پاکستان پھرسے یتیم ہو گیا

(Afia Jahangir, )
’’جھولا‘‘ جھلانے والے ہاتھ ساری زندگی انتھک محنت کرنے کے بعد آخر تھک گئے
اولاد اپنے والدین سے دُور کہیں بھی رہے، لیکن اسے ایک طمانیت بھرا احساس ہوتا ہے کہ اس کے سر پر ماں باپ کا سایہ ہے۔ اسے جب جہاں کوئی مشکل پیش آئی، والدین فوراً سے پیشتر اسے سنبھالنے اور سہارا دینے آن موجود ہوں گے اور اسی بنا پر وہ اپنی زندگی کی سیڑھیاں کبھی خوشی کبھی ناکامی کبھی کامیابی تو کبھی دکھ لیکن بہرحال طے کرتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے لیے ایدھی صاحب کی شخصیت بھی وہی رتبہ رکھتی تھی۔ پاکستان ان کی اولاد اور وہ پُرنور اور مشفق باپ کی طرح باہیں وا کیے ہوئے سایۂ مہرباں۔

جمعہ کی سہ پہر عید کا تیسرا روز اپنے ساتھ سورج تو صبح خوشیوں بھرا ہی لے کر طلوع ہوا، مگر جاتے جاتے شام کو ایک ایسی ہستی کو ساتھ لے گیا کہ جس کی روشن صبیحہ پیشانی پُرنور واضح دکھائی دیتی تھی جس کا چہرہ ہزاروں معصوم آنکھیں صبح کے وقت دیکھاکرتی تھیں۔ جس کے پر شفقت چہرے کو دیکھ کر کتنے ہی لوگ جی اٹھتے تھے۔ لیکن اب خود ان کو بھی آرام کی ضرورت تھی۔ وہ بھی تو آرام سے سونا چاہتے تھے۔ مسلسل اڑتالیس اڑتالیس گھنٹے اکثر لگاتار جاگنے والا بغیر چھٹی کیے طویل ترین عرصہ تک کام کرنے کا ’’عالمی ریکارڈ‘‘ قائم کرنے والے ایدھی اب ابدی نیند سو چکے۔

ان پر ثواب ہمیشہ ہی لکھا جائے گا اور بے تحاشا لکھا جائے گا۔ بلکہ شاید اگر میں کہوں کہ جب بھی طلبا کو پاکستان کی تاریخ، بڑے بڑے واقعات یا بڑی شخصیات کے بارے میں پڑھایا جائے گا تب تب قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒ اور دیگر بڑی شخصیات کے ساتھ ساتھ عبدالستار ایدھی کا نام بھی لازمی لیا جائے گا اور شاید ان کی خودنوشت اور ان کے سنہری اقوال کو نصاب میں بھی شامل کر لیا جائے گا۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقینا یہ خوش آئند بات ہے۔

شاید اسے کچھ عناصر کچھ لوگ ایسا نہ ہونے دیں یا کم از کم روڑے اٹکانا اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت بھی کریں گے۔ جیسا کہ سننے اور دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ایدھی صاحب کی آنکھیں بند کرتے ہی کچھ لوگوں نے ان کی ذات کو بُرا بھلا کہنا اور الزام تراشی کا کاروبار سنبھال لیا۔ جنھوں نے ان پر امیری اور عیاشی کا لیبل لگاتے وقت ایک نظر ان کے رہائشی کمرے کی طرف ڈالنا بھی گوارا نہ کی۔ جنھوں نے ان کے انتقال کے تیسرے دن ہی ان کے کردار کو مشکوک ثابت کرنے کے لیے پر تولنا شروع کر دیے۔ لیکن کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا نہ پڑے گا اور نہ ہی پڑنا چاہیے۔ کیونکہ سچ زمین پھاڑ کر بھی نکل آتا ہے اور جھوٹ زیادہ دیر تک تیزہواؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ سچ کی آندھیوں میں بکھر جاتا ہے بہ جاتا ہے فنا ہو جاتا ہے۔
بقول ایک شاعر ؂
موقع جسے ملا وہی پیتا چلا گیا
شاید بہت مٹھاس میرے لہو میں تھی

ایدھی صاحب کیا تھے، کیسے تھے۔ یہ کھلی کتاب کی طرح ایک Universal truth کی ہی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ان کی زندگی پر فلم بنائی جائے تو یقینا یہ ایک بہترین نذرانہ ہو گا۔ ایک سبق ہو گا نوجوان کے لیے کہ عملی زندگی سادگی اور خلق خدا کی خدمت میں کیسے گزاری جاتی ہے۔ یقینا جو رات انھوں نے لحد میں گزاری وہ ان کی بہترین رات ہو گی جس میں وہ مدتوں بعد سکون اور چین کی گہری نیند سوئے ہوں گے۔ ان کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم ایک لازوال ایک شاہکار ثابت ہو گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان کی زندگی میں جو کام ادھورے رہ گئے یا جو انھوں نے سوچے ہوں گے اور بوجہ علالت وہ ادھورے کام پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ ان شاء اﷲ ان کے بعد ان کی فاؤنڈیشن یہ بیڑہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ اٹھائے رکھے گی۔ میرا یقین ہے اور دعا ہے کہ یہ یقین کبھی نہ ٹوٹے۔

ان کی انتھک کاوشوں اور قربانیوں پر صرف آرٹیکل، فلمیں، ایوارڈز کے نذرانے ہی کافی نہیں ہوں گے بلکہ اگر ہم ان کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں ان کی ذرا سی بھی قدر ہے اگر ہمارے دلوں میں عبدالستار ایدھی نام سن کر عقیدت و محبت کا احساس اجاگر ہوتا ہے تو ہمیں ان کو زبانی کلامی نہیں، عملی طور پر اپنے درمیان رکھنا ہو گا۔ ان کے شروع کیے گئے اتنے بڑے مشن کو ابھی بہت سے جوانوں کی ضرورت ہے۔ ابھی بہت سوں کو ایدھی بننا ہو گا۔ ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے صرف توپوں کی سلامی اور پروٹوکول ہی نہیں بلکہ اپنے اعمال سے، رویوں اپنے روزمرہ کے کاموں میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر ان کے نقش قدم پر چلنے کی تھوڑی سی پریکٹس کرنا ہو گی۔ چاہے ایک دن میں ایک نیکی، ایک اچھا کام ہی سہی، مگر ان کی یادمیں کافروں کی طرح نہ ہم موم بتیاں جلانے کی رسومات کریں گے (جیسا کہ پاکستان کی نئی نسل نے یہ ایک نیا کام پکڑ لیا ہے) اور نہ ہی مضامین کی حد تک تعریفوں کے پل باندھیں گے، بلکہ آئیں عہد کریں کہ ہم روز ایک چھوٹی سی نیکی،چھوٹا سا نیک عمل، ان کی یاد میں، ان کے نام کا ان کی نیت سے کریں گے۔ تب ہی ہم ان کی محبت کے صحیح دعوے دار کہلانے کے حق دار ہوں گے۔ ورنہ اچھی باتوں کاکیا ہے؟ باتیں تو دیواروں پر بھی لکھی جاتی ہیں۔

اصل نذرانۂ عقیدت یہی ہے کہ وہ شمع جو بجھ کر بھی نہیں بجھی، اسے کبھی نہ بجھنے دیا جائے۔
GAshraf composing/Aug 16/Pakistan phir sy yatim ho gaya(22.07.2016).inp
خواندگی نمبر۱؍
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afia Jahangir
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2016 Views: 303

Comments

آپ کی رائے