تلخ حقیقت

(Monazza Asif, )
 .شادی کے بارے میں یہ تو سنا تھا کہ "شادی خانہ آبادی ہے" مگر آجکل تو شادی "پیسہ بربادی "کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں...شادی کیا ہے... ہر کسی کو نمود و نمائش کی پڑی ہے...پاس بیٹهی خواتین ایک دوسرے سے کپڑوں کی قیمت اسطرح سے پوچھ رہی ہوتی ہیں .جیسے ان کو اس بات پر انعام ملنا ہو...
سعدیہ! تم تو بهت پیاری لگ رہی ہو....،کس پارلر سے تیار ہوئی ہو.. صبا نے اپنی دوست کو کہا، سعدیہ. ... اتراتے ہوئے، ،، اس شهر کا سب سے مہنگا پارلر ہے. پیاری کیوں نہ لگوں...مییرا تو سوٹ ہی 7000 کا ہے..
صبا..ہاں بهئی.. بزنس مین شوہر کی بیوی جو ہو...
اگلے دن....
دروازے پر بیل بجی...
کون ہے ،،، تهوڑا صبر کرو...سعدیہ نے دروازہ کهولا...
دروازہ کهولا تو سامنے دور کی پهوپهو کهڑی تهی...
سعدیہ. .. آئیے ،آئیے
سعدیہ ڈرائنگ روم میں لے کر گئی
جی کیسے آنا ہوا.سعدیہ نے پوچها
پهوپهو بولی... بیٹی. ..میں بہت پریشان حال ہو کرتمہارے پاس آئی ہوں. کل میرے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے... ڈاکٹر نے ایمرجنسی آپریشن بتایا ہے. .. تمهاری بڑی مہربانی ہوگی اگر کچھ مدد کر دو... یہ ایک بوڑھی ماں کا سوال ہے.. مجھے بس تم سے امید ہے ، سب نےمدد کرنے سے انکار کر دیا ہے... ساری زندگی تمهیں دعائیں دوں گی. ... یہ کہتے ہی انکی ہچکی بند گئی ... اور زار و قطار رونا شروع کر دیا. ..
سعدیہ..... پهوپهو ،! اپ کو تو پتا ہے، آجکل کے حالات کیسے هیں ، اسلم کے کاروبار میں بہت مندی ہے. .. اس لئے میں بهی انکو زیادہ تنگ نہیں کرتی .... یہ 1000 رکهیں ... اگر اور ہو سکا تو میں آپ کی ضرور مدد کروں گی. ..
سسکتی آہوں، لرزتے ہاتھوں سے 1000 روپے پکڑ وہ وهاں سے رخصت ہو گئی....
پتا نہیں، بوڑھی ماں کی امیدیں بهر آئی یا نہیں.لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہی ہے ....نفسي نفسي کا دور ہے.... اپنے اخراجات کے لیے تو لاکھوں روپے کم ہیں ...مگر کسی کی مدد کے لیے همارے پاس کچھ نہیں. ..
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Monazza Asif

Read More Articles by Monazza Asif: 2 Articles with 1534 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2016 Views: 666

Comments

آپ کی رائے