لغات واصطلاحات

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)
سوال: میں اس سال اہل وعیال کے ساتھ حج پر جارہاہوں،مسائلِ حج پر مشتمل تمام کتابیں خریدی ہیں،بعض لغات واصطلاحات میں مشکل پیش آرہی ہے،برائے مہربانی حج اور متعلقہ اصطلاحات کی وضاحت کیجیئے گا۔(انجینئر حفیظ اسیم،کراچی)۔
جواب:حفیظ بھائی آپ کو اور تمام حُجاجِ کرام کو حج مبارک ۔لفظ ”حج“ بابِ نصر سےح کے فتحہ(حَجْ) اور کسرہ (حِجْ)دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ،مثلاً سورة البقرة‘آیت197 :﴿اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ﴾ میں ح کے فتحہ کے ساتھ اور سورہٴ آلِ عمران ‘آیت 97:﴿وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ﴾ میں ح کے کسرہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے،نیز (حَِجۃ )بھی آتا ہے،جیسے حَجۃ الوداع اور ذوالحِجہ۔حج کے لغوی معنی ہیں: عظمت والی جگہ کا ارادہ کرنا، زیارت کرنا، غالب آنا،قصد کرنا وغیرہ۔بابِ افتعال سے احتجاج کی معنی ہیں استدلال،اور باب ِ مفاعلہ سے محاججہ کی معنی ہیں مناظرہ،مباحثہ اور مناقشہ۔ لیکن اسلام میں حج ایک عبادت ہے جو خانہ کعبہ کے طواف اور مکہ مکرمہ شہر کے متعدد مقدس مقامات پرحاضر ہو کر کچھ آداب و اعمال بجالانے کا نام ہے۔ حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے ۔یہ ہر اُس مسلما ن پرزندگی میں ایک بار فرض ہے جوادائیگی کی استطاعت رکھتاہو،اس کیلئے 1۔مسلمان ہونا شرط ہے۔ 2۔ اگر کفار کے ملک میں ہو تو حج کے فرض ہونے کا علم ہو۔ 3۔ عقلمند ہو یعنی پاگل نہ ہو۔ 4۔ بالغ ہو۔ 5۔ آزاد ہو اور تندرست ہونے کے علاوہ اعضاء سلامت ہوں۔ جبکہ حج کی شرعی تعریف یہ ہے:مخصوص مقامات کا مخصوص اعمال کے ساتھ مخصوص زمانے میں ارادہ کرنا۔قرآن میں ایک سورت کا نام سورۃ الحج ہے، عراق کے مشہور اموی گورنر کا نام حَجّاج ہے،جبکہ حُجّاج حاجی کی جمع ہے۔
حج اِفراد:اِفراد کے لغوی معنی ہیں:اکیلا کردینااور تنہا کردینا، جب کہ شرعی اصطلاح میں صرف حج کی نیت سے احرام باندھ کر حج کے افعال و مناسک ادا کرنا اور عمرہ ساتھ نہ ملانا ‘حج اِفراد کہلاتا ہے۔ اِفراد کرنے والے کو ”مفرِد“ کہا جاتا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک ”حج افراد“ افضل ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ مفرد پر قربانی واجب نہیں‘ مستحب ہے، جب کہ حج کی باقی دونوں اقسام میں قربانی واجب ہوتی ہے۔

حج قران:قران(ق کے کسرہ کے ساتھ) کے لغوی معنی ہیں:دو چیزوں کوباہم ملادینا، جب کہ شرعی اصطلاح میں عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے احرام باندھنا اور ایک ہی احرام کے ساتھ پہلے عمرہ اورپھر حج اداکرنا اور درمیان میں احرام نہ کھولنا‘حج قران کہلاتا ہے۔حج قران کرنے والے کو ”قارِن“کہا جاتا ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک حج قران افضل ہے۔

حج تمتع:تمتع کے لغوی معنی ہیں:نفع اٹھانا، جب کہ شرعی اصطلاح میں عازمِ حج کا میقات سے پہلے عمرہ کی نیت سے احرام باندھنا اورعمرہ کے افعال ومناسک ادا کر نے کے بعد احرام کھول دینا اور پھر اسی سال حج کے دنوں میں حج کی نیت سے دوبارہ احرام باندھنا اور مناسک حج ادا کرنا‘ حج تمتع کہلاتاہے۔حج تمتع کرنے والے کو ”متمتِّع“کہا جاتا ہے۔امام امالک کے نزدیک حج تمتع افضل ہے۔
حج پانچ ارکان سے مرکب ہے۔ ان کی بجا آوری کے بغیر حج نہیں ہوتا۔ (1 احرام، (2 طواف، (3 سعی، (4 وقوف عرفات اور (5 حلق راس
(1 احرام: جس طرح نماز کے لیے تکبیر اس کی نیت کا اعلان ہے، اسی طرح احرام بھی حج کی تکبیر ہے۔ احرام باندھنے کے ساتھ انسان اپنی عام زندگی سے نکل کر ایک خاص حالت میں آجاتا ہے۔ عازم حج اپنی معینہ میقات پر پہنچ کر غسل یا وضو کرکے تلبیہ )لبیک اللھم لبیک ،لا شریک لک لبیک، ان الحمد و النعمۃ لک و الملک، لا شریک لک) کہنا شروع کر دیتا ہے۔
(2 طواف: خانہ کعبہ کے اردگرد چکر لگانا اور دعائیں مانگنا اور اس رسم کو ادا کرنا ہے جو حضرت ابراہیم ؑنے ادا کی تھی۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ حاجی حجرِ اسود کی سیدھ میں کھڑا ہو کر اور بسم اللہ الحمد اللہ لاالہ الااللہ و اللہ اکبر اور درود شریف پڑھ کر خانہ کعبہ کے دروازے کی طرف سے طواف کرنا شروع کردے۔ اسی طرح سات چکر لگائے اور ہر گردش کے اختتام پر حجر اسود کو بوسہ دے۔ اگر مجمع ِکثیر یا کسی دشواری کے باعث بوسہ دینا ممکن نہ ہو تو دور سے ہی حجر اسود کی طرف اشارہ کرکے ہاتھ چوم لے۔ طواف حقیقت میں ایک قسم کی ابراہیمی نماز ہے جس کے لیے آنحضور ﷺنے فرمایا : خانہ کعبہ کا طواف بھی گویا نماز ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تم اس میں بول سکتے ہو مگر نیک بات کے سوا اس حالت میں اور کچھ نہ بولو ۔ترمذی و نسائی۔
(3 سعی: صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا، پہلے خانہ کعبہ کے قریب ان ناموںکی دو پہاڑیاں تھیں۔ اب صرف ان کے محل وقوع کی باقیات رہ گئی ہیں۔ سعی حضرت ابراہیم ؑکی بیوی حضرت ھاجرکی یادگار ہے۔ سعی کا طریقہ یہ ہے کہ حاجی مقام ابراہیم میں قبلہ رو ہو کر دو رکعتیں نفل کی پڑھے اور پھر وپاں سے نکل کر پہلے صفا سے مروہ اور پھر مروہ سے صفا کی طرف سات بار جا کر حمد و دعا کرے۔
(4 وقوف عرفہ: یعنی میدان عرفات میں ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو تمام حاجیوں کا ٹھہرنا اور زوال کے بعد سے غروب آفتاب تک یہاں دعا و استغفار و حمد و ثنا میں مشغول رہنا ۔
(5 حلق راس: دسویں ذی الحجہ کو منی میں قربانی کے بعد حُجاج سر کے بال منڈواتے یا ترشواتے ہیں۔
حج کے دیگر مناسک یہ ہیں: مزدلفہ اور منی کا قیام، قربانی، رمی جمار یعنی منی میں تینوں جمرات(شیظانوں) پر سات سات کنکریاں مارنا، طواف زیارت، طواف وداع یعنی مکہ سے وطن واپسی کے وقت رخصتی کا طواف،اورمدینہ منورہ بھی حاضری ضروری اور اہم ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 479329 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
01 Sep, 2016 Views: 493

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ