میرا سب سے بڑا دشمن

(sana, Lahore)
میری سب سے بڑی دشمن میری ماں ہے۔

یہ جملہ کاؤنسلنگ کے دوران اور خاص طور پر ٹین ایج بچوں کی کاؤنسلنگ کے دوران ابتدا میں ہی سننے کو ضرور ملتا ہے۔ بچوں کو یقین ہوتا ہے کہ اگر انکی زندگی کا کوئی سب سے بڑا دشمن ہے تو وہ انکی ماں ہی ہے۔

میں نے اس بات چیت کے دوران اور اس مسئلے کے حل کی طرف جاتے ہوئے بہت سی باتیں نوٹ کیں تو سوچا کہ انکو لکھنا بھی چاہئے شاید کسی کی مدد ہو جائے۔

1۔ اصل میں ماں کا کام زمانہ قدیم سے لے کر آج تک بھی صرف اولاد کے لئے وقف ہو کر رہ جانا یا اولاد کے گرد ہی اپنی توجہ کو جھکائے رکھنا سمجھا جاتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ماں آج کی اپنی جاب اور کرئیر ہونے کے باوجود بھی کافی حد تک اولاد کے گرد ہی بھنورا بنی نظر آتی ہے جبکہ آج کی اولاد کو ماں کا اسطرح اسکے لئے ہی وقف ہو کر رہ جانا بھاتا نہیں۔

ماں کی کئیر اور ہر وقت خیال رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اولاد کو خود کو فوکل پوائنٹ محسوس کرنا پریشان کرتا ہے جو کہ اولاد کو ماں سے بد ظن کرتا ہے۔

کہنے سننے میں یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ماں کے حوالے سے کوئی ایسا کیسے سوچ سکتا ہے حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو آج کی اولاد ایسا سمجھ بھی رہی ہے اور اپنے روئیے سے یہ ثابت بھی کر رہی ہے کہ وہ خود کو فوکل پوائنٹ بنائے جانا پسند نہیں کرتی۔

2۔ آج کی اولاد خود بھی ماں کے لئے ویسی خدمت گزاری کے لئے وقف نظر نہیں آتی جس طرح کے کچھ سال پہلے بچے تیار تھے۔ اب تو بچے ٹین ایج کے ہیں اور وہ ماں باپ کے ساتھ بھی My life my rules پر کاربند نظر آتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ ماں باپ انکو جو پیسہ اور سہولیات دے رہے ہیں وہ تو ماں باپ کا فرض ہے جبکہ خود انکے لئے جو کرنا اولاد کا فرض ہے اس طرف آنا یا سوچنا بچے پسند بھی نہیں کرتے۔
اولاد کا ماں باپ کے لئے خدمت کرنا بالکل مختلف اور یکسسر اجنبی بھی ہوتا جا رہا ہے کہ جہاں انکو سوشل میڈیا پر انکی سالگرہ وش کرنا یا تصاویر لگا دینا ذیادہ حق ادا کرنا لگتا ہے بجائے اس بات کے کہ وقت ساتھ گزارا جائے۔

3۔ پہلے دور کے بچے جو کہ آج سے بیس پچیس سال پہلے تھے انکو ہدایات دیتے ہوئے پورا دن چلانا آسان تھا آج کا بچہ چاہتا ہے اسکو ایک بھی ہدایت نہ دی جائے اور ماں باپ اپنا کام کریں وہ اپنا کرے۔
ماں باپ کے لئے یہ بات ہضم کرنا کہ وہ اپنی ہی اولاد کو کوئی ہدایت دیں یا نہ دیں مشکل ہے۔

اولاد کے لئے ماں باپ کی ماننا اور دو کے بعد تیسری مان لینا تو اور بھی مشکل ہے۔

ماں باپ بھی اولاد کی تابعداری کو انکی ہر ہدایت بجا لانے سے منسلک سمجھتے ہیں اور انکو یقین ہے کہ اگر بچہ انکی بات مان رہا ہے اور ہر بات پر ہاں ہی کہہ رہا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ واقعی تابعدار ہے۔

4۔ آج کا ماں باپ ہو یا اولاد دونوں ہی لچکدار بننے کے لئے تیار نظر نہیں آتے ۔ سبجیکٹ کیا رکھنا ہے سے شادی کس سے کرنے تک کا معاملہ جو زندگی بھر کا معاملہ ہے اس میں دونوں ہی فریق ضد باندھتے اور ایک دوسرے کی نفی کرتے نظر آئیں گے ناکہ ایک دوسرے کو راستہ دیتے اور سمجھتے ہوئے ۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہر روز آپکو گھر سے بھاگنے خواہ تعلیم سے ڈر کر بھاگیں یا شادی سے بچکر یا شادی کر کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کےنظر آنے والے لوگ بڑھتے جا رہے ہیں۔

5۔ ٹیکنا لوجی نے آج انسان کو انسان سے الگ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اگر آپ دیکھیں تو بچہ ایک سمارٹ فون ہاتھ میں پکڑ کر خود کو بل گیٹس سمجھتا نضر آئے گا جبکہ ماں باپ کے لئے اس رفتار کے ساتھ ساتھ دینا ناممکن سا ہے۔

اسی لئے اولاد کو یہ لگنا لگا ہے کہ ماں باپ کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے اور ماں باپ بھی خود کو ٹیکنالوجی کے معاملے میں بے بس سمجھ کر اولاد کے ہاتھوں دبے رہنے پر مجبور سے نظر آتے ہیں۔
6۔ ماں باپ ایک عمر کا ببڑا حصہ گزار چکے ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ایک فطری سا رعب آپکو ذیادہ تر ماں باپ کی ذات کا حصہ نظر آئے گا اور ماں باپ اولاد سے اسی زور اور عب کی بنیاد پر بات منوانا چاہتے بھی ہیں۔

مجھے تب بے حد افسوس ہوتا ہے جب مجھے ماں باپ کی سرشت میں رعب برائے رعب ہی کا عنصر نظر آتا ہے۔ جب ماں باپ زمانے کی چال سے انجان بنتے ہوئے اپنے سامنے اولاد کو رعب کے ساتھ کانپتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ایسا ناممکن ہوتا ہے تو ماں باپ بھی اور اولاد بھی ایک دوسرے سے ناراض ناراض نظر آتے ہیں۔ اکثر کیسز میں مجھے رعب کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں ملی۔ شاید آج سے تیس سال پہلے تو رعب کے سہارے چلنا ممکن تھا مگر آج نہیں۔

7۔ ماں باپ اور اولاد ایک دوسرے سے بات کس انداز میں کر رہے ہیں یہ بھی بہت ذیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
ماں باپ چاہتے ہیں اولاد ان سے انتہائی ادب و احترام سے بات کرے جبکہ خود وہ اولاد کے احترام و عزت کے قائل نظر نہیں آتے۔ اولاد سے بات چیخ کر کرنا جائز بھی سمجھا جاتا ہے۔

پھر اولاد یہ چاہتی ہے کہ ماں باپ کے ساتھ بات اسی انداز میں کی جائے جس طرح سے بچے اپنے دوستوں سے بات کرتے نظر آتے ہیں۔

اب پھر وہی بات کہ ماں باپ کے ساتھ بات کرتے ہوئے یہی طریقہ بدتمیزی کہلائے گا۔ جب اولاد اس انداز میں مخاطب کرے گی تو ماں باپ کو اختلاف بھی ہوگا ہی۔

8۔ جس وقت بچہ بڑا ہو رہا ہوتا ہے تو اس وقت انسان کا موڈ اور مزاج بہت ذیادہ بدل رہا ہوتا ہے ماں باپ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو سمجھے بغیر اپنی پندرہ سالہ اولاد سے پچیس سالہ سنجیدگی مانگتے ہیں جو کہ یقینی ناممکن ہے ۔ جب ایک بچہ بڑا ہو رہا ہے تو آپ اسکو اسکے ماحول اور مزاج کے مطا بق مختلف تجربات کرنے سے روکیں اور یکدم بہت بڑا کرنا چاہیں تو یہ ناممکن ہی ہوگا۔

بدلتے مزاج اور ماحول کے ساتھ اولاد سے روزانہ چیخ چلا کر بات کی جائے اور اسکو لا پرواہ ہونے کا ہر روز طعنہ دیا جائے تو حالات اور بچے کی اپنی ذہانت نے جو شخصیت بنانی ہے وہ ناممکن ہوگی۔

9۔ آج کے بچے بھی کالج لائف میں پہنچ جاتے ہیں مگر انکے لئے زندگی کھیل کود ہی ہوتی ہے ۔ انسان کے لئے زندگی میں جلد از جلد اپنا کرئیر اور شوق منتخب کرنا اور اس میں آگے کیسے بڑھنا ہے منتخب کرنا از حد ضروری ہوتا ہے۔

آپ جتنا ذیادہ وقت موبائل پر گزاریں اور زندگی کو بالکل سنجیدہ نہ لیں تو اس پر ڈانٹ پھٹکار تو جائز کہلائے گی۔

کاؤنسلنگ کا یہ حصہ بچوں کو سمجھانا سب سے ذیادہ مشکل نظر آتا ہے اور ہے بھی۔

اپنی غلطی ماننا اور ماں کو خود دشمن بنانا بچوں کے لئے ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

اس سب کے حل کے حوالے سے بات چیت اگلے آرٹیکل میں کی جائے گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 178593 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
07 Sep, 2016 Views: 417

Comments

آپ کی رائے