اُردو انتظار میں ہے

(Muhammad Shahid Yousuf Khan, Lahore)
ایس.آئی.ایل نژادیہ کے 1999ء کی شماریات کے مطابق اُردو اور ہندی دُنیا میں پانچویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے۔ لینگویج ٹوڈے میں جارج ویبر کے مقالے: 'دُنیا کی دس بڑی زبانیں' میں چینی زبانوں، انگریزی اور ہسپانوی زبان کے بعد اُردو اور ہندی دُنیا میں سب سے زیادہ بولے جانی والی چوتھی زبانہے۔ اِسے دُنیا کی کُل آبادی کا 4.7 فیصد افراد بولتے ہیں۔

پاکستان میں پہلے دن سے ہی اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ ملا ہے جبکہ مشرقی پاکستان(موجودہ بنگلہ دیش) کی تقسیم کا سب سے بڑا مسئلہ اردو زبان سے اختلاف تھا۔ اور وہ شروع سے ہی بنگالی زبان کو قومی زبان اختیار کیے ہوئے تھے اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بنگالی رسم الخط اردوسے قدرے مختلف ہے اردو دائیں ہاتھ سے لکھی جاتی ہے جبکہ بنگالی بائیں ہاتھ سے اس وقت کے چند زبان دانوں نے یہ کوشش بھی کی تھی کہ بنگالی زبان کو اردو رسم الخط میں لکھا جانا چاہیے لیکن یہ فقط ایک خیال تھا جس کا حصول ناممکن تھا۔

دورحاضر میں جدید ٹیکنالوجی کی دریافت ہوئ جیسے ہی پاکستان میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کلچر عام ہوا تو اردو زبان کو انگریزی رسم الخط میں لکھا جانے لگا بلکہ یہاں تک کے کچھ دیسی انگریزوں نے جو ویسے اردو کم ہی بولتے ہیں اور اگر بولتے بھی ہیں تو انگریزی لہجہ اپناتے ہیں ان لوگوں نے تجویز دی کہ اردو کو رومن رسم الخط میں ہی لکھا جائے تاکہ اردو گلوبل لینگویج بن سکے لیکن اس سے یہ سب کچھ ممکن نہ تھا اس سے اردو ختم ہی ہوسکتی تھی۔ پھر یہ ہوا کہ ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں نے ہی اردو کی اہمیت کو صحیح سمجھا کہ انہوں نے نئے کمیونیکیشن ڈیوائسز میں اردو زبان بھی ایڈ کردی۔ یہ اردو زبان کے لئے ایک اہم موڑ تھا جس کی وجہ سے آج سوشل میڈیا سے لے الیکٹرانک میڈیا پر ملک کے نوجوانوں نے اردو زبان کے ذریعے ایک انقلاب نافذ کردیا ہے۔ اردو اس وقت اپنی اہمیت اُجاگر کررہی ہے۔ اور کچھ دیسی انگریز آج بھی رومن انداز اپناتے ہیں یا انگریزی کو ترقی کا زینہ سمجھے ہوئے ہیں وہ بُری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔

ایک سال پہلے 8 ستمبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے اردو زبان کو دوبارہ طور مکمل سرکاری اور دفتری زبان نافذ کرنے کا حُکم دیا تھا لیکن افسوس ہوتا ہے کہ اُردو زبان کو مغرب زدہ حکمرانوں نے آج تک نافذ کرنے سے گریزاں ہے حالانکہ عدالتی حکم کے بعد موجودہ حکومت نے دستاویزات تبدیل کرنے کے لئے تین مہینے کا وقت مانگا تھا لیکن ابھی تک سرکاری دفاتر کے جتنے بھی کاغذات،دستاویزات ملتے ہیں وہ انگریزی میں ہی بنے ہوئے ہیں۔

کچھ جاہلوں کا خیال ہے کہ انگریزی زبان سے ترقی رُک جائے گی اگر بچے انگریزی نہیں بول سکے تو وہ باہر والوں سے کیسے بات کرسکیں گے۔ ان کو چین،جاپان،فرانس یا دوسرے ممالک نظر نہیں آتے جو دنیا سے بھی اپنی زبان میں بات کرتے ہیں۔ چین کو ہی دیکھ لیجئے اس وقت معاشی حوالے سے پہلے نمبر پر آچکا ہے لیکن اس ملک میں کبھی کسی دوسری زبان کو فوقیت نہیں دی گئ۔ تعلیمی ترقی بھی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب علم آسان فہم ہو۔ ہماری مادری زبانیں مختلف ہیں اس کے بعد قومی زبان اسکولز میں شروع کرتے ہیں تو بول چال سیدھی کرنے میں بھی چار پانچ سال لگ جاتے ہیں پھر جاکے کچھ سیکھنا شروع ہوتے ہیں اس کے بعد جو ایک انگریزی کا اوپر نافذ کرنے کی ناجائز کوشش کی جاتی ہے اس سے یہ ہوا ہے کہ اب بچے نہ ہی سیدھی انگریزی بول سکتے ہیں نہ اردو اور نہ ہی اپنی مادری زبان۔۔۔۔بہتر ہوگا کہ انگلش میڈیم اسکولز کو اردو میڈیم میں تبدیل کیا جانا چاہئیے۔ بنیادی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تمام مضامین اردو میں پڑھائے جائیں میڈیکل،ریسرچ یا سائنس کی تمام تعلیم اردو میں ہونی چاہئیے اس سے ایک تو باآسانی علوم سیکھے جاسکیں گے بلکہ تحقیقی علم میں فائدہ ہوگا۔ جب تک کسی زبان کا سمجھنا آسان نہیں ہوتا اس وقت تک وہاں کوئ دسترس حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اس کا اندازہ آپ ہرسال مختلف یونیورسٹیوں کے گریجوایشن کے امتحانی نتائج سے لگا سکتے ہیں جس میں بیشتر طلباءوطالبات انگریزی زبان میں فیل ہوتے ہیں۔ یا اس کا اندازہ ہم جیسے طالبعلموں کو ماسٹرز لیول کے امتحانات میں ہوا ہے۔تمام مقابلے کے امتحانات میں زیادہ تر امیدواروں کی ناکامی بھی انگریزی زبان ہے۔اس سے صرف ٹیسٹ کرانے والے اداروں کو فائدہ ہوتا ہے جو بیروزگاروں کو لوٹنے کا کاروبار چلارہے ہیں۔

اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کو ایک سال مکمل ہوا چاہتا ہے لیکن اُردو زبان کو ابھی سرکاری حیثیت نہیں مل رہی اب بھی تمام دفتری امور انگریزی زبان میں انجام دئے جارہے ہیں۔کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اس کی قومی زبان ہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اب اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد کرائے اور اپنی قومی زبان کو قومی حیثیت دے جس کے لئے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں ہیں اور اسی زبان پر ملک دوٹکڑے ہوا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shahid Yousuf Khan

Read More Articles by Muhammad Shahid Yousuf Khan: 49 Articles with 26259 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2016 Views: 504

Comments

آپ کی رائے
Agreed 100%
stay blessed
By: uzma ahmad, Lahore on Sep, 08 2016
Reply Reply
1 Like