جھوٹے خداؤں کو بُرا نہ کہو !!

(Qadir Khan, Lahore)
 اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس میں اپنے امریکی صدر نے اپنے آخری خطاب میں چین ، شام ، فلسطین ، شمالی کوریا کا تذکرہ کیا تاہم عالمی رہنماؤں کے سامنے انھوں نے ایشیا کے تو کیا ،دنیا کے اہم ترین مسئلے، کشمیر میں قابض بھارتی فوج کیجانب سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر تک نہیں کیا۔مسئلہ کشمیر بارود کے ڈھیر پر نہیں بلکہ ایٹمی جنگ شروع ہونے کیلئے" ریڈ بٹن " پر رکھی انگلی کی جنبش پر ہے۔بھارتی کی خودساختہ جنگی جنونیت نے خطے سمیت پوری دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے۔امریکی صدر کے بیان میں کشمیر میں ہونے والے مظالم کو نظر انداز کئے جانے سے واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ کا جھکاؤ ، امن کی طرف ہے یا جنگ کی طرف ہے۔اطالوی وزیر دفاع روبرتا پینوٹی نے صدر پاکستان ممنون حسین سے ملاقات میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پر امن مظاہرین پر ظالمانہ تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔مسلم امہ باہمی اختلافات ، تنازعات میں الجھی ہوئی ہے ۔گو کہ مسلم امہ میں مسلکی تنازعات سینکڑوں سالوں سے ہیں ، موجودہ دور میں مسلح خانہ جنگیاں صرف مسلم امہ کے درمیان ہی ہو رہی ہیں، جس سے نہ صرف مسلم امہ کے مالی وسائل ، بلکہ انسانی اخوت و بھائی چارے اور اتحاد کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔یہاں جب شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں عید غدیر بھی بنائی، تو سنی مسلک سے تعلق رکھنے والوں نے خلیفہ سوئم ذوالنورین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی کی شہادت کے غم کوبھی منایا۔ کچھ مظاہرین نے کراچی میں اپنے مخالف گروہ کے مرکز کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی کئے ، اس دوران ایران کے روحانی پیشوا ،اور سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای کا تہلکہ خیز بیان سامنے آیا کہ "اہل سنت برادارن کے خلاف بولنا، ائمہ علیہم السلام( بارہ امام ) کی سیرت کے خلاف بولنا ، برطانوی شیعوں کا شیوہ ہے"۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ" جو بھی اسلام کا پابند ہے اور قرآن کی حکمرانی تسلیم کرتا ہے ، خواہ وہ شیعہ ہو یا سنی ، اسے آگاہ ہوجانا چاہیے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت اسلام و مسلمین کے حقیقی اور اصلی دشمن ہیں ـ"۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای کا یہ بیان ان کے نشر و اشاعت اور تحفظ دفتر کے حوالے سے نقل کیا ہے ، ادارے نے از خود اس بات کی بھی وضاحت کردی ہے کہ "واضح رہے کہ امام خامنہ ای نے برطانوی شیعہ اور امریکی سنی کی اصطلاح ان عناصر کیلئے استعمال کی ہے ، جو مغرب کی ایما پر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے درپے ہیں۔"میری اپنی ذاتی رائے کے مطابق موجودہ حالات میں اس اہم بیان کو اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔مخالفین ، ایسے جس زوایئے سے بھی دیکھیں ، لیکن اس میں مغربی استعمار کی سازش کا پردہ چاک کرنے کیلئے شیعہ مسلک سے ، جس طرح برطانوی شیعوں کے کردار کا ذکر کیا ہے ، وہ انتہائی قابل غور ہے کہ امت مسلمہ میں ایسا گروہ موجود ہے ، جو شیعہ بن کر اصحاب رسول رضوان اﷲ اجمعین کی توہین کرتا ہے ، تو کوئی داعش کی صورت اختیار کرکے سنی مسلک کے بھی متفقہ بارہ اماموں کی سیرت کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں ، عام مسلمان ان گروہوں کے پس پردہ مذموم مقاصد سے بے خبر آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور اس کا فائدہ امریکہ، برطانیہ جیسے ممالک اٹھاتے رہتے ہیں۔اسی نااتفاقی کا نتیجہ ہے کہ کشمیر میں ہولناک بربریت کو اقوام متحدہ کے دیکھے جانے کے باوجودانتہائی جانب دارانہ رہا ۔ یہاں تک کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے خطاب سے قبل ہی کہہ دیا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت ، پاکستان دونوں ملکر حل کریں ، تو پھر افغانستان ، عراق ، شام ، لیبیا، مصر ، یمن ، فلسطین میں امریکا کو ٹھیکدار بننے کی کیا ضرورت تھی کہ وہ جنگ سے امن لانے کے لئے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے اور مسلمانوں کو چین و آرام کے سانس نہیں لینے دیتا ۔ چین کی طاقت سے ابھی سے خائف امریکہ ، بھارت کی خوشنودی کے خاطر اس کے ہر ناجائز مطالبے و اس کے ہر ظلم و مظالم پر آنکھ بند کرلیتا ہے ، ایسے کشمیر میں ، مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے، اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عمل درآمد کرانے کیلئے اس کے پاس وقت نہیں ہے۔مسلم ممالک میں مداخلت ، مسلم امہ کے خون سے ہولی کھیلنا ان کیلئے ویڈیو گیم بن گیا ہے ۔ کیا امریکہ اس بات کا انتظار کررہا ہے کہ ہندو انتہا پسند مودی سرکار ، پاکستان پر حملہ کرے اور پاکستان اس کی جارحیت کا جواب ویسا ہی دے ، جیسا اس نے ناگاساگی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر دیا تھا ۔دونوں ممالک نے مورچے سنبھال لئے ہیں ، اہداف کو نشانہ بنانے کے مہلک ہتھیار سرحدوں پر نصب کردیئے گئے ہیں خدانخواستہ اگر جنگ ہوئی تو کیا امریکہ اوربرطانیہ، پاکستان، بھارت جنگ کے معاملے سے غیر جانب دار رہیں گے کہ ، بھارت اور پاکستان کو اپنے معاملات خود حل کرنے دو ، ہم توغیر جانب دار ہیں۔یقیناََ ایسا نہیں ہوگا ۔۔ !! بلکہ الٹا امریکہ پاکستان پر عسکری اور اقتصادی پابندیاں لگا دے گا ، ساری ذمے داری پاکستان پر عائد کرے گا ، پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ میں قرار داد کو ویٹو کرنے کے بجائے ، اس کی حمایت کرے گا ، اسرائیل اور بھارت کی پیٹھ ٹھونکے گا کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی مدد کرو ، جس طرح امریکی بیڑا ، "غدر"71میں پاکستان کی’ مدد‘ کیلئے پہنچ رہا تھا ، لیکن راستے میں سوئی کی مانند سمندر میں گم ہوگیا ، اسی طرح امریکہ برطانیہ، گروہوں کی بنیاد پر جہاں مسالک کے خلاف داعش کی طرح گروہ بناکر سنی مسلمانوں کی دل آزاری کے ساتھ شیعہ مذہب پر بھی نکتہ چینی کرکے دونوں گروہوں کے درمیان جلتی پہ تیل ڈالنے کا کام جاری رکھے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای ، جب اس امر کا واضح طور پر علی اعلان کر رہے ہیں کہ اہل سنت کے برادارن اور آئمہ علیہ السلام ( بارہ اماموں) کے خلاف برطانوی شیعہ ، قابل احترام ہستیوں کی سیرت کے خلاف بولتے ہیں ، تو انھیں ایک اور قد م آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان اور ایران میں پہل کرتے ہوئے توہین صحابہ و اہل بیت کا قانون پاس کرادینا چاہیے کہ اہل سنت ہو یا اہل تشیع کی مذہبی ہستیوں کی سیرت کے خلاف (نعوذ باﷲ) بولنے ، لکھنے ، تقریر کرنے، بیان دینے اور الیکڑونک میڈیا ، سوشل میڈیا سمیت تمام پرنٹ میڈیا میں انفرادی یا گروہی بنیادوں پر مہم چلانے والے کی کم ازکم سزا ’ پھانسی ‘ ہوگی۔ ایران کے سپریم لیڈر جب برطانوی شیعہ کو اور امریکہ میں سنی کے نام پر ایسے عناصر کے متعلق کھلے ذہن کا مظاہرہ کررہے ہیں ، توکیا ان سے یہ بھی توقع کی جاسکتی ہے کہ انھیں پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کے قانون کے ساتھ ، توہین صحابہ رضوان اﷲ اجمعین ، ائمہ علیہم السلام (بارہ امام )کی سیرت اور توہین اہل بیت کرنے والوں کے خلاف پاکستان میں قانون سازی کرنے کیلئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں گے۔اس سے دونوں گروہوں کے درمیان ، برطانیہ اور امریکہ کی پھیلائی اور بُنی ہوئی سازش کا پردہ چاک ہو جائے گا ، اور مسلمانوں کے دونوں گروہوں کے درمیان دنیا بھر میں جو تنازعات ہیں ، ان کے حل کیلئے مدد ملے گی۔ کوئی مذہب ، کوئی دین کسی بھی دوسرے کے مذہب و دین کے خلاف ، اس کی معزز اور قابل احترام ہستیوں کے خلاف بولنے یا اس کے خلاف مسلح تشدد یا جبر کے ذریعے اپنا نظریہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اﷲ تعالی کا واضح حکم ہے کہ کسی کے جھوٹے خداؤں کو بُرا نہ کہو ، تاکہ وہ تمھارے سچے اﷲ کو بُرا ( نعوذ باﷲ) نہ کہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 740 Articles with 307377 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2016 Views: 506

Comments

آپ کی رائے