فرہنگِ لفظیاتِ غالب : ایک مطالعہ

(Safdar Imam Qadri, India)
غالبؔ بتِ ہزارشیوہ کی طرح ہیں۔ انھیں زاہد بھی پسند کرتا ہے اور ملحد بھی، ا نھیں مفکر عزیز رکھتا ہے تو ساتھ ہی بے فکری سے زندگی گزارنے والے کو بھی وہ کم عزیز نہیں۔ زبان کی سادگی کا شیدائی غالبؔ کا دیوانہ ہے مگر فارسی اور عربی کی مشکل پسند کیفیت بھی بہتوں کو غالب کی جان معلوم ہوتی ہے۔ جام و مینا کے قتیل غالبؔ کے اپنے ہیں تو مسجد و محراب کے باشندگان کے لیے بھی غالبؔ کے اشعار روح کو گرمانے والے لگتے ہیں۔ جنھیں لفظوں اور ترکیبوں سے عشق ہے، انھیں غالبؔ پسند ہیں اور جو شعر میں جہانِ معنی ڈھونڈتے پھرتے ہیں، انھیں بھی غالب اپنی طرف بلاتا دکھائی دیتا ہے۔ جنھیں قلب میں تیرِ نیم کش کا وار بہ خوشی جھیلنا ہے، وہ خرمنِ غالب کے خوشہ چیں ہیں اور جنھیں تصوف کی گھنی چھاؤں چاہیے، وہ بھی غالب سے قربت کا ہی واسطہ رکھتے ہیں۔ اسی لیے غالب شناسی ایک بحرناپیدا کنار ہے۔ ہر محقق اور نقّاد جب شعر فہمی کے منصبِ جلالی پر ہوتا ہے تو اُسے ایک بار، کم از کم ایک بار دیوانِ غالبؔ کی طرف رجوع کرنا ہی پڑتا ہے۔
معتبر نقّاد اور شاعر سلیم شہزاد کی ضخیم کتاب ’فرہنگِ لفظیاتِ غالبؔ‘ جب سامنے آئی تو پھر ایک بار غالبؔ کی ہزارشیوگی پر یقین کرنا پڑا۔ ۶۷۵؍ صفحات کی اس کتاب میں مصنف کی غیر مطبوعہ ’فرہنگ دیوانِ غالب‘سے حصّۂ تراکیب اور کچھ مخصوص الفاظ کو علاحدہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے اس کام کے سلسلے سے اپنے بارہ برس کی مشقت کا ذکر کیا ہے۔ جب حصّۂ تراکیب پونے سات سو صفحات پر مشتمل ہے، تو اصل فرہنگ کس قدر ضخیم ہوگی، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اﷲ کرے یہ کام جلد از جلد شائع ہوکر سب کے مطالعے کا حصّہ بن جائے۔ جب جب غالب کے سلسلے کی فرہنگوں اور شارحین کے ضخیم کا موں پر نظر جاتی ہے اور سامنے دیوانِ غالب کی مختصر ضخامت نگاہ میں ہوتی ہے؛ اس وقت یہ احساس شدید تر ہوتا ہے کہ شعرایسے ہوں کہ جن کے مفاہیم کی تلاش میں نسل درنسل اپنی خدمات پیش کرتی رہے اور شاعر اپنے نئے مفاہیم کی بساط بچھاتا پھرے۔
سلیم شہزاد نے غالب کی تراکیب کو خاص طور پر موضوع بنایا ہے۔ غالب کو بجاطور پر اپنی تراکیب اور زبان دانی پر ناز تھا۔ اسی لیے شارحین نے بھی اپنی سب سے زیادہ توجہ انھی تراکیب پر صرف کی ہے۔ معنوی اعتبار سے اگر ان تراکیب کی کلیدی حیثیت ہے تو یہ بھی سچّائی ہے کہ غالب کی مشکل پسندی اور معنوی نارسائی کے دھارے بھی یہیں سے پھوٹتے ہیں۔ اس لیے مرکبّاتِ غالب پر کام کرنے والے کے مقدر میں کامیابیوں کے ساتھ غالب ہی کی طرح معنوی نامرادی کا ٹھپا لگنا لازمی ہے۔ جب شاعر پرنافہمی کا الزام ثابت ہو چکا ہو تب کسی شارح یا غالب کے فرہنگ نویس کو کیسے ان مشکلات سے نجات مل سکتی ہے۔ اس لیے سلیم شہزاد کی یہ فرہنگ ان کی لاکھ کامیابیوں کے باوجود ان کی نارسائیوں اور کوتاہ دستیوں کا مظہر بھی ہے۔ اس تبصرے میں اختصار کے ساتھ دونوں پہلو واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
سلیم شہزاد نے شمس الرحمان فاروقی کی مشہورِ زمانہ کتاب ’’شعرِ شورا نگیر‘‘ پر غالباً پہلا معتر ضانہ تبصرہ پیش کیا تھا۔ اسی وقت سے تعبیروشرح اور لفظ ومعنی کے کوچے کی سیّاحی میں ان کی مہارت ظاہر ہونے لگی تھی۔ ایک طویل مدت سے، کم از کم چار دہائیوں سے وہ شاعری اور تنقید دونوں صنفوں میں سرگرم عمل رہے ہیں۔ اسی لیے ان کے اکثر وبیشتر کام سرسری یا عمومی نوعیت کے نہیں ہوتے۔ یہ کتاب بھی ہمارے زمانے کی خاص کتابوں میں شمار کی جائے گی۔ اس کی افادیت طلبا سے لے کر علما تک یکساں ہے۔ جنھیں اپنی زبان دانی پر بہت ناز ہے، انھیں غالب کا جب کوئی شعر نامرادانہ آئینہ دکھاتا ہے تب ایسی کتابوں یا فرہنگوں سے رجوع کیے بغیر ان کے لیے چارہ نہیں رہتا۔ ہر چند آپ انھیں پڑھ کر ان کے مفاہیم سے انکار فرمادیں لیکن ایک نظران پر ڈالنی ہی پڑتی ہے۔ سلیم شہزاد نے انتخاب اور بے ترتیبی کے چلتے پھرتے اصولوں کا استعمال کرکے اس کام کو آسان بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس بات پراصرار کیا کہ غالب کے ’’معروف و غیر معروف اردو کلام کی شعری لفظیات‘‘ کا اس میں احاطہ کیا جائے۔ اکثر شرحوں میں انتخابِ اشعار فرار کاوہ ذریعہ ہوتاہے جہاں شعر زیادہ الجھن پیدا کررہا ہو تو اُسے القط کردیا جائے۔ یہ کام طباطبائی سے لے کر شمس الرحمان فاروقی تک، سب نے کیا ہے۔ سلیم شہزاد نے اپنے لیے ایسی کوئی سہولت یافرار کی راہ منتخب نہیں کی۔
تحقیقی اعتبار سے غور کریں تو اس فرہنگ کے ساتھ کئی مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اتنا طویل، دقت طلب، صبر آزما اور عالمانہ کام کرنے والے کو یہ کیوں نہیں یاد آیا کہ اپنے بنیادی اور ثانوی ماخذات کا اعلان کردے۔ بڑی بڑی لغات جب علما اور محققین کو اپنے پیچ میں الجھا لیتی ہیں اور کسی ایک لفظ کے معنی کے تعین میں بُعدِ مشرقین سا اختلاف ہوجاتا ہے؛ ایسے میں سلیم شہزاد کے لیے لازم تھا کہ فرہنگ میں شامل الفاظ و تراکیب کے معنی پیش کرتے ہوئے بنیادی لغات کی صاف صاف نشان دہی کردیں۔ الفاظ کے معنی متعیّن کرنے میں رشید حسن خاں نے اپنی فرہنگوں یادیگر کتابوں میں جو تحقیقی اصول رائج کیے، وہ لائق اتباع ہیں۔ سلیم شہزاد شاید غیر ضروری طور پر علمی اعتماد میں گرفتار ہوگئے اور اپنے سابقین کے تحقیقی اصولوں سے دور جاگرے۔
یہی اس فرہنگ کے مقدمے کا بھی حال ہے۔ ہر آدمی کی یہ توقع ہوتی ہے کہ جس شخص نے کئی دہائیاں کلامِ غالب کے مفاہیم متعین کرنے میں صرف کی ہوں، اس کے علمی تجربات اور مشاہدات بھرپور ہوں گے اور ان سے غالب فہمی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ اسی کے ساتھ پڑھنے والوں کی یہ توقع بھی ہوتی ہے کہ غالب کے شارحین اور فرہنگ نویسوں سے جب آپ استفادہ کررہے ہیں تو اس میں کون سی ایسی پریشانی ہے کہ آپ صاف صاف یہ نہیں بتاتے کہ کس شرح یا کس فرہنگ میں کون سا حصّہ اچھا ہے یا کہاں خس و خاشاک کا ڈھیر ہے۔ پندرہ صفحات پر مشتمل مقدمہ ایسا رسمی تعارف نامہ ہے جس میں براے نام کچھ فرہنگوں یا شارحین کا ذکر کردیا گیا ہے۔ تحقیقی کاموں کے لیے یہ شیوہ نامناسب اور علمی کوتاہ دستی کا مظہر ہے۔
دنیا کی ہر تحقیق میں یہ بتانا لازم ہوتا ہے کہ اس موضوع سے متعلق موجود مواد کا مطالعہ آپ کو کس تحقیقی پڑاو تک پہنچنے میں مدد گار ثابت ہوا، اس کی بہ صراحت و ضاحت متوقع ہوتی ہے کیوں کہ یہیں سے نئے انکشافات اور ایجادات کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ سلیم شہزاد نے جس انداز سے اس کتاب کے مشتملات پیش کیے ہیں، ان میں ایک تحکمانہ شان نمایاں ہے۔ بین السطور سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ غالب کے حوالے سے شرح و تعبیر یا لفظیات کے سلسلے سے کوئی کارآمد عالمانہ کام ہوا ہی نہیں۔ اسی میں وہ اپنے قاموسی کام کا علمی جواز پیش کرتے ہیں لیکن یہ علمی کوتاہ دستی اور تحقیقی بدتوفیقی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ فرہنگوں کا کام ’’ایجاد بندہ‘‘ نہیں ہوتا۔ لفظوں کے معنی کا ابتدائی رخ تو فرہنگ نویس ہی طے کرتے ہیں۔ اس کا اقرار کرنے کے بعد ہی یہ صورت پیدا ہوتی ہے کہ غالب کی شاعری کے مخصوص تناظر میں آپ ان الفاظ یا تراکیب کے معنوی طِلسم کو حل کریں لیکن اس کام میں آپ فرہنگ نویسوں کے احسانات کو کیوں چھپانا چاہتے ہیں؟ سلیم شہزاد کے اچھے کام میں یہ کوتاہی زیب نہیں دیتی۔
ابتداً اس بات کے لیے معذرت کرلی جائے کہ ایک مختصر تبصرے میں اس قدر ضخیم کتاب کی تمام تراکیب کا جائزہ ناممکن ہے۔ اس عجز میں یہ مسئلہ بھی قائم رہے گا کہ اس فرہنگ کی بہت ساری خصوصیات یا تسامحات بھی اس طرح واشگاف نہیں ہوپائیں گی۔ لیکن بہ طور مثال چند امور کی طرف اشارہ کر دینے سے یہ سمجھنے میں کچھ دیر نہیں لگتی کہ اس دریا میں کون کون سے موتی یا پتھر موجود ہیں ––
۱۔ ’شہنشاہِ آسماں اورنگ، کے معنی درج ہیں ’آسمان کے تخت والاباد شاہ‘ (ص۔ ۴۲۹) اس معنی سے اس ترکیب کا صحیح تصور ذہن میں نہیں آتا۔ فرہنگ میں مزید صراحت چاہیے تھی۔
۲۔ ’شوخیِ تحریر‘ کے معنی درج ہیں’ مصوری (فن کاری) کی شرارت ؍ مہارت (ص۔ ۴۲۵)۔ یہ معنی بھی نہ صرف نا مکمل ہیں بلکہ غالب کے اس عظیم شعر کے حسن سے ہمیں دور کردیتے ہیں۔
۳۔ ’آتش خانہ‘ کے معنی درج ہیں ۔ ’عبادت کے مقصد سے جہاں ہر وقت آگ جلتی ہو، (ص۔۲۷)
اس تفصیل میں بھی وضاحت ادھوری رہ گئی ہے۔
۴۔ ’اشکِ دیدۂ خُرشید، کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ ’سورج کی آنکھ کا آنسو‘ (ص۔۵۸)
اس معنی سے بھلا کون غالب کی ترکیب کا لطف اٹھا سکتا ہے۔
۵۔ ’چشمِ نرگس، کے تعلق سے یہ تفصیل لکھی گئی ہے : گلِ نرگس کی آنکھ یعنی گلِ نرگس آپ جس کی بناوٹ آنکھ کی طرح ہوتی اور اسے نابینا سمجھا جاتا ہے (ص۔۷۱۱) اس معنی سے سمجھا ہوا شعر غارت ہو سکتا ہے۔
۶۔ ’سرشک، اس کے معنی ’آنسو‘ (ص ۔ ۳۸۳) درج ہیں۔ مثال میں دو مصرعے پیش کیے گئے ہیں :
لیکن ردیف الف کا مشہور شعر ندارد ہے :
نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مثرگاں کا
۷۔ ’عیسی، اس کے معنی مسیحائی (ص۔ ۴۸۱) درج ہیں۔ اس سلسلے سے عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی غالب کے یہاں اس کی دونوں شکلوں کے استعمال پر کوئی روشنی ڈالی گئی ہے (ملاحظہ ہو : حریفِ دم عیسی نہ ہوا)
۸۔ محشر ستانِ بے قراری، کے معنی لکھے گئے ہیں۔ ’بے تابیوں کے جمع ہونے کا مقام‘ (ص۔۵۷۶)۔ اسی طرح ’محشر ستانِ نگاہ‘ کا مفہوم ’نگاہوں کا ہجوم‘ (ص۔ ۵۷۶) لکھا گیا ہے۔ اشعار کی تفہیم کے مرحلے میں ایسے معانی بدذوقی قرار دیے جائیں گے۔
۹۔ ’’نبضِ رگِ گل‘‘ کے معنی ’پھول کی رگیں‘ لکھا گیا ہے (ص۔۶۱۹) ترکیب سے معنی کی پیش کش کے دوران نبض کہاں رفو چکر ہوگئی‘ سمجھ میں نہیں آتا۔
۱۰۔ ’یک بار‘ کے معنی ’دیکھتے دیکھتے ؍اچانک‘ (ص۔۶۷۲) درج ہیں۔ ’یک قدم‘ کے معنی ’تھوڑی سی‘ (ص۔۶۷۴) لکھے گئے ہیں۔ یہ تمام معانی ناکافی ہیں۔ مرتبِ فرہنگ سے ان کی تفصیلات چاہیے۔
۱۱۔ ’زنّار رگِ سنگ، اس کے معنی درج ہیں‘ پتھر کی رگ کا زنّار یعنی یہ رگ آپ‘ (ص۔۳۵۶) اس معنی میں جو وضاحت ہے، اس سے معنی کی تفہیم میں مزید رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔
۱۲۔ ’رخش عمر‘ کے معنی اس طرح لکھے گئے ہیں۔ ’عمر (کی مدت) کا گھوڑا یعنی (تیزی سے گزرتی) عمر آپ، (۳۲۳) یہاں بھی جو بات آسانی سے کہی جا سکتی تھی، اس کے لیے زبان کی ایسی کجی پیدا کی گئی کہ معنی خبط ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
۱۳۔ ’تارِ بستر‘ کے معنی درج ہیں۔ بستر کا ہر حصّہ ؍ تارتار (ص۔۱۴۶) غالب کا مصرع ہے :
تپش سے میری وقفِ کش مکش ہرتارِ بستر ہے
اس لیے معنی میں ’ہر‘ کا استعمال غیر ضروری ہے۔
۱۴۔ ’چشمِ نقشِ قدم‘ اس کے معنی اس طرح مندرج ہیں۔ ’نقشِ قدم کے نشان کی آنکھ یعنی قدم کا نشان آپ، (ص۔۲۱۱) یہاں نقش اور نشان دونوں کو معنی میں شامل کرکے پتا نہیں فرہنگ نویس کیا کہنا چاہتے ہیں۔
۱۵۔ ’ساقیِ گردوں‘اس کے معنی لکھے گئے ہیں۔ ’آسمان کا ساقی یعنی آسمان آپ‘ (ص۔۳۶۷) غالب کا مصرع ہے۔
مے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے
سلیم شہزاد نے معنی میں گردوں کی اہمیت تو سمجھی لیکن ساقی کو دیس نکالا دے دیا ہے۔
فرہنگ نویس نے یوں تو اس کتاب کے دائرۂ کار میں مرکباتِ غالب کو مرکزی حیثیت دی ہے اور ننانوے فی صدی مرکبات ہی شاملِ متن ہیں لیکن نہ جانے کس عالم میں بعض سامنے کے الفاظ یعنی مفرد الفاظ یا محاورات اس میں شامل کرکے ان کے معنی درج کردیے گئے ہیں۔ انھیں کسی بھی طرح سے مرکبات کا حصہ نہیں مانا جا سکتا۔ مصنف نے کتاب کا نام ضرور ’فرہنگ لفظیاتِ غالب‘ رکھا ہے۔ لیکن ان کا اصل معاملہ تراکیب سے ہے لیکن دیکھیے کہ ان جیسے سیکڑوں الفاظ آخر کس اصول کے تحت اس فرہنگ میں شامل ہو گئے –– آرمیدن (ص۔۳۰)، آرمیدگی (ص۔۳۲)، اسامی (ص۔۵۶)، اشارت (ص۔۵۷)، بلد (ص۔۱۰۲)، پیوند (ص۔۱۴۳)، حجاب (ص۔ ۲۱۷)، خجستہ (ص۔۲۴۴)، خراب (ص۔۲۴۶)، ریختہ (ص۔۳۴۵)، رہین (ص۔۳۴۴)، زنہار (ص۔۳۵۶)، زہے (ص۔۳۵۹)، زیاد (ص۔۳۵۹)، سبحہ (ص۔۳۷۱)، سبیل (ص۔۳۷۳)، سپہر (ص۔۳۷۳) شیوہ (ص۔۴۳۲)، صلا (ص۔ ۴۴۱)، فتاد گی (ص۔۴۹۴)، نیستاں، نیستی، نیشتر (ص۔۶۴۵)، ہرزہ (ص۔۶۶۳)، ہمہ (ص۔ ۶۶۵)، موحد (ص۔۶۰۵)، ناطقہ (ص۔ ۶۱۵)۔ اسی طرح مرکبّات کے درمیان ذیل کے محاورات کی شمولیت غیر ضروری معلوم ہوتی ہے : آفتابی کرنا (ص۔۳۵)، ریختہ کہنا (ص۔۳۴۵)، منطبع ہونا (ص۔ ۶۰۱)، مہتابی کرنا (ص۔۶۰۷)، مے کشیدن (ص۔۶۱۰)، ناقوس کرنا (ص۔۶۱۶)، ہوا باندھنا (ص۔۶۶۷) وغیرہ
اس فرہنگ میں جگہ جگہ ادبی صنعتوں اور رعایاتِ لفظی اور معنوی کے تعلق سے اشارے کیے گئے ہیں۔ اس میں کہیں کہیں غالب کی زبان دانی کو بھی تختۂ مشق بنانے سے مرتب نے گریز نہیں کیا ہے۔ (ص۔۵۱۵، ص۔۳۷۵ اور ص۔۱۴۷) اس سے مصنّف کی تنقیدی توجہ کا احساس ہوتا ہے لیکن جس انداز میں یہ اشارے لکھے گئے ہیں، وہ حددرجہ تحکمانہ اور دوسرے نقّاد اور محققین کی تحریروں سے بے پروائی کی دلیل ہیں۔ معنی کی تفصیل بتانے میں حالاں کہ فرہنگ نویس نے کم سے کم لفظوں میں کام چلانے کی کوشش کی ہے لیکن الف بائی ترتیب سے ان تراکیب کی یکجائی سے یہ لطف سامنے آتا ہے کہ ہم دیکھ سکیں کہ غالب ایک کلیدی لفظ سے کس طرح نوبہ نو معنوی تماشے کرتے چلتے ہیں۔ غالب کی اس لسانی مہارت کو دیکھنے کے لیے آئینۂ پیمانہ، سبک، شوخی، گرمی اور گرم جیسے لفظوں سے بنائی گئی ترکیبات کو ملاحظہ کرنا چاہیے۔ یہیں غالب کا جہانِ معنی پوشیدہ ہے یا گنجینۂ معنی کا طلسم اُبھر کر سامنے آتا ہے۔
سلیم شہزاد کی یہ کتاب ہر غالب شناس کے لیے ایک لازمی فرہنگ ہے۔ اس کی ناکامیوں سے بھی غالب شناسوں کو روشنی حاصل ہوگی۔ زبان کی بعض خامیاں اس فرہنگ میں موجود ہیں۔ ’آپ‘ لفظ کا استعمال جن معنوں اور جس جس انداز میں فرہنگ میں ہزاروں جگہ ہوا ہے، اسے سمجھنے کے لیے ایک علاحدہ فرہنگ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ فرہنگ تیار کرنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے معنوں کو آخری سچّائی کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے اسلوب کی سطح پر حکمِ آخری کا انداز آشکارہوتا ہے۔ بڑی بڑی لغات مثلاً فرہنگ آصفیہ اور نوراللغات میں توشعراے کرام اور دیگر ادیبوں کے استعمال کو اہمیت دی گئی ہے اور ان کے اشعار سے اپنے پیش کردہ معنی کا جواز پیدا کیا گیا ہے۔ غالب کے اکثر وبیشتر شارحین نے ایک دوسرے کی تشریحات کا بہ غور مطالعہ کیا اور ان کی خوبیوں خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی نئے نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی ہے لیکن سلیم شہزاد نے علمی کاموں کے اس جمہوری رخ سے تعلق نہیں رکھا اور اتنے بڑے موضوع پر ایک ایسی کتاب تیار کردی جو تنقیدی صلاح اور مشورے کے دروازوں کو کھولنا نہیں چاہتی ہے۔ میرے لیے یہ ماننا ناممکن ہے کہ سلیم شہزاد نے اس فرہنگ کی تیاری کے دوران غالب شناسی سے متعلق سیکڑوں بنیادی دستاویزات اور شارحینِ غالب کی جلد در جلد کو ششوں سے خود کو غافل رکھا ہوگا۔ لیکن نہ جانے کس علمی جلال اور غالب کی مانوس انا پسندی کے زیراثر آکر ایسی خو اپنالی جس میں یہ لازم ہوگیا کہ پونے سات سو صفحات پر مشتمل فرہنگ نویس کسی ایک کتاب کے نتائج سے استفادہ کرنے کی بات کا بہ بانگِ دہل اعلان نہیں کرنا چاہتا۔ یہ علمی بخل اور کو تاہ دستی نہیں، بے ایمانی ہے۔

کتاب : فرہنگ لفظیات غالب
مصنف : سلیم شہزاد
ناشر : منظر نماپبلشرز، مالی گاؤں (مہاراشٹر)
قیمت : ۳۵۰ روپے صفحات ۶۷۵
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safdar Imam Qadri

Read More Articles by Safdar Imam Qadri: 50 Articles with 76186 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2016 Views: 1613

Comments

آپ کی رائے