بھارتی سرحدی آبادی کے انخلاء کا مہمہ

(Ghulam Ullah Kiyani, )
نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس کے بعد بھارت میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ لگنے والی انٹرنیشنل سرحد اور ورکنگ باؤنڈری کے تقریباً ایک ہزار دیہات خالی کر ادیئے ہیں۔ 15لاکھ سے زیادہ افراد کو گھروں سے نکالنا غیر معمولی اقدام ہے۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ آبادی کا انخلاء جبری طور پر کیا جا رہا ہے۔آبادی کو پاکستان کے کسی جوابی حملے سے بچانے کا تاثر دیا گیا ہے۔ اس انخلاء کی بھارتی پنجاب میں وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل خود نگرانی کر رہے ہیں۔ پنجاب میں اس وقت بی جے پی اور شرومنی اکالی دل کی اتحادی حکومت ہے۔ چند ماہ بعد یہاں بھی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ جیسے کہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش یا یوپی میں اسمبلی انتخابات جنوری 2017کو متوقع ہیں۔

پنجاب، راجھستان اور گجرات میں انٹرنیشنل سرحد کی نگرانی بارڈر سیکورٹی فورس یا بی ایس ایف کرتی ہے۔ جب سرحدی آبادی نے اس جبری انخلاء کے خلاف احتجاج کیا تو حقائق سامنے آنے لگے۔ آبادی کا کہنا ہے کہنا ہے کہ انہوں نے 1965،71، 1999کی جنگ بھی دیکھی ہے۔ اس طرح کبھی بھی آبادی کو نہیں نکالا گیا۔ دیہاتیوں کو پاکستان سے بہٹ زیادہ خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ یہ کہا جا رہا کہ پاکستان حملہ کرنے والا ہے۔ نقصان سے بچنے کے لئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانا ضروری ہے۔ مگر آبادی سوال کرتی ہے کہ آج فصل کٹائی کا سیزن ہے۔ انہیں اس طرح یرغمال بناتے ہوئے کیوں گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ کیا بھارت پنجاب سے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ تا کہ جوابی کارروائی میں سکھ مارے جائیں، جن کی خالصہ تحریک سے بھارت تنگ آ چکا ہے،یا یہ کوئی اور چال ہے۔

سرحدوں سے آبادی کو نکالنے کا حکم کس نے دیا۔ بی ایس ایف کے ڈی جی کے کے شرما نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ فورس نے یہ حکم نہیں دیا۔ ہو سکتا ہے انتطامیہ نے احتیاطی طور پر ایسا کیا ہو۔ جبکہ پنچاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ نے سرحدی دیہات کا دورہ کیا اور کہا کہ انخلاء لوگوں کی زندگی بچانے کے لئے ہے۔ مگر اپوزیشن کو یہ بات یضم نہیں ہو رہی ہے۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے رہنماپنجاب کے چھ سرحدی اضلاع فیروز پور، فاضلکہ، امرتسر، ترن تراں، گورداسپور اور پٹھانکوٹ میں پہنچ کر عوام کو بی جے پی اور اکالی دل حکومت کے عزائم سے باخبر کر رہے ہیں۔

سبھی یہ کہتے ہیں کہ بی جے پی اور اس کے اتحادی سیاست کر رہے ہیں۔ وہ یو پی اور پنجاب انتخابات کے لئے ووٹ کی سیاست کرتے ہیں۔ لوگوں کو پاکستان سے ڈرا کر ووٹ لینے کا یہ سارا عمل ہے۔ لاکھوں افراد کو گھروں سے بے گھر کر دیا گیا ہے۔ انہیں ریلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ یہ کیمپ سکولوں، سرکاری عمارتوں اور میدانوں میں لگائے گئے ہیں۔ جہاں کوئی سہولت نہیں۔ یہاں بی جے پی کے رہنما دورے کر رہے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ انتخابات کے بعد وہ آج پہلی بار نظر آئے ہیں۔ یہ سب انتخابی مہم جوئی ہے۔ پنجاب کانگریس کے چیف کیپٹن امریندر سنگھ نے نریندر مودی سوال کیا ہے کہ کیا بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ کیا وہ ھالت جنگ میں ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو غریب گاؤں والوں کو در بدر کیوں کر دیا گیا۔ بی جے پی حکومت نے لوگوں میں خوف و دہشت پیدا کیا ہے۔ جنگی ہیجان پیدا کر کے انتخابات جیتنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ لوگوں کو گھروں سے اجاڑ دیا گیا ہے۔ لوگ مظاہرے کر رہے ہیں۔ مودی ہائے ہائے کے نعرے لگا رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پنجابیوں کو قربانی کا بکرا با دیا گیا ہے۔ ایسا انخلا ء 2002کے آپریشن پاراکرم کے دوران بھی نہیں ہوا۔ گورپریت سنگھ وڑائچ عام آدمی پارٹی پنجاب کے کنوینئر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے لوگوں کو گھروں سے زبردستی نکال کر بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔ ان کی فصلیں اور مال مویشی، گھر بار کی حفاظت کا کوئی بندو بست نہیں۔

گجرات سے مقبوضہ کشمیر تک 2300کلو میٹر پر پھیلی انٹرنیشنل سرحد اورجموں میں تقریباً200کلو میٹر ورکنگ باؤنڈری پر بی ایس ایف تعینات ہے ۔ لگ بھگ 750کلو میٹر سیز فائر لائن ریگور آرمی کو رکھا گیا ہے۔ بھارت نیپاک سرحد سے دس کلو میٹر تک کے علاقے کی آبادی کو گھروں سے نکال دیا ہے۔ میڈیا میں بھی یہ تاثر دیا گیا ہے کہ جنگ ہونے والی ہے کیوں کہ پاکستان سرجیکل سٹرائیکس کو جواب دے گا۔ بھارتی عوام کو اسی مفروضے کا شکار بنایا گیا ہے ۔ اگر سرجیکل سڑائیکس ہوئی ہی نہیں تو پاکستان کیوں پیش قدمی کرے گا۔ بھارت اپنے سرحدی عوام کو زبردستی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے ۔ اوڑی کے نام نہاد حملے میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے انتقام کے طور پر سرجیکل سٹرائیکس ا شوشہ چھوڑا گیا۔ اس انتقام کا بھارتی عوام خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ اوڑی حملہ بھی مشکوک ہے۔ ابھی تک اس میں مارے جانے والے کسی بھی جنگجو یا در انداز کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔ کوئی لاش یا کوئی اسلحہ بھی نہیں ملا۔ سب ایک فراڈ اور گمراہی پیدا کرنے کا ڈرامہ تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن کے دوران یہ سب کیا گیا ۔ یہ بی کہ دنیا کی توجہ کشمیر میں بھارتی ریاستی بدترین دہشت گردی سے ہٹ کر پاکستان پر مبذول ہو جائے۔

پنجابی سکھ آبادی کو گھروں سے نکالنے کے لئے گوردواروں سے اعلانات کئے گئے۔ یہ کہا گیا کہ جلدی نکلو ورنہ پاکستانی آ جائیں گے۔ وہ آ رہے ہیں۔ لوگ گھروں سے نکل آئے اور گھروں سے دور ریلف کیمپوں میں چلے گئے۔ وہ کب تک یہاں رہیں گے، کوئی نہیں جانتا۔ بھارتی میڈیا ان کی حالت زار سامنے لانے لگا ہے۔ اس وقت پنجاب کے سرحدی دیہات کے 15لاکھ لوگ گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ انہیں اس قدر خوفزدہ کیا گیا کہ وہ آدھی رات کو اندھیرے میں گھروں سے چل پڑے۔ واہگہ اور دیگر علاقوں میں پاکستانی اور بھارتی پرچم اتارنے کی تقاریب میں میلے لگتے تھے۔ آج بھارت کی طرف سے یہاں کوئی شریک نہیں ہو رہا ہے۔ یہ سب ڈر اور خوف ہے۔

2 اکتوبر کو پٹھانکوٹ، فرید کوٹ اور کرتار پور ریلیف کیمپوں کے اوپر سے غبارے نظر آئے۔ جن پر مودی کے لئے دھمکی آمیز جملے لکھے تھے۔ ایک پر لکھا تھا’’مودی جی، ایوبی کی تلواریں ابھی ہمارے پاس ہیں،اسلام زندہ باد‘‘۔ ان غباروں کو بھی مودی کی شرارت قرار دیا جا سکتا ہے تا کہ عوام کو مزید خوفزدہ کیا جا سکے۔ البتہ پاکستان کو سرحدوں سے لاکھوں کی بھارتی آبادی کے جبری انخلاء کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیئے۔ جنگ بندی لائن، ورکنگ باؤنڈری اور انٹرنیشنل سرحد پر پاک فوج ہی نہیں بلکہ عوام کا چوکس رہنا انتہائی ضروری ہے۔ رضاکار فورس یا دیہی کمیٹیوں کی تشکیل سے بھی مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 594 Articles with 234190 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
09 Oct, 2016 Views: 650

Comments

آپ کی رائے