ لیا.

تب اسے اس آدمی نے وہ دکہانے کو کہا جب دیکہا تو اس پہ یہ عبارت کندہ تہی. بسم اللہ الرحمن الرحیم.. تب اس آدمی نے اسے پڑھ کر سنائی. حا لانکہ وہ ان پڑھ تہا ان عظیم الشان الفاظ کہ مطلب اور معانی سے نا آشنا ہونے کے با وجود اس نے احترام کیا. جبکہ ہم لوگ علم کے با وجود عمل سے خالی ہیں.

اور شائد علم کے یوں عام ہونے نے ہی ہمارے دلوں سے اس کے ادب اور قدر کو گہٹا دیا ہے.

اسی لیے مقدس اوراق جگہ جگہ بکہرے ملتے ہیں. ہر اخبا ر اور میگزین پہ قرآنی آیات اور احادیث درج ہوتی ہیں. اور وہ سڑکوں پہ بکہرے ہوتے ہیں. یا ان میں پکوڑے اور تندور کی روٹیاں لپیٹ کر بیچی جا رہی ہوتی ہیں..

تب میں نے اپنی سہیلی کو یہ سب سمجہانے کہ بعد کہا دیکہا بہنا اب تم خود سمجہدار ہو کہ ادب کتنا ضروری ہے،

اس لیے بچوں کو قرآن کریم کا علم منتقل کرنے کے ساتھ ساھ اللہ رب العزت کے اس عا لیشان کلا م کا ادب بہی سکہانابہی بے حد ضروری ہے. وہ اس لیے کہ جب تک علم نہ ہو عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا اور ادب نہ ہو تو عمل کچھ فائدہ نہیں دیتا.

محبت تبہی قابل قدر ہے جب اس میں ادب کا رنگ بسا ہو..
کیونکہ..!
پہر اس کے بعد ساری منزلیں طےہوتی جاتی ہیں،
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں....
از قلم
بنت عبدالقیوم
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nighat Qayyuoom

Read More Articles by Nighat Qayyuoom: 7 Articles with 4115 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Aug, 2016 Views: 950

Comments

آپ کی رائے
MashAllah bht ei khobsurat tehrir hy
Adab ka darwaza hy ei itna chota ky
Is mai sy guzrnu k ly phly jhukna parta hy
By: Junaid malik, Gujrat on Oct, 19 2016
Reply Reply
0 Like
Ma Sha ALLAH i'm glad to see that still there exist some people like u in this world.. Jo Respect k liye is qadar sanjeeda hein ... Respect ... :)
By: Ed Ward, Karachi on Aug, 27 2016
Reply Reply
0 Like