جنگ آزادی ۱۸۵۷ء میں مولانا سید کفایت علی کافیؔ کا مجاہدانہ کردار

(Ata Ur Rehman Noori, India)
مجاہد آزادی مولانا سید کفایت علی کافیؔ مرادآبادی (شہادت ۲۲؍رمضان ۱۲۷۴ھ/ ۶؍مئی ۱۸۵۸ء)عالم وفاضل اور بہترین طبیب وشاعر تھے۔شاہ ابوسعید مجددی رامپوری سے آپ نے درس حدیث لیا اور مشہور شاعر ذکیؔ مرادآبادی (شاگرد امام بخش ناسخؔ) سے فن شاعری سیکھا۔۱۸۴۱ء میں حج وزیارت کی سعادت حاصل کی جس کی یادگار ’’تجمل دربار رحمت‘‘ہے۔اس کے علاوہ آپ کی کئی تصانیف ہیں۔مثلاً:ترجمہ شمائل ترمذی (منظوم)، مجموعۂ چہل حدیث (منظوم)مع تشریح، خیابان فردوس،بہار خلد،نسیم جنت، مولود بہار، جذبۂ عشق اور دیوان کافیؔ۔آپ کی نعتیہ شاعری اور جذبۂ عشق رسول کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاؔقادری برکاتی رحمۃ اﷲ علیہ کہتے ہیں ؂
مہکا ہے مری بوئے دہن سے عالم
یاں نغمۂ شیریں نہیں تلخی سے بہم
کافیؔ ’’سلطانِ نعت گویاں‘‘ ہیں رضاؔ
ان شآء اﷲ میں وزیراعظم

مولانا سید کفایت علی کافیؔ مرادآبادی انقلاب ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف سینہ سپر تھے اور مرادآباد میں چلنے والی تحریک حریت کے قائدین میں پیش پیش تھے۔نواب مجدالدین خاں عرف مجو خاں کی سرکردگی میں جب مرادآباد میں آزاد حکومت قائم ہوئی تو آپ کو مرادآباد کا صدرالشریعہ بنایاگیااور آپ شرعی احکام کے مطابق مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے۔ مرادآباد میں مولانا کافیؔ نے انگریزوں کے خلاف فتوائے جہاد جاری کیااور اس کی نقلیں دوسرے مقامات پر بھجوائیں اور بعض جگہوں پر آپ خود تشریف لے گئے۔آنولہ کی تحریک آزادی میں بھی آپ نے حصہ لیا۔آنولہ سے آپ بریلی پہنچے اور نواب خان بہادرخاں روہیلہ اور مولوی سرفراز علی سے مشورہ وتبادلۂ خیال کیا۔پھر بریلی سے دہلی کے لیے جانے والی وہ فوج جو جنرل بخت خاں روہیلہ کی ماتحتی میں برسرپیکار تھی اس کے ساتھ آپ مرادآباد واپس آئے۔انگریز مرادآباد کے ہنگامہ سے ڈر کر میرٹھ اور نینی تال فرار ہوگئے۔حالات کے پیش نظر علمائے اسلام نے فوری انتظامات کے لیے ایک جنگی مشورتی کمیٹی قائم کی جو شہر کا انتظام بھی کرے گی اورجنگ کے لیے ذرائع ووسائل بھی فراہم کرے گی۔مولانا کافیؔ اس کمیٹی کے اہم رکن تھے۔ایک غیر منظم جہاد کو ناکام بنانے کے لیے نواب رامپوراور کچھ مقامی غداروں کا بہت بڑاہاتھ رہا۔

رئیس القلم علامہ یاسین اختر مصباحی صاحب مرادآباد کی جنگ آزادی کی ناکامی کے دو اسباب تحریر فرماتے ہیں:اول یہ کہ کوئی مرکزی تنظیم نہیں تھی جو جنگ پر قابو پاتی۔ دوسرے جنگ کو ناکام بنانے کے لیے مقامی غداربھی بہت ہی کوشاں تھے۔ان وجوہات کی بنا پر مجاہدین کو زبردست جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا۔ان غداروں کی مدد سے انگریز دوبارہ ۲۴؍ اپریل ۱۸۵۸ء کو شہر مرادآباد اور اس کے مضافات پر قابض ہوگئے ،انگریزوں نے بے دردی کے ساتھ نواب مجو خاں کو بے حد اذیت ناک طریقے پرشہید کردیااور پھر عیسائی تہذیب کا وہ ننگا ناچ شروع ہوا جس کو تاریخ عالم کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔اس وقت انگریزوں نے غداروں کو ایک اور لالچ دے رکھا تھا کہ جو شخص کسی بھی مجاہد کو گرفتار کرائے گااور پھانسی دلوائے گا اس کی جائیداد کا بڑاحصہ اس غدار کو دیا جائے گا۔اس لالچ کا یہ نتیجہ نکلا کہ کوئی مجاہد ایسا نہیں بچا جس کو غداروں نے گرفتار کرواکے پھانسی نہ دلوادی ہو۔جتنے بھی ساہو صاحبان ہیں یہ اسی غداری کی پیداوار ہیں۔لہٰذامولانا کافیؔ کی بھی مخبری ایک کمینہ صفت انسان فخرالدین کلال نے اس شرط پر کردی کہ گرفتاری کے بعد انعام میں مولاناکی تمام جائیداد اس کو دے دی جائے۔

۳۰؍اپریل کومولانا صاحب کی گرفتاری کے بعد فوری کاروائی مقدمہ شروع ہوا۔ انگریزی کورٹ کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی ملزم کے بیان کو جس طرح چاہے تحریر کردے۔ملزم کو بیان دیکھنے یا وکیل کرنے کا حق نہیں تھا اور نہ کوئی صفائی پیش کرنے کی اجازت تھی۔اس وقت انگریزوں نے ایک کمیشن قائم کیاتھا جومقدمات کی سرسری سماعت کرکے سزا سنایاکرتا تھا۔ ۴؍ مئی ۱۸۵۸ء کو مولانا کافیؔ کا مقدمہ ظالم وجابر انگریز مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوا اور بہت جلد اس کا فیصلہ سنا دیا گیا ۔(اخبارالصنادید،بحوالہ:چند ممتاز علمائے انقلاب۱۸۵۷ء ،ص۹۶)

مولانا عبدالمالک مصباحی لکھتے ہیں:’’ جسم نازنین پر گرم گرم استری پھیری گئی ، زخموں پر نمک چھڑکا گیا ،اسلام سے برگشتہ کرنے کیلئے انگریزوں نے ہر حربہ استعمال کیا مگر ناکام رہے۔ آخر کار مراد آباد کے ایک چوک میں بر سر عام آپ کو تختہ پر لٹکا دیا گیا۔‘‘ (خطبات اسلام،ص۲۳۰)

مقدمہ کی پوری کاروائی صرف دودن میں پوری کردی گئی۔۴؍مئی کو مقدمہ پیش ہوا اور ۶؍تاریخ کو حکم لگادیا گیااور اسی وقت پھانسی لگا دی گئی۔ (مرادآباد:تاریخ جدوجہد آزادی ، بحوالہ:چند ممتاز علمائے انقلاب۱۸۵۷ء ،ص۹۷ )جس وقت مولاناکافیؔ کوقتل گاہ لے جایا جا رہاتھا اس وقت آپ اپنی ایک نعت شریف پڑھتے ہوئے خراماں خراماں تشریف لے گئے ؂
کوئی گْل باقی رہے گا نَے چمن رہ جائے گا
پر رسول اﷲ کا دین حسن رہ جائے گا
ہم صفیرو! باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اْڑ جائیں گی سُونا چمن رہ جائے گا
اطلس و کم خواب کی پوشاک پہ نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پہ خاکی کفن رہ جائے گا
نامِ شاہانِ جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہا
حشر تک نام و نشانِ پنجتن رہ جائے گا
جو پڑھے کا صاحبِ لَولاک کے اوپر دُرود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہو جائیں گے کافیؔ و لیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا
(۱۸۵۷ء کے مجاہد شعرا۔از:امداد صابری،مرجع سابق۹۴۔۹۵)

حضرت مولانا کافی ؔشہید کو مرادآباد جیل کے سامنے مجمع عام کے روبرو پھانسی دی گئی اور وہیں دفن کردیا گیا۔جناب مولوی سید ظفرالدین احمد مرحوم ابن حضرت حاجی مولوی سید نعیم الدین مرادآبادی بیان کرتے ہیں کہ ایک سڑک اس مقام سے نکالی جا رہی تھی اور مولانا کافی ؔ شہید کے مزار کا نشان نمایاں نہیں تھا۔مزدور کام کررہے تھے کہ مولانا کی قبر کھل گئی اور مزدور کا پھاؤڑا مولانا کافی شہید کی پنڈلی پر لگا۔ جسم اطہر ویسا ہی تھا جیسا شہادت کے وقت تھا ۔(۱۸۵۷ء کے مجاہد شعرا،مرجع سابق۹۸)انجینئر نے سڑک کا رخ تبدیل کردیا جس کی وجہ سے سڑک میں کچھ ٹیڑھا پن پایاجاتا ہے۔جسم کہیں منتقل نہیں کیا گیا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 402533 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
04 Oct, 2016 Views: 286

Comments

آپ کی رائے