کوکبِ سخن گری۔ خالد احمد

(Khalid Mustafa, )
۹ جون ۱۹۴۳؁ء کو لکھنو میں پیدا ہونے والے خالد احمد ۱۸ اور ۱۹ مارچ ۲۰۱۳؁ء کی درمیانی شب لاہو ر میں انتقال کر گئے۔ وہ نثری ادب میں تہلکہ مچانے والی دو بہنوں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے بڑے بھائی توصیف احمد خان ایک نامو رصحافی تھے۔ لیکن خالد احمد کی پہچان ان حوالوں سے ماورا تھی کیونکہ ان کا اپنا شعری حوالہ بہت مضبوط اور توانا تھا۔ اُنہوں نے میدانِ سخن میں اس طمطراق سے قدم رکھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی بلندیوں کو جا چُھوا۔ خالد احمد نے اپنا لڑکپن لاہور میں گذارا۔ مسلم ماڈل ہائی سکول لاہور سے میٹرک اور دیال سنگھ کالج لاہور سے بی ایس سی کی ڈگری لی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے فزکس میں ایم ایس سی کرنے کے بعد ۱۹۷۹؁ء کو واپڈا میں بحیثیت انفارمیشن افسر تعینات ہوئے اور ایک دہائی قبل اس محکمے سے بحیثیت ڈپٹی ڈائریکٹر ریٹائرمنٹ لی۔ خالد احمد کے شعری مجموعوں میں تشبیب (نعتیہ کلام)، ایک مٹھی ہوا، ہتھیلیوں پہ چراغ ، پہلی صدا پرندے کی، دراز پلکوں کے سائے سائے اور نم گرفتہ شامل ہیں۔ آپ کی دو نثری کتب لمحہ لمحہ اور بین السطور کے نام سے شائع ہوئیں۔مارچ ۲۰۱۱؁ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے آپ کوتمغہ برائے حسنِ کارکردگی دیا گیا۔خالد احمد کی شعر گوئی کے متعلق خورشید رضوی کچھ اس طرح رقم طراز ہیں۔’’خالد احمد کے ہاں حمد ، نعت اور سلام کو بطورِ خاص پڑھنا چاہئے، ایک گہر ی اور پر خلوص مذہبیت خالد احمد کے باطن میں ایک ایسے چشمے کی طرح چھلکتی رہتی ہے جس کے سوتے کبھی کم آبی کا شکار نہیں ہوتے چنانچہ اس کی طویل حمدوں نعتوں اور سلاموں میں ہر شعر چڑھاؤ کی طرف ہی محسوس ہوتا ہے اور کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ کھینچ تان کر جزر کو مد میں تبدیل کیا جا رہا ہے ‘‘ نعت کے حوالے سے خالد احمد کا یہ نمائندہ شعر زبان زد خاص و عام ہے۔
خالد احمد تیری نسبت سے ہے خالد احمد
تو نے پاتال کی قسمت میں بھی رفعت لکھّی

غزل کے حوالے سے بات کی جائے تو خالد احمد نے نہ صرف غزل کی روایت کو آگے بڑھایا بلکہ اس صنفِ سخن کو چار چاند لگا دیئے۔خالد احمدکی شاعر ی کے متعلق احمد ندیم قاسمی کا یہ تبصرہ کسی اعزاز سے کم نہیں۔’’خالد احمد شعرو ادب کے آفاق گیر امکانات سے چھلک رہا ہے ۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ خالد کے باطن میں شعر و ادب کی عظمت کا ایک پہاڑ کا سر اٹھائے کھڑا ہے‘‘خالد احمد کی درج ذیل غزل نے تو اتنا طویل سفر کیا کہ دنیا بھر کے قارئینِ ادب تک رسائی حاصل کر لی۔
ترکِ تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں
حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر
بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تو نہ میں

ہرچند اختلاف کے پہلو ہزار تھے
وا کر سکا مگر لبِ گویا نہ تو نہ میں
نوحے فصیلِ ضبط سے اونچے نہ ہو سکے
کھل کر دیارِ سنگ میں رویا نہ تو نہ میں
جب بھی نظر اُٹھی تو فلک کی طرف اُٹھی
برگشتہ آسمان سے گویا نہ تو نہ میں

خالد احمد کی طویل نظمیں ہماری شعری روایت میں ایک خوبصورت اضافہ ہیں۔ ٹریفک پھنس گئی ہے ، مادھولال حسین کیلئے، بھگت کبیر کیلئے اور ساونی ایسی نظمیں ہیں جو اردو ادب میں ہمیشہ تحسین کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔اُن کی نظم ’’ٹریفک پھنس گئی ہے‘‘ کا پہلا اور
آخری بند ملاحظہ ہو ۔
وہ چہرہ اجنبی تھا
سخن میں بے رخی تھی
نظر میں آسمانی بے حسی تھی
مگر وہ نام کتنا آشنا تھا
مجھے آہستہ آہستہ بہت کچھ یاد آتا جا رہا تھا
خزاں کے رنگ پھیکے پڑ رہے ہیں
کہ پتے زندگی کے بوجھ سے تنگ آ چکے ہیں
٭٭٭٭٭٭
ٹریفک پھنس گئی تھی
وہ سبز آنکھیں تو کب کی اپنے گھر کی ہو
چکی ہیں
سو اب یوں ہے کہ میں اس عمر میں بھی
اسی ٹک شاپ پر بیٹھا ہوا ہوں
نہ جانے کس کا رستہ دیکھتا ہوں
کوئی آجائے میرا بل چکا دے
یہ بارِ جاں ، یہ قرضِ دل چکا دے
ٹریفک پھنس گئی ہے

خالد احمد نے کالم نگار ی بھی کی۔شروع میں وہ روزنامہ مشرق کے لئے کالم لکھتے رہے اوربعدازاں لمحہ لمحہ کے نام سے آپ نے نوائے وقت میں ایک طویل عرصہ کالم نگاری کی ۔ ان کالموں میں خالد احمد نے ادب ، سیاست، ہمارے سماجی رویوّں اور معاشرتی نا انصافیوں کو موضوع بنایا۔خالد احمد ایک اچھا شاعر ، ادیب اور کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے انسان بھی تھے۔ وہ مجلسی آدمی تھے ۔ پہلے پہل انار کلی میں اُن کابسیرا ہوتا مگر بعد ازاں الفضل ہوٹل لکشمی چوک لاہور اُن کا ٹھکانا تھا۔ کبھی کبھار پاک ٹی ہاؤس جاتے مگر جب الحمرا میں ادبی بیٹھک کا آغاز ہوا تو خالد احمد نے بلاناغہ وہاں حاضری دینا شروع کر دی ۔ ان کے گرد نئے اور پرانے لکھنے والوں کا ایک ہجوم موجود رہتا تھا۔اُن کی پٹاری سے کبھی لطیفے اور قہقے نکلتے تو کبھی جدید شعری روایت اور نئے اسلوب کی کہانیاں ۔ عہدِ حاضر کے منظر نامے پر ہمیشہ اُن کی نظر رہتی اور وہ نئے لکھنے والوں کی اس تناظر میں رہنمائی فرماتے۔ میں اپنے ہمدم ِدیرنیہ شہزاد نیئر کے ہمراہ لاہور میں ایک دفعہ الفضل ہوٹل پر اُن سے مِلا اور اُن کی مہمان نوازی ،بذلہ سخبی اور زبان دانی و زبان سازی سے بہت محظوظ ہوا۔ اس ملاقات کی تفصیلات میں نے خالد احمد کو لکھے گئے ایک خط میں بیان کی تھیں جو ماہنامہ بیاض کے اگست ۲۰۰۴؁ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ لاہور سے تسلسل کے ساتھ شائع ہونے والا ماہنامہ بیاض خالد احمد کا Passionتھا۔ ہر ماہ کی پہلی دوسری تاریخ کو ماہنامہ بیاض شعراء اور ادباء کے دروازوں پر دستک دے رہا ہوتاہے۔ کسی بھی شاعر ادیب نے اگر ایک دفعہ بیاض کی سالانہ زرِاعانت (جو بہت معقول ہے) بجھوا دی تو وہ تمام عمر کیلئے بیاض کا حقدار ٹھہرا۔ خالد احمد نے کبھی زرِاعانت کیلئے کسی کو یاد دہانی نہیں کروائی ۔ اور پھر خالد احمد کے اس ادبی جرید ے ماہنامہ بیاض کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزا تعداد جگہ پاتی ۔ بیاض کی ادارت کے علاوہ خالد احمد شروع میں سہ ماہی فنون کے مدیر اعزازی بھی رہے۔ احمد ندیم قاسمی سے خالد احمد کا ایک روحانی تعلق تھا۔ جس کا اظہار انہوں نے خالد احمد کی ساٹھویں سالگرہ پر لکھے گئے مضمون میں کیا ۔یہ مضمون ماہنامہ بیاض کے جولائی ۲۰۰۳؁ء کے شمارے میں موجود ہے ۔ قاسمی صاحب فرماتے ہیں۔’’ خالد احمد میرے روحانی وجود کا ایک حصہ ہے ۔ خالد جب پانچ چھ سال کی عمر میں اپنی بہنوں اور اپنی عظیم ماں کے ہمراہ لکھنوء سے ہجرت کر کے لاہور آیا تو میں نے پشاور سے لاہور آ کر اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کے بعد پندرہ سولہ برس تک وہ میرے زیرِ سایہ اور زیرِ تربیت رہا۔ چنانچہ اگراس میں کوئی خرابی ہے تو اس کا سبب میرا اندازِ تربیت ہو گا اور اس میں کو ئی خوبی ہے تو یہ اس کے والد گرامی حضرت مولا نا مصطفی خان مداح مرحو م اور اس کی صحیح معنوں میں عظیم ماں محترمہ انور جہاں بیگم مرحومہ کی دین ہے‘‘۔خالد احمد کو ان کی ادبی خدمات کے صلے میں مارچ ۲۰۱۱؁ء کوصدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی کے اعزاز سے نوازا گیا۔میں اپنے مضمون کا اختتام شہزاد نیئر کے ان اشعار پر کرنا چاہو ں گا جو اُس نے خالد احمد کی محبت میں بہت عرصہ قبل لکھے تھے۔
اے کوکبِ سخن گری ، اے کہکشان ِحرف
اُترا ہے ارضِ دل پہ تیری آسمانِ حرف
تو تھا زیاں پسند ، زیاں مند بھی رہا
تو نے جہانِ حرص میں کھولی دکانِ حرف
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Khalid Mustafa

Read More Articles by Khalid Mustafa: 22 Articles with 24361 views »
Actual Name. Khalid Mehmood
Literary Name. Khalid Mustafa
Qualification. MA Urdu , MSc Mass Comm
Publications. شعری مجموعہ : خواب لہلہانے لگے
تحق
.. View More
27 Sep, 2016 Views: 557

Comments

آپ کی رائے
ماہنامہ بیاض کا اجراء کب ہوا؟
By: Syed Waseem Shah , Mansehra on Oct, 21 2018
Reply Reply
0 Like