اسلا م میں استاد کا مقام و مرتبہ

(Tanveer Awan, Islamabad)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کو احسن تقویم ارشادفرمایاہے ،مصوری کا یہ عظیم شاہکار دنیائے رنگ وبو میں خالق کائنات کی نیابت کا حقدار بھی ٹھہرا۔اشرف المخلوقات، مسجود ملائکہ اور خلیفۃ اللہ فی الارض سے متصف حضرت انسان نے یہ ساری عظمتیں اور رفعتیں صرف اور صرف علم کی وجہ سے حاصل کی ہیں ورنہ عبادت و ریاضت ،اطاعت و فرمانبرداری میں فرشتے کمال رکھتے تھے،ان کی شان امتثال کو اللہ کریم نے قرآن پاک میں بیان فرمایاہے کہ وہ اللہ کی کسی بات میں نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ (التحریم ۔6) ۔علم ،عقل و شعور، فہم وادراک ،تمیز ، معرفت اور جستجو وہ بنیادی اوصاف تھے جن کی وجہ انسان باقی مخلوقات سے اشرف واعلیٰ اور ممتازقرار دیا گیا۔
یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ حصول علم درس و مشاہدہ سمیت کئی خارجی ذرائع سے ہی ممکن ہوتا ہے،ان میں مرکزی حیثیت استاد اور معلّم ہی کی ہے،جس کے بغیر صحت مند معاشرہ کی تشکیل ناممکن ہے ،معلّم ہی وہ اہم شخصیت ہے جو تعلیم وتربیت کا محور ،منبہ ومرکز ہوتا ہے ،ترقی یافتہ قوموں اور مہذب معاشروں میں استاد کوایک خاص مقام و مرتبہ اور نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ مہذب ،توانا،پرامن اور باشعور معاشرے کا قیام استاد ہی مرہون منت ہے ۔

اسلام نے دنیا کوعلم کی روشنی عطا کی ،استاد کو عظمت اور طالب علم کو اعلیٰ و ارفع مقام عطا کیا ہے ،بنی کریم ﷺنے اپنے مقام و مرتبہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا " مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے "(ابن ماجہ۔229)۔ اسلام نے استادکو روحانی والدقرار دے کر ایک قابل قدرہستی ،محترم ومعظم شخصیت ، مربی و مزکّی کی حیثیت عطا کی۔معلّم کے کردار کی عظمت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس عالم رنگ و بو میں معلّم اوّل خود رب کائنات ہیں ،چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہے ،اور اٰدم ؑ کو اللہ کریم نے سب چیزوں کے اسماء کا علم عطاء کیا۔(البقرہ۔31) ۔انسان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ تعلیم کا بھی انتظام فرمایا" رحمٰن ہی نے قراٰن کی تعلیم دی،اس نے انسان کو پیدا کیااس کو گویائی سکھائی"۔(الرحمٰن)ذریعہ تعلیم قلم کو بنایا "پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم سے سکھایااور آدمی کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتاتھا"۔(العلق ۔6)

معلّم کائنات نے انسانیت کی راہنمائی اور تعلیم کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا ء کرام کو معلّم و مربّی بنا کر بھیجا ،ہر نبی شریعت کامعلّم ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ایک فن کا ماہر اور معلّم بھی ہوتا تھاجسے حضرت اٰدم ؑ دنیا میں ذراعت، صنعت وحرفت کے معلّم اوّل تھے ،کلام کو ضبط تحریر میں لانے کا علم سب سے پہلے حضرت ادریس ؑ نے ایجاد کیا،حضرت نوح ؑ نے لکڑی سے چیزیں بنانے کا علم متعارف کروایا،حضرت ابراہیم ؑ نے علم مناظرہ اور حضرت یوسف ؑ نے علم تعبیر الرؤیا کی بنیاد ڈالی۔خاتم الانبیاء ﷺنے معلّم کو انسانوں میں بہترین شخصیت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایاتم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سیکھائے۔(بخاری ۔5027)معلّم کے لیے نبی کریم ﷺکی بشارت حضرت ابو ہریرہؓ نے ان الفاظ میں روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ؛غور سے سنو،دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی رحمت سے دور ہے البتہ اللہ کا ذکر اور وہ چیزیں جو اللہ تعالی سے قریب کریں یعنی نیک اعمال،عالم اور طا لب علم ( یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت سے دورنہیں ہیں)۔(ترمذی۔2322)استاد ہونا ایک بہت بڑی نعمت اور عظیم سعادت ہے ۔معلّم کو اللہ اور اس کی مخلوقات کی محبوبیت نصیب ہوتی ہے ،مخبر صادقﷺنے استاد کی محبوبیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ لوگوں کو بھلائی سیکھانے والے پر اللہ ،ان کے فرشتے ، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں رحمت بھیجتی اور دعائیں کرتی ہیں۔(ترمذی ۔2675)اساتذہ کے لیے نبی کریم ﷺ نے دعافرمائی کہ اللہ تعالی اس شخص کو خوش وخرم رکھے جس نے میری کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھااور اس کو جیسا سنا اسی طرح لوگوں تک پہنچا یا۔(ابو داؤد۔366)

خیر القرون میں معلّمین کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل تھی کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ معلّمین کو درس وتدریس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ انتظامی امور اور عہدوں پر فائز کرتے تھے۔حضرت علی المرتضیؓ کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھا دیا میں اس کا غلام ہوں خواہ وہ مجھے آزاد کر دے یا بیچ دے۔(تعلیم المتعلم ۔21)حضرت مغیرہؓ کہتے ہیں کہ ہم استاد سے اتناڈرتے اور ان کا اتنا ادب کرتے تھے جیسا کہ لوگ بادشاہ سے ڈرا کرتے ہیں ۔حضرت یحییٰ بن معین ؒ بہت بڑے محدث تھے امام بخاریؒ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ محدثین کا جتنا احترا م وہ کرتے تھے اتنا کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ابو یوسف ؒ کہتے ہیں کہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ جو استاد کی قدر نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہوتا۔(تعلیم المتعلم 22)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ اساتذہ کے سامنے تواضع اور انکساری کا اظہار کرتے تھے، علم حدیث کے لیے ان کے گھروں کی دہلیز پر بیٹھ جاتے اور استاد کے نکلنے کا انتظار کرتے رہتے ،ہوا سے چہرے پر گرد اور مٹی پڑتی رہتی تھی ،جب وہ حضرات اپنے کا م سے باہر نکلتے تو آپ کو منتظر اور طالب علم پاتے اورآپ استاذ کے سامنے یوں گویا ہوتے کہ میں علم کا طالب ہوں، میرادل نہ چاہا کہ آپ میری وجہ سے اپنی ضروریات سے فارغ ہونے سے پہلے آئیں(دارمی)۔یہی ادب تھا جس کی وجہ سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کوامام المفسرین ، حبر الامت اور بحر العلم کا لقب عطا ہوا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ،حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ، حضرت ابوہریرہؓ،حضرت ابی بن کعبؓ اورحضرت مصعب بن عمیرؓ جیسے سینکڑوں صحابہ کرام نے معلّم کائنات کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ،تربیت اور تزکیہ کی چکی میں پسے آپ ﷺ کی مجلس میں ادب کا یہ عالم ہوتا تھا کہ صحابہ کرامؓ چہرہ انورﷺ کی طرف سیدھا نہیں دیکھتے تھے،بیٹھنے کا اندازایسا مؤدبانہ ہوتا تھا کہ پرندے آ کرصحابہ کے سروں پر بیٹھ جاتے تھے۔

امام اعظم ابو حنیفہ ؒ اپنے استاد کا اتنا ادب کرتے تھے کہ کبھی استادکے گھر کی طرف پاؤں کرکے نہیں سوئے۔فقہ حنفیہ کی مشہور کتاب ھدایہ کے مصنف، شیخ الاسلام برہان الدینؒ بیان فرماتے ہیں کہ ائمہ بخارا میں سے ایک امام دوران درس بار بار کھڑے ہو جاتے،شاگردوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میرے استاد کا لڑکا گلی میں بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے جب مسجد کے دروازے کے سامنے آتا ہے میں اپنے استاد کی وجہ سے ادب میں کھڑا ہو جاتا ہوں ۔

قاضی امام فخر الدین ارسابندی ،اللہ نے ان کو علماء میں بڑا مقام عطا فر مایا تھا،بادشاہ ان کی بہت عزت کرتا تھا،بادشاہ ان سے کہا کرتا تھا کہ میں نے یہ عزت و مرتبہ اپنے استاد کی دعا اور خدمت سے حاصل کیا ہے ، میں نے تیس سال قاضی امام ابو یزید دبوسی ؒ کی خدمت اور ان کے لیے کھانا پکایا ہے اور اس کھانے میں سے کبھی نہیں کھایاتھا۔

علماء ہند میں حضرت شیخ الہند محمود حسن ؒ علم و فضل ،تقوٰی و طہارت ،جہد و عمل ،تواضع و انکساری میں منفرد مقام کے حامل تھے، شیخ العرب و العجم حضرت حسین احمد مدنی ؒ کو دیکھا گیا کہ باوجود اتنے بڑے منصب پر فائز ہونے کے اپنے استاد شیخ الھند ؒ کے گھر کا پانی اپنے سر پر اٹھا کر لے جاتے تھے۔
شمس الائمہ علامہ حلوانی ؒ نے بخارا کو خیر آباد کہا اور کسی دوسری جگہ تشریف لے گئے تو آپ کے تمام تلامذہ آپ کی زیارت کے لیے آئے سوائے قاضی شمس الائمہ الزرنوجی ؒ کے،جب استاد کی شاگرد سے ملاقات ہوئی تو فرمایا کہ آپ میری ملاقات کوکیوں نہیں آئے تھے؟ عرض کیا کہ والدہ کی خدمت میں مشغولیت مانع تھی۔ امام نے کہا کہ آپ عمر لمبی پائیں گے مگر درس نصیب نہیں ہو گا،استاد کے منہ سے نکلی ہوئی اس بات کو وقت نے سچ ثابت کیا کہ علامہ زرنوجی ؒ زندگی کا اکثر حصہ دیہاتوں میں رہے آپ کو تدریس کا موقع نہ میسر آسکا۔ خلیفہ ہارون رشید نے امام اصمعی ؒ کے پاس اپنا بیٹا تحصیل علم و ادب کے لیے بھیجا ،ایک دن خلیفہ نے دیکھا کہ امام اصمعی وضو کر رہے ہیں اور اس کا بیٹااستاد کے پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔خلیفہ نے امام صاحب کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا بیٹا اس لیے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ اس کو علم و ادب سکھائیں ،آپ اسے یوں کیوں نہیں کہتے کہ یہ ایک ہاتھ سے آپ کے پاؤں پرپانی ڈالے اوردوسرے ہاتھ سے اس پاؤں کودھوئے۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معلّم کو سب سے بہترین انسان قرار دیا گیا ہے،استاد کے ادب کو تحصیل علم کے لیے بنیاداور اساس کہا گیا ہے ۔عربی مقولہ ہے الادب شجر والعلم ثمر ثم فکیف یجدون الثمر بدون الشجر۔ادب درخت ہے اور علم پھل ہے پھر بغیر درخت کے کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔

اگر تدریس کو بحثیت مشغلہ دیکھا جائے تو یہ مشغلہ تمام پیشوں سے اعلی ،اشرف و افضل ہے،دنیا میں لوگ جتنی بھی محنتیں کر رہے ہیں ان میں معلّم کی فضیلت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتاہے۔عربی ضرب المثل ہے کہ خیر الاشغال تھذیب الاطفال۔بہترین مصروفیت و مشغلہ بچوں کی تربیت کرنا ہے۔معلّم انسانیت پر محنت کرکے کار نبوت سرانجام دے رہا ہوتا ہے۔امام الانبیاءﷺکی حدیث شریف اس پر شاھد ہے کہ علم والے نبیوں کے وارث ہیں۔(ابوداؤد۔3641)

استادافراد کی تربیت کرکے ایک مہذب معاشرہ تشکیل دیتا ہے گویا بادشاہ لوگوں پر حکومت کرتے ہیں جب کہ بادشاہوں پر معلّمین کی حکومت ہوتی ہے۔پیغمبر اسلام ﷺکا ارشاد مبارک منصب تدریس کی اہمیت کو مزید واضح کردیتا ہے کہ جس شخص نے لوگوں کو خیر کی طرف بلایا ،لوگوں کے اجر کے برابر اس کو بھی اجر ملے گااور لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔(مسلم۔1893) معلّم کا فرض سب سے اہم اور اس کی ذمہ داری سب سے مشکل ہے۔ مصور پاکستان،شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ نے معلّم کی حیثیت ،عظمت اور اہمیت کو بہت احسن انداز میں بیان کیا ہے کہ استاددراصل قوم کا محافظ ہوتاہے کیونکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو سنوار نا اور ان کو ملک و ملت کی خدمت کے قابل بنانا ان ہی کے سپرد ہے،سب محنتوں میں اعلٰی درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے بیش قیمت کارگزاری معلّموں کی ہے،معلّم کا فرض سب سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اس کی محنت ہے۔

معلّم کی یہ عظمت،مقام و مرتبہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ صفات حسنہ اور اخلاق حمیدہ کا جامع ،صبر واخلاص کا پیکر،علم و تحقیق کے خمیر میں گوندا ہواہو۔استاد کا مطمع نظر رضا خداوندی، انسانیت کی تربیت اور نونہالان قوم کو علم ومعرفت سے روشناس کرانے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ معلّم کے قول و عمل میں یکسانیت،صداقت،شجاعت،قوت برداشت،معاملہ فہمی،تحمل مزاجی اور استقامت جیسے اوصاف نمایاں ہونے چاہیے کیونکہ شاگرد استاد کا عکس ہوا کرتے ہیں ۔بزرگوں کا قول ہے کہ اساتذہ نیک تو طلبہ بھی نیک،اساتذہ خود اپنے بڑوں کے قدردان تو طلبہ خود ان اساتذہ کے قدر دان ہوں گے العرض اساتذہ کرام شریعت اور سنت کے پابند ،اپنے منصب کے قدر دان ،طلبہ پر مشفق اورجذبہ خیر سگالی سے سرشارہوں تو ان کے ہاتھوں تربیت پانے والی نسلیں بھی ان ہی صفات حمیدہ کی حامل ہوں گی۔ گلشن محمدی ﷺجس کی آبیاری کے لیے پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے جانثار صحابہ کرامؓ نے اپنی ساری توانائیاں و صلاحیتیں خرچ کر ڈالیں تھیں ،وہ ملت جس کی شان و شوکت اور عروج اپنوں کی غفلت اورغیر وں کی عیاری کی وجہ سے ماندہ پڑا ہو ا ہے ۔معلّم کا جذبہ یہ ہونا چاہیے کہ میرے ذریعے امت کے ایسے نونہال تیار ہو جائیں جو امت محمدیہ ﷺکی نشاۃ ثانیہ کا فریضہ سرانجام دے سکیں ،وہ ایسے تناور درخت کی مانند ہوں جو سب کو چھاؤں اور پھل دیں ،جوتحقیق و جستجو کے میدانوں کے شاہسوار اور علم کے شناور ہوں،جو دنیا کو امن و سلامتی کادرس اور محبت کا پیغام دینے والے ہوں۔ایک معلّم کی یہ آرزو ہونی چاہیے کہ میری ساری زندگی کی محنت اور جگر سوزی اس لیے ہے کہ قیامت کے دن میرا حشر معلّمین، امت کے معماروں ،نگرانوں،قائدین اور رہبروں کے ساتھ ہو۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141393 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
19 Sep, 2016 Views: 1114

Comments

آپ کی رائے