بےبسی- قسط نمبر ٢

(Nadia Khan, Rawalpindi)
میں سردار جی کے پاس نیچے زمین پر بیٹھ گئی اس نے مجھے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اپنے پاس بیٹھا دیا اور میرے ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں دباتے ہوئے کہا تم تو بہت بڑی ہوگئی ہو اور خوبصورت بھی. ؟؟؟؟؟؟پوری قبیلے میں تمہارے جیسی خوبصورت لڑکی کو میں نے نہیں دیکھی تمہارے جیسے ہیرے کو تو میرے پاس ہونا چاہئے؟؟؟؟؟. اس گھر میں تو ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے ملتا ہے. میں نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی اور خوف کے مارے میں رونے لگی.؟؟؟؟؟ اس نے ہنستے ہوئے کہا تم ڈرگئی.اچھا چلو ٹھیک ہے میں تمہارا ہاتھ چھوڑ دیتا ہوں؟؟؟؟؟ اور ہاں تم بکریوں کو لے کر پہاڑوں پر مت جایا کرو.اج کل کا زمانہ بہت خراب ہے. اکیلے لڑکیوں کا باہر جانا ٹھیک نہیں ہے اور یہ پیسے لو اپنے بابا کو دینا اور کہنا کہ اگر اور پیسوں کے ضرورت ہو تو میرے پاس اجانا میں اب چلتا ہوں .اپنا خیال رکھنا .؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ وہ تو چلا گیا لیکن میں بہت دیر روتی رہی کی اب کیا ہوگا .جب میں چھوٹی سی تھی تب سے اس کی نظر مجھ پر ہے. لیکن اب تو میں بڑی ہوگی ہوں اب کیا ہوگا. اس وقت بابا اور باجی اندر ائے میں جلدی سے بابا کے پاس گئی اور پوچھا کہ اپ لوگ اتنی رات کو کہا چلے گئے تھے؟جب بابا کی ہاتھ کو دیکھا تو پٹیوں میں بندھا ھوا تھا اور سر پر بھی پٹی بندی ہوئی تھی بابا یہ کیا ہوا گیا ہے اپ کو! کچھ نہیں زینب دودھ بیجنے شہر جارہا تھا کہ راستے میں کسی گاڑی والے نے مار دیا بس توڑا زخمی ہوگیا ہوں پریشانی کی بات نہیں ہے وہ بہت اچھا ادمی تھا اس نے اپنے گاڑی میں بیٹھا کر ہسپتال بھی لے کر گیا اور یہ پٹی وغیرہ بھی کروائی یہ دوائیں بھی دی. باجی وہ کون ہے؟ میں اس کو چھوڑو نگی نہیں .زینب اس نے جان بوجھ کر نہیں مارا. غلطی سے لگ گیا. وہ اگر اچھا ہوتا تو سوچ سمجھ کر گاڑی چلاتا انکھیں بند کر کے نہیں.چلتا ؟؟؟؟؟؟ بابا نے ہنستے ہوئے کہا زینب اتنا غصہ مت کروں وہ کل مجھ سے ملنے ارہا ہے پھر دیکھ لینا کے وہ کتنا اچھا انسان ہے. ٹھیک ہے دیکھ لونگی کہ وہ اچھا ہے یا میں اچھی ہوں. زینب جاوں بابا کے لئے کھانا لے کر او. باجی ٹھیک ہے میں کھانا گرم کر کے لے کر اتی ہوں. اپ بابا کے پاس بیٹھ جاوں؟؟؟؟؟؟؟؟. ہم سب نے بیٹھ کر کھانا کھایا اور میں نے نماز پڑھ کر بابا کو دوائیں دی؟. بابا نے بہت سارے دعائیں دی ؟؟؟؟؟؟؟اور میں اپنے پھٹی پرانی چارپائی میں اکر لیٹ گئے اور ساری رات سردار جی کی اس حرکت پر سوچتی رہی کبھی کہتی کی بابا اور باجی کو سب کچھ بتادو لیکن پھر بابا کی خیال اتے ہی خاموش ہو جاتی کہ وہ کتنا بیمار ہے اور اس بیماری میں بھی وہ ہمارے لئے محنت مزدوری کر کے ہمیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں. ہمیں عزت سے رکھنا چاہتا ہیں اگرباباکو اس بات کی خبرلگ گئی تو وہ مرجائے گا بس اس ڈر سے اپنے اپ پر قابو کیا ساری رات سوچتے سوچتے نہ جانے کب انکھ لگ گئی کچھ پتا نہیں چلا؟؟؟؟؟؟ صبح باجی نے اواز دینا شروع کیا اٹھ جاوں زینب بارش ہونے والی ہے موسم بہت خراب ہے جلدی سے اپنی بستر کو کمرے میں لے کر جاوں ورنہ بھیگ جاو گی. میں جلدی سے آٹھ گی .؟؟؟؟؟ بارش شروع ہو گیا.میں نے جلدی سے اپنی بستر کو کمرے میں رکھ دیا اور شیرخان کو اشارہ کیا اور کہا کہ چلوں باہر بارش میں کھیلتے ہیں بابا نے کہا زینب کہا جارہے ہو میں نے بابا سے جھوٹ بولا اور کہا کے میں شکیلہ کے گھر جارہی ہوں بابا نے کہا ٹھیک ہے جاوں لیکن بارش میں مت کھیلنا بیمار ہو جاوگے. ہم دونوں نے بھاگتے ہوئے کہا جی بابا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ہم باہر اگئے. گلی میں بہت سارے بچے بارش میں نہا رہے تھے سب بھاگتے ہوئے میرے پاس ایے اور کہنے لگے زینب باجی ہمارے ساتھ کھیلوں نہ میں نے کہا کیوں نہیں چلو کھیلتے ہیں بارش بہت تیز تھی. بہت مزہ ارہا تھا بچے بھی بہت مستی کر رہے تھے.میں نے بھی بہت مزے لئی. میرے کپڑے پوری طرح بیھگ گئے تھے لیکن مجھے بچوں کے ساتھ مل کر بارش میں کھیلنا بہت اچھا لگتا تھا اچانک ایک بڑی گاڑی ہمارے گھر کے سامنے اکر روک گیا ؟؟ . زندگی میں ایسی گاڑی کو پہلے بار دیکھی تھی ؟؟؟؟؟؟.ہم سب کچھ دیر کے لئے روک گئے اس گاڑی کو دیکھ رہے تھے. اس گاڑی سے ایک خوبصورت نوجوان اترا. اس کے ہاتھ میں کچھ سامنا بھی تھا اس نے ہمارے طرف دیکھا اور کہنے لگا کے غظیم خان چاچا کا گھر کون سا ہے؟؟؟؟؟؟؟ میں سمجھ گئی کی یہ تو وہی ہے جس نے میرے بابا کو گاڑی سے مارا تھا. شیر خان نے کہا وہ میرا نانا جی ہے اور وہ والا گھر ھمارا ہیں ؟؟؟؟؟؟؟.اس نے ہنستے ہوئے کہا یہ تو اچھی بات ہے اوں یہ چیزیں اندر لے کر جاوں اور میں بھی چاچا کی طبیعت پوچھ لیتا ہوں. وہ دونوں گھر کے طرف جانے لگے اور پیچھے مڑ کر میرے طرف دیکھتے ہوئے شیر خان سے کہنے لگا کے یہ لڑکی کون ہے. شیرخان کچھ بتانے ہی والا تھا اس سے پہلے میں نے ایک پتھراٹھایا اور گاڑی کی سامنے والے شیشے کو زور سے مار ددیا شیشے کے ٹوٹنے کی اواز سنتے ہی وہ نوجوان واپس اکر غصے سے کہنے لگا کی یہ شیشہ کس نے توڑ دیا میں نے اگے بڑھتے ہوئے کہا کہ میں نے توڑا وہ میرے پاس ایا اور کہا کیوں توڑ دیا.میں نے غصہ میں اکر کہہ دیا کہ تم نے کل میرے بابا کو اس گاڑی کی ساتھ مار دیا تھا اس وجہ سے میں نے تمہارے گاڑی کے شیشے کو توڑ دیا ہے اس نے مجھے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے کہا اچھا اتنا ہمت ہیں تو اوں میں اب تمہارے بابا کو سب کچھ بتاتا ہوں کہ تمہارے بیٹی نے میرے گاڑی کا کیا حال کیا ہیں میں نے کہا جاوں جس کو بتانا ہے بتاوں. مجھے کوئی ڈر نہیں ہے. اس نے جھٹکے سے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اندر کے طرف جانے لگا؟؟؟؟؟ میں بھی ان کے پیچھے ایی وہ صاب میرے بابا کے ساتھ مل گیا بابا اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا باجی بھی بہت خوش تھی وہ بھی اس صاب سے باتیں کر رہی تھی شیرخان بھی اس کے ساتھ تھا میں دور کھڑی دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ کیا سچ میں یہ صاب جی بہت اچھا انسان ہے اس وقت بابا نے اوز دیا زینب جلدی سے صاب جی کے لئے تازہ لسی لے کر اوں میں نے کہا جی بابا لے کر اتی ہوں میں نے جلدی سے کپڑے بدل دیے اور لسی لے کر وہاں گئی بابا صاب جی سے کہہ رہا تھا کہ اپ یہاں پر کس کام سے ایے ہو اس نے بتایا کہ میں دبئی میں رہتا ہوں وہاں پر میرے پوری فیملی رہتی ہیں لیکن میں یہاں کسی کام کی وجہ سے ایا ہوں کپنی والوں نے بیجھا ہے اچھا بیٹا تمہارا نام کیا ہے چاچا میرا نام فرہاد ہے .بابا نے بھی اپنی زندگی کی ساری کہانی سنائی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ فرہاد بابا کے حالت کو دیکھ کر بہت افسوس کر رہا تھا کہ اپ اتنے بیمار ہو کر بھی محنت مزدوری کررہے ہو بیٹا پھر کیا کروں جوان بیٹی ہے. فرہاد باجی کی طرف دیکھ کر کہنے لگا باجی شیرخان اپ کا بیٹا ہے باجی نے کہاہاں یہ میرا بیٹاہے اور اپ کا شوہر کہا ہےباجی کی انکھوں میں انسوں ایی اور کہنے لگی صاب جی اس نے دوسری شادی کر کے مجھے چھوڑ دیا ہے اور اپنے بیٹے کو بھی میرے ساتھ بیج دیا کتنے افسوس کی بات ہے باجی ناراض مت ہونا مجھے پتہ نہیں تھا میں نے تو بس ایسے ہی پوچھ لیا باجی نےکہا کوئی بات نہیں ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اس نے لسی کا گلاس ختم کرتے ہوئے میرے طرف دیکھا اور کہا کے بہت میٹی لسی تھی دینے کیلئے شکریہ میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور اس نے اپنے جیب سے کچھ پیسے نکا لے اور بابا کے طرف بڑھتے ہوئے کہا چاچا یہ کچھ پیسے ہے رکھ لو. بابا نے بہت کوشش کی واپس کرنے کیلئے لیکن وہ بھی بہت ضدی تھا اس نے واپس لینے سے انکار کیا بابا نے بہت سارے دعائیں دیتے ہوئے کہا بیٹا جب تک یہاں پر ہو کبھی کبھی ہمارے گھر انا شکریہ چاچا کیوں نہیں میں پھر ضرور اوگا لیکن ابھی میرا ایک دوست ہے یہاں پر میں اس سے ملنے جارہا ہوں. اسی وقت شیر خان نے بابا کو بتایا کہ باجی نے صاب جی کی گاڑی کی شیشے کو توڑ دیا ہے؟؟؟؟؟؟. میں گائے سے دودھ لیے رہی تھی جب میں نے شیرخان کی بات سن لیا تو میں بہت ڈر گئی بابا نے کہا کیا بیٹا یہ سچ کہہ رہا ہے. زینب نے سچ مچ گاڑی کا شیشے توڑ دیا ہے؟؟؟؟؟؟ میں بہت ڈر گئی تھی اور دعائیں مانگ رہی تھی کہ اے خدا خیر کر اگر بابا کو پتا چل گیا کہ میں نے گاڑی کا شیشہ توڑ دیا ہے وہ بہت ناراض ہو جائے گا کیونکہ بابا کو صاحب جی بہت پسند تھالیکن اس وقت صاحب جی نے شیرخان کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چھپ ہو جاوں صاب جی بابا کے پاس گیا اور بتایا نہیں چاچا میرے گاڑی کا شیشہ تو پہلے سے ٹوٹ گئی تھی؟؟؟؟؟ یہ شیرخان جھوٹ بول رہا ہے اچھا بیٹا ٹھیک ہیں میں تو پریشان ہوا تھا کہ کہی زینب نے سچ میں تو ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ توڑی سی ضدی ہے صاب جی کی بات سنتے ہی میرے جان میں جان ایی اور میں وہاں صاب جی کی پاس ایی صاب جی میرے طرف دیکھ کر مسکرانے لگا اور اشارہ کرتے ہوئے کہا ڈر گئی ہو میں نے بھی اشارے سے کہا نہیں میں کسی سے ڈرنے والی نہیں ہوں لیکن سچ تو یہ تھا کہ میں بہت ڈر رہی تھی لیکن اب تو صاب جی نے بچا لیا تھا میں نے شیرخان کو کان سے پکڑتے ہوئے کہا تم جھوٹ کیوں بول رہے ہو میں نے کب تھوڑا ہے. شیرخان نے پھر کہا اپ نے ہی تو توڑا ہیں پھر ڈر کیوں رہی ہو شیرخان بھاگتا ہوا صاب جی کی پیچھے چھپ گیا میں اس کی پیچھے بھاگی لیکن وہ مجھ سے بچ کر بھاگ گیا.؟؟؟؟؟؟؟ صاب جی کو باجی نے دروازے تک چھوڑا اور وہ باہر نکل گیا. گاڑی کی اسٹارٹ ہونے کی اوآز ائی؟؟؟؟؟. مجھے کیوں صاب جی کی یہ بات آچھی لگ رہی تھی کہ اس نے میری غلطی کو چھپا دیا میں نے ہی تو اس کی گاڑی کا شیشہ تھوڑا تھا. پھربھی اس نے کیوں ایسا کہا؟ کیا سچ میں صاب جی بہت اچھےانسان ہے؟؟؟؟؟؟ مجھے جاکر ان سے معافی مانگی چاہیئے میں جلدی سے باہر گئی شاہد اس کو بھی میرے انے کا انتظار تھا مجھے دیکھتے ہی مسکرانے لگا اور کہنے لگا مجھے پتا تھا کہ تم معافی مانگنے ضرور اوگی ہاں صاب جی مجھے معاف کروں مجھے معلوم نہیں تھا کہ اپ سچ میں اتنے اچھے انسان ہو میں نے تمہارا کتنا بڑا نقصان کیا ہیں دیکھوں شیشہ پوری طرح ٹوٹ چکا ہے. میں کتنی بیوقوف ہو ں اس وقت ناجانے کیوں میری انکھوں میں انسوں ایی صاب جی نے کہا تم کتنی پاگل ہو رو کیوں رہی ہو پھر کیا کروں صاب جی ہمارے پاس اتنے سارے پیسے بھی نہیں ہیں کہ تمہیں دے سکوں اس نے کہا کیوں کچھ نہیں ہے؟؟؟؟؟۔ تمہارے پاس بہت کچھ ہیں دینے کیلئے؟؟؟؟؟؟. میں ڈر گئی خدا خیر کر اگر صاب جی نے کچھ مانگ لیا تو میں کہا سے دونگی صاب جی بولوں کیا لو گے؟؟؟؟؟ ؟ گائے یا دو بکریاں اس سے بڑی چیز تو ہمارے پاس نہیں ہے؟؟؟؟؟. میرے یہ بات سنتے ہی صاحب جی نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑا؟؟؟؟. زینب تم کیا مصیبت ہو تم سمجھتے کیوں نہیں .میں کچھ اور مانگ رہا ہوں.میں نے بڑی سادگی سے جواب دیا، کیا؟؟؟؟؟… صاب جی نے اکر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا؟؟؟؟؟؟ میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو؟؟؟ مجھے پہلی نظر میں تم سے پیار ہوگیا ہے اس نے جٹھکے سے میرے ہاتھ کو چھوڑتے ہوئے کہا ؟؟؟ کیا مجھ سے شادی کروں گی ؟؟؟میں نے کہا صاب اپ یہ کیا کہہ رہے ہو مجھے تو کچھ سمجھ نہیں ارہا ہے ؟؟؟؟ اس نے ہنستے ہوئے کہا کوئی بات نہیں جب بات سمجھ میں اجایے تو پھر مجھے اس بات کا جواب دینا میں پھر آوگا تم سے ملنے ؟؟؟؟؟صاب جی تو گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا لیکن میں وہاں بیھچ راستے میں بھوت بنی کھڑی رہی مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا کی صاب جی یہ کیا کہہ کر چلا گیا ؟؟؟؟؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nadia Khan

Read More Articles by Nadia Khan: 9 Articles with 19401 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Sep, 2016 Views: 809

Comments

آپ کی رائے