قضائے حاجت اور سنّت نبوی صلی اللہ علیہ و سلّم

(Muhammad Rafique Etesame, Ahmedpureast)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں ہمارے آقاحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ رو بیٹھنے سے منع کیا ہے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے اورتین ڈھیلوں سے کم اور ہڈی اور گوبر سے استنجاء کرنے سے منع کیا ہے(صحیح مسلم)

لہٰذ سنّت نبوی ﷺ یہ ہے کے قضائے حاجت کے وقت نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ کرے بلکہ شمالاً جنوباً بیٹھے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کر ے بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے(مگر معذور کیلئے رخصت ہے) اور گوبر اورہڈی سے استنجاء کرنے سے بھی منع کیاہے اور فرمایا کہ یہ (ہڈی اور گوبر) تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اگر انسان کسی کھلی فضاء یا ٹیلوں میں قضائے حاجت کیلئے جائے تو وہاں اگر ہڈی یا گوبرپڑاہو تو اس سے استنجاء نہ کرے کیوں کہ جنات ان سے اپنے لئے جو چاہے خوراک بنا لیتے ہیں ۔

اور جب بیت الخلاء جائے تو بایاں قدم اندر رکھے اور یہ دعا پڑھے ’’ اللّھم انیّ اعوذ بک من الخبث والخبائث‘‘ (کہ باری تعالیٰ میں خبیث مذکر اور مونث جنات سے آپکی پناہ میں آتا ہوں)۔

اور جب باہر نکلے تو دایاں قدم باہر رکھے اور یہ دعا پڑہے ’’ غفرانک ربّنا الحمدللہ الّذی اذھب عنّی الاذٰی و عافانی‘‘( کہ باری تعالیٰ ہم آپ سے بخشش کے طلبگار ہیں تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے مجھ سے میری تکلیف کو دورکیا اور عافیت عطا فرمائی (بخاری و مسلم)۔

آجکل ٹشو پیپر مٹی کے ڈھیلوں کے قائم مقام ہو سکتے ہیں مگر انکے استعمال کے بعد اگر پانی بھی استعمال کرے تو زیادہ بہتر ہے۔

اس طرح سنّت کے مطابق استنجاء کرنے سے قضائے حاجت بھی ہوجاتی ہے ،ثواب الگ حاصل ہوتا
ہے اور یہ دعائیں پڑھنے سے آدمی جنات کے شر سے محفوظ بھی ہو جاتا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Rafique Etesame

Read More Articles by Muhammad Rafique Etesame: 159 Articles with 132406 views »

بندہ دینی اور اصلاحی موضوعات پر لکھتا ہے مقصد یہ ہے کہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے فریضہ کی ادایئگی کیلئے ایسے اسلامی مضامین کو عام کیا جائے جو
.. View More
30 Aug, 2016 Views: 522

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ