ٹریفک کے اصولوں کا شریعت سے تعلق

(Muhammad Abdul Munem, )
جب آپ ڈرائیونگ کر رہے ہوں تو اس بات کا اطمینان رکھیں کہ آپ دو طرف سے بالکل محفوظ ہیں ایک اوپر سے اور دوسرے نیچے سے۔ باقی کسی بھی طرف سے کوئی بھی آن ٹپک سکتا ہے چاہے آپ گرین سگنل پر ہی کیوں نہ ہوں بے دھڑک ہو کر ہر گز نہ چلائیں کسی بھی طرف سے کوئی بھی گولی کی طرح آپ کو لگ سکتا ہے۔

گاڑی کی ہیڈ لائیٹس تو اس طرح اوپر کی طرف جا رہی ہوتی ہیں جیسے گاڑی زمین پر نہیں آسمان پر چلاتی ہو اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کارِ خیر میں عام افراد کے علاوہ پڑھے لکھے لوگ بھی برابر کا ثواب کما رہے ہوتے ہیں- سمجھ نہیں آتا کہ آخر ہم لوگوں کو ہو کیا گیا ہے۔

ایک عام آدمی الٹی سیدھی حرکات کرتے ہوئے اتنا برا نہیں لگتا جتنا ایک دیندار شرعی آدمی ٹریفک کے قوانین کو ہوا میں اڑاتے ہوئے برا لگتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک وہ زیادہ معتبر ہوتا ہے۔ دین کے زیادہ قریب ہوتا ہے جس میں نظم و ضبط بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر آپ ایسے لوگوں سے الجھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ان لوگوں کے نزدیک صرف نماز روزہ کی پابندی ہی اسلام پر عمل کرنا ہے باقی ٹریفک کے قوانین کا اسلام سے کیا تعلق۔

سورت النسا آیت نمبر ٥٩ میں ارشاد ہوتا ہے کہ حکم مانو اللہ اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکم دینے والے ہیں یعنی علمائے وقت یا صاحبِ حکومت لوگ اگر وقت اور حالات کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی اصول و ضوابط ترتیب دیں جو کہ شریعت کے کسی حکم کے خلاف نہ ہوں تو ان کا حکم مانو۔

ٹریفک کے اصول و قوانین کی پابندی بھی اسی حکم کے تحت آتی ہے- ویسے کسی بات پر عمل کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ شریعت نے اس کا حکم دیا ہو ہاں یہ ضروری ہوتا ہے کہ شریعت نے اس سے منع نہ کیا ہو ورنہ پلاؤ بریانی فاسٹ فوڈز سٹیم روسٹ چکن کا کوئی شرعی حکم نہیں ہے لیکن یہ سب کے نزدیک جائز ہیں اور جب ٹریفک کے قوانین کی پابندی کی بات ہو تو ہم کہیں کہ یہ کوئی شرعی حکم تو ہے نہیں جس پر عمل کیا جائے کتنی عجیب سی بات ہے۔۔۔

ایک بار قائداعظم کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ریلوے پھاٹک آ گیا - ابھی ریلوے پھاٹک کو بند کیا ہی جا رہا تھا کہ آپ کی گاڑی پھاٹک کے سامنے پہنچ گئی- ڈرائیور نے پھاٹک والے سے کہا کہ ہمیں جانے دیا جائے کیونکہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے۔ قائداعظم نے ڈانٹ کر کہا کہ نہیں بلکہ ہم سب کے ساتھ رکیں گے اگر میں پابندی نہیں کروں گا تو باقی لوگ کیوں پابندی کریں گے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdul Munem

Read More Articles by Muhammad Abdul Munem: 20 Articles with 11895 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2016 Views: 377

Comments

آپ کی رائے