پہلی محبت(نوجوان لڑکے لڑکیاں ضرور پڑھیں)

(Shahid Raza, )
بزرگ کہتے ہیں انسان چاہے ۱۰ محبتیں کرے لیکن پہلی محبت انسان کو کبھی نہیں بھولتی،پہلی محبت انسان کو ہمیشہ یاد رہتی ہے ،میں نے معاشرے میں دیکھا ہے کے اسکول ،کالج،یونیورسٹی میں انسان ایک ساتھ یعنی لڑکا لڑکی ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں وہاں بات چیت شروع ہوتی ہے پھر وہ بات چیت محبت میں بدل جاتی ہے اب انسان کھاتا ہے تو پہلی محبت کو یاد کرتا ہے سوتا ہے تو پہلی محبت کو یاد کرتا ہے جب بھی آپ ایسے شخص کو دیکھیں گے وہ آپ کو گم صم نظر آئے گا اُس کو دین و دنیا کی کوئی خبر نہیں رہتی وہ بس یہ سمجھتا ہے کے اگر مجھ کو پہلی محبت نہیں ملی تومیں جان دے دوں گا اور ایسا ہوتا بھی ہے اکثر لڑکے اور لڑکیاں اس طرح خود کشی کر لیتے ہیں جب پہلی محبت سے کہیں نہ کہیں دھوکا ملتا ہے، اب ذراشریعت محمدی ؐ کی طرف نگاہ کریں تا کہ آپ کو پتا چلے کے صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے:

۱) خودکشی شریعت محمدی ؐ میں حرام ہے اگر کوئی بھی کسی بھی صورت میں خودکشی کرتا ہے تو سمجھ لیں کے وہ سیدھا جہنم میں جائے گا کوئی بھی چیز کوئی بھی عمل اُس کی بخشش نہیں کروا سکتا اور یہ شریعت محمدی ؐ کا حتمی فیصلہ ہے اس میں کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہے اس لئے ایسا کرنے سے پہلے سوچ لیں یہ ایک ایسا عمل ہے کے آسمان کے فرشتے بھی اُس پر لعنت بھیجتے ہیں۔

۲)رہی بات پہلی محبت کی تو آپ کو ایک بات میں بتا دوں اﷲ نے کچھ رشتے محرم بنائے ہیں اور کچھ نا محرم(محرم جن سے شادی نہیں ہو سکتی اور نا محرم جن کے ساتھ آپ شادی کر سکتے ہیں)اسکول کالج یونیورسٹی میں آفس میں جو بھی لڑکے لڑکیاں کام کرتے ہیں وہ ایک دوسرے کے نا محرم ہیں ،اگر کسی لڑکے یا لڑکی کی سوچ یہ ہوکے چلو دوستی کر لو وقت اچھا پاس ہو جائے گا یہ حرام ہے کیوں کے وقت پاس کرنے کے لیے نا محرم ایک دوسرے کے ساتھ رابطے نہیں بڑھا سکتے کیوں کے بعد میں یہ گناہ کا بھی سبب ہو سکتا ہے۔ہاں اگر کوئی لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہوں تو ایک دوسرے کے ساتھ جان پہچان ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ایک دوسرے سے ایک حد میں رہ کر رابطہ کر سکتے ہیں صرف اس حد تک کے آپ اندازہ لگا سکیں اُس لڑکی کا کردار کیسا ہے،سوچ کیسی ہے،آیا وہ اچھی شریک حیات بن سکتی ہے ،بعد میں کہیں ایسا نہ ہو کے محبت نفرت میں بدل جائے اور نوبت طلاق تک آ جائے اور اس کا بہترین حل لڑکے کے پاس یہ ہے کے اپنے ماں باپ کو لڑکی کے گھر بھیجے اور اُس لڑکی کے ماں باپ کو دیکھیں،گھر کا ماحول دیکھیں ،کیوں کے یہی لڑکی کی پہلی تربیت گاہ ہے پہلا اسکول ہے اب جیسا اسکول ہو گا ویسا اسٹودنٹ بھی ہو گا ،اب اگر اسکول میں چیٹنگ عام ہے تو لڑکی بھی چیٹنگ کرے گی ،اگر اسکول میں کوئی قانون کوئی نظم و ضبط نظر نہیں آتا تو لڑکی بھی قانون اور نظم و ضبط کو توڑ سکتی ہے،اور یہی عمل لڑکیوں کو بھی کرنا چاہئے کے لڑکے کو شادی سے پہلے دیکھ لیں کے کہیں بد کردار تو نہیں،کہیں نکما اور نکھٹو تو نہیں،کہیں رات بھی جاگنا اور دن بھی سوتا تو نہیں،اور اس کا بھی بہترین حل اُس کا گھر ،رشتہ دار اور دوست احباب ہیں مکمل تحقیق کے بعد ہی شادی جیسی عظیم عبادت کو انجام دیں۔

۳)بڑا افسوس ہوتا ہے جب لڑکے لڑکیوں کو بائیک پر،گاڑی میں،پارکوں میں ایک ساتھ دیکھتا ہوں کیوں کے شریعت میں اس چیز کی اجازت نہیں ہے،اور لڑکیوں کو کسی بھی لڑکے پر اندھا اعتبار نہیں کرنا چاہئے لڑکے کے ساتھ پارک جانا،گھومنے جانا،بے فکر ہو کو اعتبار کرنے کی وجہ سے کئی لڑکیاں اپنی عزت کو داؤ پر لگا چکی ہیں اور آج تک نہ صرف افسوس کرتی ہیں بلکہ اکثر آج بھی بلیک میل ہو رہی ہیں۔

۴)کیسے پتا چلے کے لڑکے جو محبت کا اظہار کر رہے ہیں وہ صحیح ہیں یا غلط ،تو اس کی پہچان کے بھی چند طریقے ہیں:

۱)شریف لڑکا کبھی کسی لڑکی کو گھمانے پھرانے کہیں نہیں لے جائے گا وہ جو بھی بات کرے گا آفس میں کرے گا کیوں کے وہ اس چیز کا عادی نہیں ہے وہ شریف ہو گا تو ڈرے گا کہیں کوئی مسئلہ نہ ہو جائے کہیں کوئی دیکھ نہ لے لیکن جو عادی ہو گا وہ ضرور آپ کو کہیں دور گھمانے پھرانے کی آفر دے گا جو صحیح نہیں ہے۔

۲)ایسے لڑکوں کی ایک پہچان یہ بھی ہے وہ آپ کو دو چار دفعہ ساتھ لے کے جائیں اور خیریت کے ساتھ کسی فضول بات کے آپ کوواپس پہنچا دیں گے جب آپ کا اعتماد بحال ہو جائے گا پھر وہ اپنا آخری تیر پھینکیں گے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا اس لئے لڑکیوں کو چاہئے اس طرح کے روابط کسی کے ساتھ نہ رکھیں اور شروع میں ہی سیدھی بات کریں کے اگر شادی کرنے کا پروگرام ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے اپنے ماں باپ کو میرے گھر بھیجو اگر لڑکا فوراً راضی ہو جائے تو صحیح ہے اور اگر ٹالنے لگے بہانے بنانے لگے تو سمجھ لیں لڑکا صرف آپ کے ساتھ کھیل رہا ہے اور وہ اس کام کا عادی ہے خدا را اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کو محفوظ رکھیں ۔

۵)رہی بات پہلی محبت کے لئے آخرت کو بھی بھول جانا ،دین سے دور ہو جانا یہ بات غلط ہے اور شریعت محمدی ؐ میں اس کو قطعی حرام قرار دیا گیا ہے۔کیوں کے جب تک انسان سے اﷲ راضی نہیں ہو گا انسان کو اپنی کوئی بھی من پسند چیز نہیں مل سکتی،اور اگر خدا کو ناراض کر کے مل بھی گئی تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی کیوں کے جب اﷲ راضی نہیں تو کوئی بھی خوش نہیں رہ سکتا۔

۶) اگر کسی لڑکی کے ساتھ کچھ بھی کسی نے غلط کیا ہے پہلی بات یہ کہ آئندہ کے لئے خود بھی سیکھے اور دوسروں کو بھی سیکھائے اور دوسری بات اگر معاشرے میں کوئی ایسی نا زیبا حرکت کر رہا ہے تو شریعت محمدی ؐ میں آپ پر واجب ہے کے آپ دوسروں کو ایسے شخص سے بچائیں آپ کی خاموشی ناجانے کتنے گھر تباہ و برباد کر دے گی آپ اﷲ کا نام لیں اور قانونی اداروں کی مدد لیں پولیس رینجرز وغیرہ تا کہ ایسے شخص کو جلد از جلد سزا واقعی دی جائے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 151506 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2016 Views: 1545

Comments

آپ کی رائے