جادو جنات اور علاج، A14

(imran shahzad tarar, mandi bhauddin)

*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
*مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*

جادو، کرامت اور معجزہ میں فرق
امام المازریؒ اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“جادو کرنے کےلئے جادوگر کو چند اَقوال و اَفعال سر انجام دینا پڑتے ہیں، جبکہ کرامت میں اس کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ اتفاقاً واقع ہو جاتی ہے اور رہا معجزہ تو اس میں باقاعدہ چیلنج ہوتا ہے جو کہ کرامت میں نہیں ہوتا۔”
حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں:
“امام الحرمین نے اس بات پر اتفاق نقل کیا ہے کہ جادو کا عمل ایک فاسق و فاجر آدمی کرتا ہے اور کرامت فاسق سے ظاہر نہیں ہوتی، سو جس آدمی سے کوئی خلافِ عادت کام واقع ہو اس کی حالت کو دیکھنا چاہئے، اگر وہ دین کا پابند اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنے والا ہو تو اس کے ہاتھوں خلافِ عادت واقع ہونے والا کام کرامت سمجھناچاہئے، اور اگر وہ ایسا نہیں ہے تو اسے جادو تصور کرنا چاہئے کیونکہ وہ یقیناً شیطانوں کی مدد سے وقوع پذیر ہوا ہے۔” (فتح الباری:ج10،ج223)
تنبیہ
بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک آدمی جادوگر نہیں ہوتا اور نہ اسے جادو کے متعلق معلوم ہوتا ہے، اور وہ بعض کبیرہ گناہوں کا ارتکاب بھی کر تا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے ہاتھوں بھی کئی خلافِ عادت کام ہو جاتے ہیں، اور ایسا شخص یا تو اہل بدعت میں سے ہوتا ہے یا قبروں کے پجاریوں میں سے، سو اس کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ شیطانوں نے اس کی مدد کی ہے تاکہ لوگ اس کی بدعات کی پیروی کریں اور سنتِ نبویہ کو چھوڑ دیں،اور یہ بات خاص طور پر صوفیاء میں پائی جاتی ہے۔

حصہ ششم
جادو کا توڑ
اس حصے میں ہم جادو کی اَقسام کے بارے میں گفتگو کریں گے اور یہ واضح کریں گے کہ جادو کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اور قرآن و سنت سے اس کا علاج کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے ایک تنبیہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کو اس کتاب میں کچھ چیزیں ایسی نظرآئیں گی جو آنحضورﷺ سے نصاً تو ثابت نہیں ہیں، لیکن ان عمومی قواعد کے تحت آجاتی ہیں جو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں۔ مثلاً آپ دیکھیں گے کہ قرآن مجید کی ایک آیت یا مختلف سورتوں کی کئی آیات کو علاج میں ذکر کیا گیا ہے، تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت آ جاتی ہے:
﴿ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ﴾
(الاسراء، 82)
“اور ہم نے قرآن مجید کو اتارا جو مؤمنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے”
چند علماء کا کہنا ہے کہ اس شفاء سے مراد معنوی شفاء یعنی شک، شرک اور فسق و فجور سے شفا ہے ، اور اکثر علماء کہتے ہیں کہ اس شفاء سے مراد معنوی اور حسی دونوں ہیں، اور اس سلسلے میں سب سے اہم دلیل حضرت عائشہؓ کی حدیث ہے جس میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضورﷺ اُن کے پاس آئے تو وہ ایک عورت پر دم کر رہی تھیں، آپﷺ نے فرمایا:
( عَالِجِیْھَا بکتابِ اللہ) یعنی “اس کا علاج قرآن مجید سے کرو۔” (الصحیحۃ للأ لبانی:1931)
اور اگر آپ اس حدیث میں غور کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آپﷺ نے پوری کتاب اللہ (قرآنِ مجید) کو علاج قرار دیا ہے اور اس کی کسی آیت یا سورت کی تخصیص نہیں فرمائی۔ سو پورا قرآن شفاء ہے، اور ہم نے خود کئی بار تجربہ کیا ہے کہ قرآنِ مجید نہ صرف جادو، حسد اور آسیب زدہ کا علاج ہے بلکہ اس میں جسمانی بیماریوں کا علاج بھی ہے۔
اگر کوئی شخص اعتراض کرے اور کہے کہ ہر آیت کےلئے خاص دلیل کا ہونا ضروری ہے، جس سے یہ ثابت ہو کہ آپﷺ نے فلاں مرض کا علاج فلاں آیت کے ساتھ کیا تھا، تو اس شخص سے ہم گزارش کریں گے کہ آپﷺ نے اس سلسلے میں ایک عام قاعدہ وضع کر دیا ہے جو صحیح مسلم کی ایک حدیث میں مذکور ہے۔ اس میں آتا ہے کہ چند لوگوں نے آپﷺ سے گزارش کی کہ ہم جاہلیت کے دور میں دَم وغیرہ کیا کرتے تھے، تو آپﷺ نے فرمایا:
(اَعْرِضوا علیَّ رُقاکم، لا بأس بالر قیۃ مالم تکن شِر کا)
“اپنے دَم وغیرہ مجھ پر پیش کرو اور ہر ایسا دَم درست ہے جس میں شرک نہ پایا جاتا ہو۔”
(مسلم کتاب السلام النووی:ج14،ص187)
تو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن، سنت، دعاؤں اور اذکار سے حتیٰ کہ جاہلیت والے دم وغیرہ سے علاج ہو سکتا ہے بشرطیکہ اس میں شرک نہ پایا جاتا ہو۔
اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور جادو کی ہر قسم کا ذکر کر کے اس کا توڑ اور شرعی علاج بتاتے ہیں۔

۱۔سحر تفریق۔۔۔۔۔ جدائی ڈالنے والا جادو
یعنی ایسا جادو جو خاوند بیوی کے درمیان جدائی ڈال دے یا دو دوستوں یا دو شریکوں میں بغض اور نفرت پیدا کر دے۔
فرمانِ الٰہی ہے:
﴿۔۔۔۔۔ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْھُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِہٖؕ﴾ (البقرۃ:۱۰۲)
“پس وہ ان دونوں سے خاوند بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے والا علم سیکھتے ہیں”
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
“ابلیس اپنا عرش پانی پر رکھتا ہے، پھر فوجیں اِدھر اُدھر بھیج دیتا ہے اور ان میں سے زیادہ معزز وہ ہوتا ہے جو سب سےبڑا فتنہ بپا کرتا ہے، چنانچہ ایک شیطان آتا ہے اور آ کر بتاتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں کام کیا ہے، تو ابلیس اسے کہتا ہے: تم نےکچھ بھی نہیں کیا، پھر ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے، میں نے آج فلاں آدمی کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی، تو ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے (اور ایک روایت کے مطابق اسے اپنے گلے لگا لیتا ہے) اور پھر اسے مخاطب ہو کر کہتا ہے، تم بہت اچھے ہو۔” (مسلم:ج17،ص157مع النوی)
سحر تفریق(جدائی ڈالنے) کی کئی شکلیں ہیں:
٭ ماں اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا۔
٭ باپ اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا۔
٭ دو بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا۔
٭ دو دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنا۔
٭ دو شریکوں میں جدائی ڈالنا۔
٭ خاوند بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا۔
یہ آخری شکل زیادہ منتشر اور عام ہے، اور سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
سحر تفریق کی علامات:
1۔ محبت اچانک بغض و نفرت میں تبدیل ہو جائے۔
2۔ دونوں کے درمیان بہت زیادہ شکوک وشبہات پیدہ ہو جائیں۔
3۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کا کوئی عذر نہ مانے۔
4۔ سببِ اِختلاف حقیر سا ہو لیکن اس کو پہاڑ تصور کر لیا جائے۔
5۔ بیوی خاوند کو بدشکل اور خاوند بیوی کو بدصورت تصور کرے جبکہ وہ دونوں خوبصورت ہوں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جس شیطان کو جادوگر اپنی خدمت کےلئے استعمال کرتا ہے، وہی عورت کے چہرے پر بدشکل بن کے آ جاتا ہے جس سے وہ اپنے خاوند کو نہیں بھاتی، اور اسی طرح خاوند کے چہرے پر بھی بری اور خوفناک شکل بن کر آ جاتا ہے جس سے وہ اپنی بیوی کو بدصورت معلوم ہوتا ہے۔
6۔ جس پر جادو کیا جاتاہے، وہ اپنے ساتھی کے ہر کام کو ناپسند کرتا ہے۔
7۔ جس پر جادو کیا جاتا ہے وہ اس جگہ کو پسند نہیں کرتا جہاں اس کا ساتھی بیٹھا ہو، چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ خاوند گھر سے باہر بہت اچھی حالت میں ہوتا ہے جبکہ گھر میں داخل ہوتے ہی اسے شدید گھٹن اور تنگی محسوس ہوتی ہے۔
سحر تفریق کیسے واقع ہو جاتا ہے؟
ایک شخص جادوگر کے پاس جاتا ہے اور اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فلاں خاوند بیوی کے درمیان جدائی ڈال دے، تو جادوگر اس سے اس خاوند کا نام اور اس کی ماں کا نام پوچھتا ہے، اور پھر اسے اس کا کوئی کپڑا لانے کا حکم دیتا ہے، اگر وہ شخص اس کا کپڑا نہیں لا سکتا تو وہ پانی پر جادو کا عمل کر کے اسے اس کے راستے پر بہانے کا حکم دیتا ہے، چنانچہ وہ جب وہاں سے گزرتا ہے اور اس نے صبح و شام کے مسنون اذکار نہیں پڑھ رکھے ہوتے تو اس پر جادو ہو جاتا ہے۔ یا پھر وہ اس کے کھانے پینے کی چیزوں میں جادو کر دیتا ہے، جنہیں کھا پی کر اس پر جادو کا اثر ہو جاتا ہے۔
جاری ہے.....

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: imran shahzad tarar

Read More Articles by imran shahzad tarar: 43 Articles with 22779 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Sep, 2016 Views: 587

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ