عظمت

(Sadia Javed, )
کون ہے........
ٹرن۔۔۔۔ٹرن۔۔۔۔ٹرن
اطلاعی گھنٹی دوبارہ بجی۔
ارے بھئ کون ہے؟
اس نے قدرے بلند آواز سے پوچھا۔
دروازہ کھولیے، میں ہوں عائشہ۔۔۔
فارحہ نے دروازہ کھولا تو عائشہ اندر داخل ہوئ۔
السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئیں۔۔۔۔
کیسی ہو عائشہ؟ اتنے عرصے کے بعد شکل دکھائ ہے! امامہ کیسی ہے؟
اس نے بیک وقت کئ سوال کرڈالے۔
ارےبھئ! اندر چلنا ہے یا یہیں سب کچھ پوچھ ڈالو گی؟
ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔آؤ...آو..
وہ عائشہ کو لے کر ڈرائنگ روم میں آگئ۔۔۔
اتنی دیر میں فارحہ کی امی جان بھی آوازیں سن کر اندر آگئ تھیں۔عائشہ نےانہیں دیکھ کر مودبانہ سلام عرض کیا۔
و علیکم السلام و رحمہ اللہ و برکاتہ....
انہوں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔حال احوال دریافت کیا۔... یہ بچی انہیں اپنی بیٹی فارحہ ہی کی طرح عزیز تھی۔۔۔
عائشہ اور فارحہ کی ملاقات بھی ایک حادثاتی سی تھی۔قریبی جامعہ میں ہفتہ وار درس میں شمولیت دونوں ماں بیٹی کے معمول میں شامل تھی۔ وہیں ان کی ملاقات نو مسلمہ عائشہ سے ہوئ جو اسلام کے بنیادی عقائد و مسائل سیکھنے آیا کرتی تھی۔اس نے اپنی ایک سکول کی ساتھی اور اس کے دیندار گھرانے سے متاثر ہو کر اسلام جیسی نعمت سے جھولی بھر لی تھی.مگر اس کے بعد اسے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ،وہ دور اس کی زندگی میں ایک بھیانک خواب سے کم کا درجہ نہیں رکھتا تھا.....باجی محترمہ اس کے قبول اسلام کے واقعات گاہے بگاہے سنایا کرتی تھیں جس سے سامعین کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت بڑھتی ہی چلی گئ .
سجیلہ بیگم کو یہ معصوم صورت و پاکیزہ سیرت بچی ایسی بھائ کہ انہوں نے فارحہ کو اس سے دوستی کی اجازت دے دی وگرنہ وہ ان چیزوں کے سخت خلاف تھیں۔ سال بھر قبل ہی عائشہ کی شادی ہوئ تھی اور اب دو ماہ کی امامہ اس کی گود میں تھی ۔موقع غنیمت جان کر وہ امامہ کو اپنی ساس کے حوالے کرکے فارحہ سے ملنے چلی آئ تھی۔۔۔
اپنی سوچوں سے نکل کر انہوں نے سر اٹھایا تو دونوں سہیلیوں کو سر جوڑے باتوں میں گم پایا۔
وہ آہستگی سے اٹھ کر کچن میں چلی آئیں۔
اور چائے کے لئےسامان تیار کرنے لگیں۔
ادھر گلے شکوے ختم ہونے کے بعد اب راز و نیاز چل رہے تھے۔عائشہ کے قبول اسلام کے بعد ایک نیک دل اور نیک سیرت گھرانے میں اس کی شادی ہوگئ تھی۔۔۔اس کے شوہر بےحد نفیس طبیعت کے مالک تھے۔ساس سسر اسے بیٹی صرف کہتے ہی نہ تھے بلکہ سمجھتے بھی تھے۔وہ ہر لمحہ رب کا شکر ادا کرتے نہ تھکتی تھی۔یہی باتیں وہ فارحہ سے کررہی تھی۔
اب تم اپنی سناؤ ، کب پیا دیس سدھار رہی ہو؟ اس نے فارحہ کو چڑایا۔
تمہیں میری آزادی کیوں پسند نہیں !!!
فارحہ نے آنکھیں دکھائیں۔
ہاں بھئ عثمان بھائ سے بات تو ہوتی ہوگی،آخر کو ان کی منکوحہ ہو۔۔۔اب ہم سے کیا پردہ داری ہے!
عائشہ کی رگ ظرافت پھڑک اٹھی۔
فارحہ کے گال لال گلاب ہوتے دیکھ کر وہ مزید چہکی-
ادھر ادھر کے فضول رسوم و رواج والی تقریبات تو آتی ہی رہتی ہیں مگر ان میں ہماری دلچسپی کا کیا کام اور کسی شرعی شادی کا فنکشن اٹینڈ کیے تو ایک عرصہ ہی ہوگیا ہے....اس نے مصنوعی آہ بھری.
چلو ہم پر نہیں تو ہمارے بہنوئ صاحب پر ہی کچھ ترس کھالو وہ تو۔۔۔۔۔۔
اس کی بات درمیان ہی میں رہ گئ تھی ۔ایک کشن کسی راکٹ کی مانند ہوا کے دوش پر اڑتا ہوا آیا اور اسکے منہ پر ہوائ حملہ کردیا۔ابھی وہ سنبھلی بھی نہ تھی کہ دوسرا۔۔۔۔پھر تیسرا۔۔۔۔۔۔کشنز بن بادل کی برسات کی طرح برس رہے تھےاور وہ ان تابڑ توڑ حملوں سے بچنے کے لئیےدونوں ہاتھوں سے دفاع کر رہی تھی۔کہ اچانک فارحہ کی امی کمرے میں داخل ہوئیں۔تو اس نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔
اُف میرے خدایا ! عائشہ، تم کب سدھروگی؟ تمہاری ان حرکتوں نے میرا ناک میں دم کر رکھا ہے۔رخصتی سر پر ہے اور یہ لڑکی مجال ہے کہ اپنے اندر کچھ سنجیدگی پیدا کرلے!
سجیلہ بیگم سر پکڑے بیٹھی تھیں اور فارحہ اس افتاد پر حواس باختہ۔...
امی جان! وہ۔۔۔۔یہ۔۔۔۔سارا قصور عائشہ کا ہے۔
ان کے گھورنے پر وہ منمنائ۔۔۔
اچھا تم لوگ اب انسان بنو ۔میں چائے لاتی ہوں. وہ گھرک کر چلتی بنیں۔اور ہاں۔۔۔۔۔کچھ یاد آنے پر یکدم مڑیں۔۔۔فارحہ ! تم کمرے کی حالت درست کرکے کچن سے چائے کے لوازمات لے آؤ۔
جی اچھا امی جان! اس نے گلو خلاصی ہونے پر شکر ادا کیا اور جلدی جلدی کشنز کو ترتیب سے لگانے لگی۔امی کے باہر نکلتے ہی دونوں کی ضبط کی ہوئ ہنسی کی فوارے پھوٹ پڑے۔
نجانے وہ مزید کتنی ہی دیر ہنستی رہتیں ،اگر امی کے پکارنے کی آواز کچن سے نہ آجاتی۔
فارحہ بگٹٹ کچن کی طرف بھاگی۔اور پھر چائے کے لوازمات سمیت واپس لوٹی۔
گھر کے بنے ہوئےچکن سموسے،چپل کباب،خستہ پکوڑے، دہی بھلےاور نجانے کیا کیا۔۔۔۔
جب تک فارحہ نےمیز سجائ تب تک سجیلہ بیگم بھی آچکی تھیں۔
واو یمی۔۔۔ آنٹی یو آر گریٹ !
عائشہ نے کھل کر تعریف کی۔
وہ سجیلہ بیگم کے مزاج سے بخوبی واقف تھی۔وہ ایک سنجیدہ مزاج ماں تھیں جو اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ "کھلاؤ سونے کا نوالہ مگر دیکھو شیر کی نظر سے"
ان کی باقی اولاد بردبار طبیعت کی تھی مگر فارحہ کا بات بے بات کھلکھلانا انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔سو فارحہ دبک کر ایک طرف بیٹھی تھی ۔عائشہ جانتی تھی کہ اگلے دو دن تک اس کی درگت بننی ہے۔سو وہ آنٹی سے باتیں کرتے ہوئے شرارتی نظروں سے گاہےبگاہے اس پر نظر ڈال لیتی۔
بیٹی ! کبھی اپنی ساس امی کو لے کر ہماری طرف آؤ۔تم سے ان کی اتنی تعریفیں سن کر مجھے بھی اس عظیم خاتون سے ملنے کا اشتیاق ہورہا ہے۔
انہوں نے عائشہ کو دعوت دی۔
جی آنٹی ضرور! قبول اسلام کے بعد میں جس طرح بے یار و مددگار تھی، نام نہاد مسلمانوں کے رویوں سے دلبرداشتہ ہو چکی تھی جو میری حوصلہ افزائ کرنے کی بجائے مجھے ٹٹولنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے.میں اپنے پروردگار کے سامنے اپنے دکھ بہادیتی کہ کیا یہ تیرےاسی حبیب کے امتی ہیں جو یتیموں کا ماوی اور مسکینوں کا ملجا تھے.......اور وہ رب کریم مسکرا مسکرا کر مجھے تھپکتا رہتا اور میرا دل اطمینان حاصل کرلیتا.
اس نازک وقت میں اس نے مجھے طیب کے گھرانے سےملوادیا جنہوں نے نہ صرف مجھے سہارا دیا بلکہ اپنے لائق فائق بیٹے کے ساتھ مجھے رشتہ ازدواج جیسے خوبصورت بندھن میں بھی باندھ دیا۔ اگر میں یہ کہوں کہ میری ساس اور سسر مجھے اپنی سگی اولاد سے بھی بڑھ کر چاہتے ہیں تو اس میں قطعا کوئ مبالغہ نہیں ہوگا۔ اپنے رب کی اس نوازش پر میں زندگی بھر بھی سجدے سے سر نہ اٹھاؤں تو بھی حق شکر ادا نہیں ہوسکتا۔میرا اپنے رب کے تمام وعدوں پر یقین بڑھتا ہی چلا گیا....
ما ودعك ربك و ما قلى
ان مع العسر يسرا
ڈرائنگ روم کی فضا پر سوز ہوگئ تھی اور سجیلہ بیگم سوچ رہی تھیں کہ وہ بھی اپنے رب کی مہمان کسی نو مسلمہ کو بہو بنائیں گی۔تا کہ اپنے رب کے حضور سرخ رو ہو سکیں۔
از قلم: بنت میر
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sadia Javed

Read More Articles by Sadia Javed: 24 Articles with 12145 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2016 Views: 458

Comments

آپ کی رائے