سپاہی محمد عدنان شہید ، تمغہ بسالت

(Muhammad Amjad, )
پنجاب رجمنٹ کے بہادر سپاہی نے 21دسمبر 2011ء کو اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ شہید کی آخری آرامگاہ پر سبز ہلالی پرچم جس سرشاری اور شان سے لہرا رہا ہے وہ اس کے گاؤں اور اس ملک کے ہر باسی کے لئے باعث فخر ہے اور ہم سب کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ سپاہی محمد عدنان جیسے ایسے کئی جوانوں نے اس کی سربلندی کے لئے جو خدمات دیں ہیں، انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وطن کے نوجوان آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے
 پاک فوج جہاں بیرونی سرحدوں کا دفاع کررہی ہے اسی طرح گزشتہ ایک دہائی سے وطن عزیز کے اندر ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے بھی برسرپیکار ہے۔ دہشت گردی کی جنگ اس حوالے سے انتہائی پیچیدہ ہے کہ اس میں آپ دوست اور دشمن کی پہچان نہیں کرسکتے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہی یہ دہشت گرد اسلام کے داعی اور اصل پیروکار ہونے کا تو دعویٰ کرتے ہیں مگرعملی طور پر فساد بپا کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ وہ اپنے ہی تراشے ’اسلام ‘ پر عمل کرنے والوں کو اپنا ساتھی اور باقی سب کو کافر تصور کرتے ہیں اور اقلیت میں رہ کر اکثریت پر قابو پانا چاہتے ہیں۔ بم دھماکوں، خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مسلمانوں کا ہی خون بہا رہے ہیں۔ انہوں نے اسلام کے قلعے پاکستان کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ اﷲ اکبر کا نعرہ لگانے والی اور سبز ہلالی پرچم بلند کی امین فوج ان کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ اس گروہ نے پاکستان کے خوبصورت شمالی علاقوں کو موت کی وادی میں تبدیل کرکے رکھ دیا اور کچھ ہی عرصے بعد حکومت کی رٹ کو للکارنا شروع کردیا۔ سول انتظامیہ کو انہوں نے عضو معطل بنا دیا۔ ان حالات میں پاک فوج کو وہاں ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ پاک فوج کے افسر اور جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نبرد آزماء ہوکر پوری قوم کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھ کر ہماری آزادی کو دوام بخش رہے ہیں۔ وطن کی قربانی کا یہ جذبہ لازوال ہے یہی وجہ ہے کہ اتنے پرخطر حالات میں بھی ہمارے نوجوان فوج میں بھرتی ہوکر دہشت گردوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ آج ایسے ہی نوجوان کی جرات و بہادری کو قارئین کے سامنے پیش کیا جارہا ہے جس نے شہادت کی تمنا لے کر ہی فوج میں شمولیت اختیار کی اور اﷲ تعالی نے اس کی اس خواہش کو صرف 19سال میں پورا بھی کردیا۔

سپاہی محمد عدنان راولپنڈی کے نواحی علاقے کڑاہی میں پیدا ہوا۔ اس کے والد بھی پاک فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ ان کی بھی دلی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا بھی فوج کی وردی پہن کر وطن کی حفاظت میں حصہ ڈالے۔ اس دن سپاہی عدنان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا جب اسے بھرتی کی چٹھی موصول ہوئی۔ اسے پاک فوج کی پنجاب رجمنٹ میں بھرتی کرلیا گیا تھا۔ پنجاب رجمنٹ پاک فوج کی سب سے سینئر رجمنٹ ہے ۔ بہادری کا سب سے بڑا اعزاز’’نشانِ حیدر‘‘ حاصل کرنے والے 10میں سے چار دلیروں کا تعلق اسی رجمنٹ سے ہے۔جن میں کیپٹن سرور شہید، میجر طفیل محمد شہید، میجر عزیز بھٹی شہید اور لانس نائیک محفوظ شہید شامل ہیں جنہوں نے مختلف محاذوں پر دفاع وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اپنی بہادری کے وہ انمٹ نشان چھوڑے جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان سے فوجی تربیت مکمل کرنے کے بعد جب سپاہی اس کے نام کا حصہ بنا تو وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے اپنے لئے جو راستہ چنا ہے وہ خطرات سے بھرپور ہے۔ دوران تربیت ہی اسے اور اس کے ساتھیوں کو معلوم ہوچکا تھا کہ میدانِ جنگ ہی ان کا پہلا پڑاؤ ہوگا۔ وہ میدان جنگ جہاں دشمن اپنوں کے روپ میں ان پر وار کرے گا۔ جہاں ان کے ذہنوں کو طرح طرح کے اندیشوں میں مبتلا کیا جائے گا۔ جہاں براہ راست جنگ کے ساتھ ساتھ انہیں اعصابی و نفسیاتی جنگ کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔ وطن عزیز کی خدمت کے جس جذبے کو لے کر وہ پاک فوج کا حصہ بنے تھے، اس کے تحت وہ اس طرح کے کسی بھی طوفان سے ٹکرا جانے کابھرپور عزم رکھتے تھے۔

سپاہی محمد عدنان کو69 پنجاب رجمنٹ میں تعینات کیا گیا جو اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما تھی۔ دہشت گردگھات لگا کر حملہ کرتے اور وادی کی بھول بھلیوں میں غائب ہوجاتے۔ یونٹ کے افسروں اور جوانوں نے وہاں سے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ انہوں نے دہشت گردی کے بہت سے نیٹ ورک توڑے جس پر دہشت گرد سٹپٹا کررہ گئے تھے اور جوابی حملوں کے لئے پرتول رہے تھے۔ یونٹ نے بہت سے علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے وہاں اپنی چوکیاں قائم کرلیں تھیں جہاں اس کے جوان ہر وقت مستعد اور ہوشیار رہتے۔ سپاہی عدنان دہشت گردوں کے خلاف ان تمام کارروائیوں میں پیش پیش رہا۔ 21دسمبر2011ء کی صبح 400 کے قریب دہشت گردوں نے مختلف اطراف سے یونٹ کی پوسٹوں پر حملہ کردیا۔ سپاہی عدنان کی پوسٹ بھی حملے کی زد میں آگئی۔ جس طرح آئے روز دہشت گرد سیکورٹی فورسز پر حملے کررہے تھے۔ پاک فوج کے سپاہی بھی ایسے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مستعد اور تیار تھے۔ انہوں نے اپنے مورچے میں مستعدی سے جوابی فائرنگ شروع کردی۔ دہشت گردوں کے پاس مشین گنوں کے علاوہ ہینڈ گرنیڈز اور راکٹ لانچر بھی موجود تھے۔ مگر وہ پاک فوج کے جوانوں کی مستعدی اور دلیری کے سامنے بے بس نظر آرہے تھے۔ شدید مزاحمت کے بعد ان کے حملے کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ دہشت گردوں نے مورچوں کو تاک تاک کر نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اسی دوران گولیوں کی ایک بوچھاڑ سپاہی عدنان کے سینے کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود اس نے مزاحمت جاری رکھی ۔وہ خون کی آخری بوند تک دہشت گردوں کے خلاف ڈٹا رہا اور آخر کار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ منزل حاصل کرلی جس کی وہ تمنا رکھتا تھا۔ جس وقت اس دلیر سپاہی نے جان جان آفرین کے سپرد کی اس وقت اس کی عمر20سال تھی۔ ادھر دہشت گردوں کا حملہ بری طرح ناکام رہا تھا۔ سپاہی عدنان اور اس کے ساتھیوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیئے تھے۔

شہادت کی خبر اس کے آبائی گاؤں پہنچی تو اس کے والد امیرخان کی زبان پر الحمداﷲ کے الفاظ تھے۔ وہ بھی پاک فوج سے بطور نائیک کلرک ریٹائر ہوئے تھے اور اپنے بیٹے کی شہادت صبرو شکر کا مجسمہ بنے ہوئے تھے۔ شہیدکا گاؤں راولپنڈی سے 70کلومیٹر فاصلے پر کڑائی کے نام سے جانا جاتا ہے۔مشہور قصبہ چکری سے اس کا فاصلہ تقریباََ 30کلومیٹر ہے۔ اس چھوٹے سے گاؤں کے لوگوں کا ذریعہ معاش تو زمینداری ہے لیکن حسب روایت اکثر گھرانوں کے چشم و چراغ پاک فوج سے وابستہ ہیں۔ اس طرح دفاع وطن میں اس علاقے کے بیٹوں کا کردار سب سے نمایاں رہا ہے۔ گاؤں کے ساتھ ہی ایک قبرستان ہے جہاں قومی پرچم میں ملبوس شہید کے جسدِ خاکی کو لایا گیا تو پاک فوج کے ایک چاق چوبند دستے نے اسے سلامی پیش کی۔ شہید کے نمازِ جنازہ میں لوگوں کا ایک جمِ غفیر امڈ آیا تھا۔ ہوا کے پرکیف جھونکوں نے شہید کے گاؤں کو حصار میں لے رکھاتھا اور ہر کوئی شہادت کے لہو کی مہک کو محسوس کررہا تھا۔ اس موقع پر شہید کے والد نے جو مختصر سی تقریر کی اس نے فضا کو اور بھی گرما دیا ۔ جواں سال بیٹے کی جدائی کے باوجود ان کا حوصلہ بلند اور وطن کی محبت سے سرشار تھا۔ اس بلند ہمت باپ نے کہا: ’’مجھے بیٹے کی جدائی کا دکھ ضرور ہے مگر مجھے اس کی وطن کے لئے شہادت اور بھی اچھی لگی‘‘۔ اس دوران شہید کے جسدِ خاکی کو وطن کی مٹی میں اتاردیا گیا۔سپاہی محمد عدنان شہید کو اس کی بہادری کے صلے میں تمغہ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا جو شہید کے والد نے وصول کیا۔ شہید کی آخری آرامگاہ پر سبز ہلالی پرچم جس سرشاری اور شان سے لہرا رہا ہے وہ اس گاؤں ، اس شہر اور اس ملک میں بسنے والے ہر شخص کے لئے باعث فخر ہے اور ہم سب کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ سپاہی محمد عدنان جیسے ایسے کئی جوانوں نے اس کی سربلندی کے لئے جو خدمات دیں ہیں، ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے وطن کی آزادی اور وقار کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad Ch

Read More Articles by Muhammad Amjad Ch: 94 Articles with 43136 views »
Columnist/Journalist.. View More
22 Sep, 2016 Views: 347

Comments

آپ کی رائے