وہاں بچے توہوتے ہیں مگربچپن نہیں ہوتا

(Sami Ullah Malik, )
ہائے تشویش ہمیں تیراخیال ہے،جب دیکھو ہم تجھ میں مبتلا رہتے ہیں ۔تجھ سے محبت کرتے ہیں،ہائے ہائے کادردکرتے ہیں ۔ ہاں ہم اظہار یکجہتی بھی کرتے ہیں تصویریں کھنچوا تے ہیں اورپھراخبارات میں چھپواتے ہیں تاکہ سندرہے کہ ہم تشویش کی بیماری میں یکجہتی بھی کرتے ہیں۔ یہ دیکھوتصویر ی ثبوت،ہم دن مناتے ہیں .... ماں کا دن،باپ کادن،محبوبہ کادن،اورنجانے کتنے دن۔ چنددن پہلے ہم نے یوم اطفال منایا،بچوں کے حقوق پربڑی بھرپورتشویش کے ساتھ تقریرفرمائی اورسامعین کووقتی طورپرتشویش میں مبتلاکردیا۔اخبارات نے جلی حروف میں خبریں بھی شائع کی ہیں،چند دن پہلے ہم نے ایک خبردیکھی،ٹی اورچینلز نے اپنے کیمروں کی آنکھ سے یہ منا ظرمحفوظ کیے اورپھرچل سوچل ۔اب بھی غربت اورافلا س سے مجبورمائیں اپنے جگرگوشوں کوایدھی سنٹرکے حوالے کر دیتی ہیں کہ بچوں کی بھوک اوربیماری ان سے برداشت نہیں ہوتی ۔ وہ ایدھی جو گزشتہ سات دہائیوں سے سماج سیوا میں لگے رہے اوران بیماراورمفلس بچوں کو کھا نا کھلا نے کیلئے بھیک بھی ما نگتے رہے ۔دنیاسے رخصت ہوتے ہوئے اپنی آنکھیں بھی عطیہ کرگئے اورآج دوپڑھے لکھے نوجوان جوایک بم دہماکے میں اپنی آنکھوں سے محروم ہوگئے تھے،اپنے گھروں کے اکلوتے کفیل تھے،ایک مرتبہ پھرایدھی کی آنکھوں نے ان کی تاریک دنیاروشن کردی۔ وہی بیکس ایدھی جو سڑکوں پر کھڑاسسکتی انسانیت کیلئے اپنی جھولی پھیلائے کھڑارہتاتھا اورہر گزرنے والاغریب ریڑھی اوررکشے والابھی اپنی بساط کے مطابق پورے یقین کے ساتھ بخوشی اپناحصہ ڈال کرمطمئن ہوجاتاتھا۔اس کی رخصت کاجب وقت آیاتودنیانے دیکھاکہ ہماری فورسزکے تمام سربراہ باوردی اس کوسلیوٹ پیش کر رہے تھے اورپہلی مرتبہ کسی عوامی فقیرکاجنازہ سرکاری توپ پررکھ کربڑی شان سے آخری آرام گاہ تک پہنچایاگیالیکن خیراتی کاموں پراپنی تشہیر کیلئے میڈیاکواستعمال کرنے والے بیشترسرکاری رہنماء ایدھی کے جنازے سے بھی محروم رہے یایوں کہیں کہ میرے رب نے ان کواجازت ہی نہیں دی۔

اس سے پہلے ہم نے برداشت کادن منایاتھالیکن آخرکب تک برادشت!!بس تبلیغ ہی تبلیغ،لیکچرہی لیکچر،باتیں ہی باتیں،سیمینارسجائیے،یہ شدّاد کی جنت پنج ستارہ ہو ٹل کس لیے ہیں،سجی ہوئی لمبی سی میز،اس ترتیب سے رکھے ہوئے گلاس جن کے اندرسفیدرومال ٹھنساہوتاہے اورپھرمنرل واٹر۔میزکے کناروں اوردرمیان میں تازہ پھولوں کاپیپر،ڈھیر،گہری سوچ میں ڈوبے،تشویش زدہ دانش ور۔ آسودہ حال ، سوشل اور ٹائم پاس سا معین،ٹشو کافی،چائے،پیسٹری اور کوکیزکے شوقین ۔ مستعداورفرمانبردارویٹرزاورہرلمحے کومحفوظ کرنے والے کیمرے،کیاخواب ناک ماحول؟اورپھرسیمینارختم اورپیسہ ہضم ۔ وہی ڈھاک کے تین پات،چکنے گھڑے ۔ ہرایک پندرونصائح کاٹوکراسرپراٹھا ئے گھوم رہاہے۔ باتیں لے لوباتیں کتنے کلوچاہئیں!لوگ مہنگائی کورورہے ہیں۔ وہ شکوہ کررہے ہیں ارزانی نہیں ہے،ارے کتنی باتیں چاہئیں،کتنے لیکچرچاہئیں باتیں اورہاں وہ بھی بالکل مفت ۔ دوچارمن تومیں خودبھی اٹھائے گھوم رہاہوں۔ باتوں سے مرعوب کرنے والے روح سے خالی جسم اورویسی ہی باتیں بس بولناہے۔بولتے رہناہے کرناکرانا کچھ نہیں ۔

ہم سب اشتہارکے رسیاہیں،بس اشتہارچھپاتودوڑپڑتے ہیں۔پھرہرایک کے دل میں دردبھرجاتا ہے تصویرکھنچوانی ہے ناں جناب۔ پھرکوئی راشن لیکرپہنچ جاتا ہے کوئی نوکری دینے لگتاہے،سب حاتم طائی کی اولادبن جاتے ہیں۔ویسے سوشل ڈنرکرتے ہیں پارٹیاں منعقدکرتے ہیں جھوم برابرجھوم،دودولاکھ کاعروسی جوڑا ،اورلاکھوں روپے کے زیورات،دکھاواہی دکھاوا۔پوچھاجائے کہ لائے کہاں سے یہ دولت؟توتیوری پربل پڑتے ہیں۔حج پرحج،عمرے پرعمرہ،جہازبھر بھرکرلے کرجاتے ہیں کروڑوں روپے قومی خزانے کے اورثواب کاثواب۔ابھی دیکھانہیں آپ نے عیدقرباں پرایک سے ایک بڑھ کرخبرآرہی تھی، الیکٹرانک میڈیابارباراپنے ناظرین کوقربانی کے جانوروں کے ساتھ ''سیلفیاں'' بنانے کی ترغیب دے رہے تھے کہ ہم اپنے چینلزپراس کی تشہیرکریں گے۔ الیکٹرانک کا سامان فروخت کرنے والوں کااشتہارچل رہاہے کہ قربانی کے گوشت کومحفوظ کرنے کیلئے ''ڈیپ فریزر''پرسیل لگادی ہے۔

اتنے لاکھ کابکرا،اتنے لاکھ کابچھڑا،ڈیڈی نے اتنے کروڑکے جانورقربان کر دئیے لیکن قربانی کاگوشت اپنے ان ملنے والوں کوبھیجاجہاں سے واپس گوشت ملنے کی امیدتھی ۔قربانی کے گوشت کواپنے ڈیپ فریزروں کی زینت بنادیاکہ اگلا پورامہینہ اس کے ساتھ صحیح انصاف کیاجائے گا۔شام کواپنے رشتہ دار اور دوستوں کوگھرپردعوت کیلئے بلاکراس کی''سیلفیاں''دوبارہ ٹی وی چینلزپرچلائی جارہی تھیں،کیاکسی نے کیایہ خبرلی کہ کہیں اس کے پڑوس میں عید قرباں کے دن بھی کوئی بھوکایاپھرسے دال پکاکراپنے بچوں کواچھے وقت کی امیدکادلاسہ دے کراپنے زخمی دل کے ساتھ آسمان کوتک رہاہے۔خاک بسر لوگ قربان ہورہے ہیں کسی کی کان پرجوں تک نہیں رینگتی،سب کچھ اپنے اللے تللوں اورنمائش کیلئے، ہم وہ نمائشی بھکاری ہیں جنہیں اپنے پڑوسی کی خبر نہیں ہے اوررورہاہوں پورے ملک کو۔ یہاں کماؤحلال حرام کے چکرچھوڑو۔ باہرکے بینکوں کے پیٹ بھرو۔ یہاں بھی عیش اورباہربھی عیش۔رندکے رندرہے اورہاتھ سےجنت نہ گئی ۔ حج اورعمرہ کرکے پاک پو تر ہو جاؤ۔
تصویرِ شاہکاروہ لاکھوں میں بک گئی
جس میں بغیرروٹی کے بچہ اداس ہے

سب ڈھکوسلہ،جعلی پن بکواس ڈھٹائی،بے حسی اوربے غیرتی، وہ جنابِ عیسیٰ نے باآواز بلند کہا: ماروضرورماروپتھرلیکن پہلا پتھروہ مارے گاجوپوترہو۔ ہم تو خودترسی کے مریض ہیں خدا کیلئےترس کھاؤہم پر۔زندگی کے نام پربدترین موت ۔ کبھی دوپل نہیں سوچتے کہ کب تک ایساہوتارہے گاکب تک بھیک مانگیں گے! شرم وحیا کالفظ ہی ہماری لغت سے غائب ہوگیا ہے، ہمیں بھیک چاہیے دیتے جاؤ ہمارے ساتھ جوچاہے کرلوہاں جوچاہے کروبہن لے لو۔ ہماری بیٹی لے لو۔جو چاہولے لوبس بھیک دے دو۔ لعنت ہے ایسے جینے پر۔کچھ نہیں بدلنے کایہاں کچھ بھی نہیں ۔ ہم خود کونہیں بدلتے توسما ج کیسے بدل جائے گا!ہرایک اپنااُلّوسیدھا کرنے میں لگاہواہے۔بس آج کادن گزارناہے اس پیٹ کے دوزخ کوبھرناہے چاہے عزت بیچنی پڑے،گالیاں سننی پڑیں بس پیٹ بھرنے کیلئےراتب دے دو۔پھر سڑکوں پرآکر یہ جیوے وہ جیوے اورتبدیلی کے نعرے،کب ہوش میں آئیں گے۔
وہی عشوہ گری ہے اور وہی رسمِ عزاداری
یہاں طرزِ طرب، نہ شیوئہ ماتم بدلتا ہے

کہیں پرکسی مظلوم پرظلم ہوتا ہے اورہم سب تماشادیکھتے ہیں۔ پچھلے ماہ ایک خبرچھپی، سرخی تھی قبضہ گروپ کی چنگیزی،مڈل کی طالبہ کوبرہنہ کرکے کھمبے سے باندھ کرسرعام تشدد، اہل محلہ کی منتیں،حوّاکی بیٹی پر چادرڈالی ۔آپ کہتے ہیں کہ میں بہت سخت زبان استعما ل کرتاہوں۔ایک معصوم بچی کو پورے محلے کے سامنے برہنہ کیاگیااورپورامحلہ ان کی منتیں کرتارہا۔اسے بے غیرتی نہ کہوں توکیاکہوں!اگروہ متحدہو جاتے توکس کے باپ میں اتنادم ہے کہ وہ کسی معصوم بچی کوبرہنہ کر تا۔ لیکن جناب بہت پیاری ہے ہمیں اپنی جان،بے غیرتی کا شاہکار زندگی ۔ مجرموں کی بعد میں اوران اہل محلہ کی کھال پہلے کھینچنی چاہیے کہ تم میں سے کوئی ایک بھی غیرت مند نہیں تھا سب کے سب بے غیرتی کا مجسمہ ! میں کہوں گا کہ پھر ایسے بے غیرتوں کو جینے کا حق ہی نہیں ہے ۔

کتنی خبریں سناؤں،بالکل صحیح کہتی تھی میری ماں:جوسویاہواہواسے جگایاجا سکتاہے جو سونے کی ایکٹنگ کررہاہواسے کسی کاباپ بھی نہیں اٹھاسکتا۔ مجھے یادہے کہ چندبرس پہلے ایدھی صاحب کو بچے دینے والی خواتین اپنے بچوں کو یہ کہہ کرواپس لے گئیں کہ وہ بچوں کوتعلیم کیلئےچھو ڑگئی تھیں مگر ٹی وی چینلزپرانہیں دکھاکران کی عزت اورغربت کا مذاق اڑایا گیااورجناب ستارایدھی مرحوم انتہائی شرمندگی سے میڈیا میں معاملہ آنے پر معذرت کااظہارفرمارہے تھے۔ آپ نہیں جان سکتے ناں اُس ماں کادکھ !ہم سب نے انہیں زندہ درگورکردیا جیسے ہمیں توایک چٹخارے دارخبرمل گئی دوسری خبر آنے تک اس سے مزے لیں گے اوردوسری خبرتواس سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی کہ متعلقہ صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امورنے چائلڈ ایکٹ کے تحت ان والدین کے خلاف کا روائی کرنے کاحکم دے دیاتھا جنہوں نے غربت سے تنگ آکر اپنے بچے ایدھی کے حوالے کیے، قانون کی حکمرانی زندہ باد۔اوہویہ تومیں بھول گیا، آج ماہ گیروں کادن منارہے ہیں،جائیں ضرور جائیں،میں بھلاکون ہوتاہوں آپ کوروکنے والا،سیمینار،سیمینارکھیلیں،باتیں بیچیں،باتیں کھائیں، جوزف ہیلرکے افسانے ''آشوب شہر'' کاایک جملہ یادآگیا: ''ہمارے گھرآنے والے غربیوں کوہمارے انداز رہائش سے لطف اٹھا نے کی اجازت ہے ''۔
پہلے کون رہاہے یہاں،جواب رہے گا۔کچھ بھی تونہیں رہے گا،بس نام رہے گا میرے رب کا!
افلاس کی بستی میں ذراجا کر تو دیکھو
وہاں بچے توہوتے ہیں مگربچپن نہیں ہوتا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 227039 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2016 Views: 351

Comments

آپ کی رائے