تشریک اور تکفیر

(Muhammad Mian, London)
چھت پر کھیل رہے بچوں کی شرارت کے سبب فصیل سے ایک بھاری بھرکم نوکیلا پتھر اپنی جگہ سے پھسلا، اور نیچے فرش پر سوئے دوحقیقی بھائیوں میں سے ایک کے ماتھے اور دوسرے کے مونڈھے کو زخمی کر گیا۔ بچے زخم کی شدت سے تلملانے لگے، مونڈھے کے زخمی بچے کو ہلکی سی خراش آئی تھی، جبکہ ماتھے کے زخمی بچے کے بھیجے تک پتھر کی مار پہنچ گئی تھی، اس لئے یہ ہاتھ پاؤں پٹکنے لگا تھا، لیکن بڑے تعجب کی تھی یہ بات کہ ان زخمی بچوں کے ماں باپ اور بھائی بہن ماتھے پر چوٹ کھانے والے بچے کی طرف تو کوئی دھیان نہیں دے رہے تھے، کسی کو اس کی فکر نہ تھی۔ لیکن مونڈھے پر ہلکی سی خراش کھانے والے بچے کی تیمارداری میں سب کے سب مصروف تھے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ مونڈھے پر زخم کھانے والا بچہ تو دو چار دن میں تندرست ہوگیا، جبکہ ماتھے پر چوٹ کھانے والا بچہ ایڑیاں رگڑتے رگڑتے بالآخر اس فانی دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگیا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

یہ ایک تمثیلی اور غیرواقعی بات ہے جسے ہم نے اپنے قارئین کو یہ باور کرانے کے لئے لکھ ڈالا ہے کہ ہماری ناقص فہم کے مطابق بالکل اسی طرح ۱۵؍ مارچ ۲۰۰۷․؁ء کے روزنامہ انقلاب بمبئی میں بونیا رکے نذر صاحب کاشمیری نے بھی سچر رپورٹ کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کی ذلت و نکبت اور کس مپرسی پر دردناک مرثیہ لکھتے ہوئے چند مسلم اصاغر یا اکابر کی تکفیر و تلحید کرنے والے علماء کی تو پرزور مذمت، بلکہ خودکشی تک کر لینے کی تمنا کا اظہار کر ڈالا ہے۔ جبکہ از آدم تا ایں دم بلکہ تا قیام قیامت ہونے والے تمام ہی آدمیوں کی …… تشریک و تبدیع …… کرتے رہنے والے یعنی سارے ہی ابشار و ارجال اور انسانوں کو علی الاعلان اور کھلم کھلا ،مشرک، بدعتی، جہنمی، دوزخی اور ناری قرار دینے والے علماء سے صرف نظر فرما لیا ہے، ان کو ذرہ برابر بھی نہیں کوسا ہے۔حالانکہ مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ بو بکر و عمر ، عثمان و علی رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین اور بو جہل و بو لہب اور عتبہ و شیبہ کے درمیان وجہ تفریق اور وجہ امتیاز صرف اور صرف یہ تھا کہ پہلے چار مومنین فضائل رسالت تھے اور آخری چار منکرین فضائل رسالت۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک کی ابتدا میں ہی صراحتاً بیان فرمادیا گیا کہ (مفہوم) ’’لوگوں میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایمان لائے ہم اﷲ پر اور یوم آخرت پر حالانکہ وہ مومن فضائل رسالت نہیں۔‘‘ (۸:۲) اندریں حالات بونیاری صاحب جواب عنایت کر کے ہمیں ممنون فرمائیں کہ اگر آپ واقعی طور پر سچے دل سے مسلمانوں کے مسلکی اختلافات اور فرقہ بندی سے دکھی اور پریشان ہیں؟ تو پھر آپ نے یہ صرف اور صرف منکرین فضائل رسالت کی تکفیر و تلحید کرنے والے علماء کی ہی مذمت و مرمت کرنے پر کیوں اکتفا فرما رکھا ہے؟ آپ کے قلم نے آخر کیوں اور کس لئے ساری کائنات کے غیر اﷲ کی تشریک و تبدیع کرنے والییعنی از آدم تا ایں دم بلکہ تا قیام قیامت ہونے والے تمام آدمیوں کو مشرک، بدعتی، جہنمی، دوزخی اور ناری قرار دینے والے علماء بلکہ اسلامی ممالک خصوصاً مکے مدینے کے حکماء یا حمقاء سے کیوں صرف نظر فرما لیا ہے؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ کے نزدیک چند منکرین فضائل رسالت کی تکفیر و تلحید تو کیا ناقابل معافی جرم؟ لیکن ساری ہی کائنات کی تشریک و تبدیع محمود و مسعود ہے؟ اچھی ہے؟ قابل قبول ہے؟ یا کیا ہے؟ جواب عنایت ہو۔ ورنہ بزبان بلبلؔ کاشمیری ہم کہہ سکیں گے کہ ؂
کالی مرغی کر رہی ہے گوری مرغی سے سوال
سچ بتا کیا مرغی پن میں تجھ سے میں بالا نہیں
دیکھ کالی ہو کے بھی انڈا دیا میں نے سفید
تونے گوری ہو کے جو انڈا دیا کالا نہیں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mian

Read More Articles by Muhammad Mian: 2 Articles with 614 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2016 Views: 304

Comments

آپ کی رائے