ہمارے معیار کے انوکھے پیمانے

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: فرح انیس ، کراچی
ابھی حال ہی میں کسی کے ہاں مہندی کی تقریب میں جانا ہوا۔ پاس ہی دو خواتین بیٹھی آپس میں باتیں کر رہی تھی۔ ان میں سے ایک دلہن کی خالہ تھیں۔ اتفاق سے پڑوس کی ایک لڑکی جو یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں ان کا وہاں سے گزر ہوا۔ دونوں خواتین نے بہت ہی غور سے اس کی جانب دیکھا اور پھر ان کی باتوں کا رخ اسی کی جانب چلا گیا۔

ایک نے دوسری سے مخاطب ہوکر کہا کہ مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ ماں باپ اپنی بیٹیوں کو کیسے مخلوط تعلیمی اداروں میں بھیج دیتے ہیں پڑھائی کم ہوتی ہے بے حیائی زیادہ ہوتی ہے۔ ویسے بھی اﷲ نے عورت کے لیے چار دیواری کا حکم دیا ہے ۔ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی لڑکیوں کے ایسے لباس ہوتے ہیں کہ دیکھ کر شرم آجائے۔ ان کی بات میرے کانوں سے ٹکرائی تو بے ساختہ میری نظر ان کی جانب چلی گئی۔ وہ دلہن کی خالہ تھیں جنہوں نے خود چست لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور بڑی بے پرواہی سے اﷲ کے احکامات پر روشنی ڈال رہیں تھیں۔

میں ابھی ان کی باتوں اور ان کے اپنے حلیے کو ملانے کی کوشش کررہی تھی کہ ایک دم شور کی آواز سنائی دی۔ نگاہوں نے تعقب کیا تو اسٹیج کی پر ایک 15 سال تک کی لڑکی انڈین گانے پر ڈانس کر رہی تھی ۔ گانے کی دھن ہر تھرکتے ہوے جسم کو دیکھ کر میری نظریں شرم سے جھکتی چلی گئیں۔ لڑکی کے چہرے کے تاثرات وہی انڈین فنکارہ جیسے لگ رہے تھے۔ جسے اور برادری کے لڑکے گزرتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور بھرپور لطف اندوز ہورہے تھے ۔

دلہن کی خالہ نے ہماری توجہ کو بھانپتے ہوئے فورا کہا کہ یہ ماشااﷲ میری بیٹی ہے۔ ڈانس کی پریکٹس کرہی رہیں۔ اپنی خالہ کی بیٹی کی شادی پر ڈانس کریں گے۔ ابھی بچی ہے اس لیے ہم کوئی روک ٹوک نہیں کرتے ہیں۔ میں حیرت سے ان خاتون کے فخر سے سرخ چہرے کو دیکھنے لگیں۔ لڑکی نے انتہائی فٹنگ کے لباس میں گلے میں لاپرواہی سے ڈالا ہوا دوپٹہ ادا سے بالوں کو جھٹکتی میکپ زدہ چہرے پر مصنوئی تاثرات سجاتے ہوئے ہمارے سامنے آن کھڑی ہوئیں اور اپنی ماں سے اپنے ڈانس کی داد وصول کرنے لگیں۔
کتنا حیرت کی بات ہے کہ ہمارا معاشرہ ددہرے معیار میں جی رہا ہے۔ دوسروں کے الگ اور اپنے الگ سوچ رکھنا۔ وہ خاتون احکام الہٰی یونیورسٹیوں اور کالجز میں پڑھنے والی لڑکیوں دے بیان کر رہیں تھیں کہ خوب لے دے جاری تھا تاہم وہ یہ بات کیوں بھول رہی تھیں کہ وہ احکامات ہر عورت کے لیے ہیں۔ ان کی اپنی بیٹی کو مکمل آزادی حاصل، بے باکی کی انتہاؤں کو چھورہی تھی کہ جسے دیکھ کر ایک دوسری لڑکی کم از کم شرما جائے مگر دوسرے کیا اور کیوں کررہے ہیں یہ بات کوئی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ دوسری خاتون کے جملے بھی مجھے اچھی طرح یاد ہیں جن کا کہنا تھا کہ میری بیٹی میٹرک کر رہی ہیں۔ میں نے اسے کہہ دیا کہ میٹرک کر لو اس کے بعد اپنے گھر کی ہو جاؤ۔ اس لڑکی کے ذہن میں شادی کا خناس تو بھر دیا پر مگر بطور ایک ماں اور معاشرے کے فرد ہونے کے تمیز و تہذیب سکھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

پھر اپنی بیٹیوں کو اس حال میں دیکھ کر فخر کرنا پوری نسوانیت کی توہین کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کس قد قابل افسوس بات ہے کہ ہمارے فخر کے پیمانے بھی اب تبدیل ہوگئے ہیں ۔ پہلے ماں باپ کے جن باتوں پر سر جھک جایا کرتے تھے اب ان پر خوشی اور فخر کیا جاتا ہے۔ بیٹی کو ناچتے ہوے دیکھ کر نہ صرف داد دی جارہی ہوتی ہے بلکہ دوسروں کو بلا بلا کر اس تقریب کا حصہ بننے کی دعوت دی جاتی ہے۔ گویا ایک نہ شد دو شد۔ کیا ہمارا معیار اس قدر گر چکا ہے ہم دوسروں کی بیٹیوں پر توجملوں کسیں اور کوئی موقع کسی غلطی کو ہاتھ سے نہ جانیں دیں مگر جب وہیں کام خود کی بیٹی کرے تو خوش ہوئیں۔

سچ ہے آج کل لوگوں کا اپنے لیے کچھ معیار ہے اور دوسروں کے لیے کچھ ہے۔ شاید ایسے والدین نہیں جانتے کہ آج کا یہ بویا ہوا بیج جب کل تن آور درخت بنے گا تو پھر یہیں ماں باپ سر پر ہاتھ رکھ کے روئیں گے۔ مگر شاید تب تک وقت ہری جھنڈی دکھا چکا ہوگا۔ میرے دماغ کی اسکرین پر ابھی تک جوانی کی دہلیز پر دستک دیتی ، ناچتی ، تھرکتی معصوم دوشیزہ پر ٹھہری ہوئی ہے جسے خود اس کے اپنے والدین آزادی کی دیمک لگا چکے ہیں۔
دو رنگی چھوڑ یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہوجا، یا سنگ ہوجا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519801 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2016 Views: 292

Comments

آپ کی رائے