مدینے کے سفر میں ،میں نم دیدہ نم دیدہ!!!

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)
 جنوری 2003،میں حجِ بیت اﷲ کی سعادت سے ربِ کائنات نے سرفراز فرمایا۔اس وقت جذبات کا یہ عالم تھا کہ اُمڈے پڑ رہے تھے۔اس سفرِ حج میں ہمارے ٹور آپریٹر ایک نام نہاد مولوی صاحب تھے جن کا نام لینا اس وقت مناسب نہیں ہے۔ ان موصوف نے حجاج کرام کے ساتھ جو کچھ کیا۔اُس نے حجاج َکرام کے حج کی عبادات کو دھندھلا کر رکھ دیاتھا۔موصوف نے کراچی سے ہی تمام حجاج کرام کے اخراجات کے چیکس ہتھیا لئے تھے اور بہانہ یہ بنایا تھا کہ میرے پاس تمہارے چیکس محفوظ رہیں گے۔ لمحہ لمحہ خوف زدہ کر تے رہے تھے ۔کہ کسی بھی معاملے میں آپ کو آواز نہیں اُٹھانی ہے اگر کوئی نقصان ہوجا ئے تو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے۔جب حرم شریف میں پہنچے تو مولوی صاحب کا پہلا حکم ہوا کہ سعودیوں کی اقتدا میں کوئی نماز نہیں پڑھے گا!!! ہم اپنی جماعت الگ کرائیں گے کیونکہ ان سے ہمارا عقیدہ نہیں ملتا ہے اور سعودیوں اور حر مین شریفیں کے علمائے کرام کو مسلسل برا بھلا کہتے رہے۔جس پر میں نے ان نام نہاد عالم صاحب سے کہا مولوی صاحب آپ کہہ رہے ہیں کہ کنویں پر آکر پیاسے چلے جائیں، اس پر مولو ی صاحب کا پارہ چڑھ گیا اور فرمانے لگے تمہیں یہ گُستاخانِ رسول پسند ہیں تو تم ان کے ساتھ اپنی نمازیں خراب کرو۔گروپ میں سے بڑی تعدادمیں لوگ میرے ہمنو ابن گئے تھے۔ جب مدینے جانے کی تیاریا ں شروع ہوئیں تومولوی صاحب نے واویلا شروع کر دیا کہ حاجیوں کے اخراجات کے چیک کا بیگ گم ہو گیا ہے۔کسی حاجی کو ان کے سالِ گذشتہ کی حرکت کا علم تھا،انہوں کہا مولوی صاحب آپ کا حاجیوں کے اخراجات کے چیکس کا بیگ گذشتہ سال بھی کھو گیا تھا۔اس مرتبہ بھی آپ نے وہ ہی ڈرمہ شروع کر دیاہے۔ گروپ کے تمام حاجی سکتے کے عالم میں تھے۔جیسے تیسے کر کے مدینے میں روضہ رسول پر حاضریاں د یں مگر مولوی صاحب پھر بھی ڈراتے رہے۔حد تو یہ ہے کہ موصوف نے حاجیوں سے کھا نے کے انتظامات کے نام پربھی خاصے پیسے کراچی ائیر پورٹ پر ہی وصول لئے تھے۔میر ی خوش دامن جو ہمارے ہمراہ سفرِ حج میں شامل تھیں پرہیزی کھانا کھاتی تھیں ۔ان کے بھی کھانے کے اخراجات مولوی صاب نے لے لئے تھے اور حرمین شریفین میں مجھ سے کہا تھا کہ آپ ان کا پرہیزی کھانا لیایا کریں میں بعد میں ان اخراجا ت کے پیسے آپ کو دیدو ں گا۔ جو آج تک تو ملے نہیں ہیں، ایک دو سال وہ مولوی صاحب حج گروپ اپنی بد نامی کی وجہ سے نہ لیجا سکے تھے۔مگر اس مرتبہ 2016 کے حج میں وہ منحوس چہرہ ایک مرتب پھر مدینے میں دیکھنے کوملا جو اب کسی اور کے ساتھ مل کر حاجیوں کی لوٹ مار میں شریک ہے۔

اس مرتبہ کا ہمارا سفرِ حج انتہائی روح پرور اور خوشگوار رہا۔9 ،اگست 2016کو ہماراقافلہِ حج ہمارے ٹو رآپریٹر میزابِ رحمت کے ذریعے سعودی ائیر لائینز کے ذریعے کراچی سے رات کی آخری پہر روانہ ہوا اور ساڑھے تین گھنٹوں کی مسافت کے بعد جدہ ائیر پورٹ پر صبح فجر کے بعد اتاردیا۔اہرام کی حالت میں تمام حاجی سعودی عرب کی شدید گرمی کے نرغے میں تھے۔مگر یہ گرمی بھی ہمیں محظوظ کر رہی تھی۔مکہ میں ہوٹل پہنچنے کے بعد سامان کی پرواہ کئے بغر حرم شریف کی جانب جو ہمارے ہوٹل سے مشکل سے 500 میٹر کے فاصلے پر ہوگا ۔میری پہلی نظر کعبہ پر پڑی تو آنکھوں آنسووں کی جھڑی لگ گئی اور اﷲ سے صرف یہ ہی درخوست کر سکا کہ اے ربِ کائنات میری دعا رد نہ کرنا۔وہ خالق و امختارہے ،چاہے اپنے اس گنہ گار نبدے کی دعا قبول کرے یا رد کر دے۔اتفاق سے ہمارے کمرے میں ٹی وی تھا اور ا س پر ہم پاکستان کا ایک چینل خبروں کے لئے کھو لیا کرتے تھے۔ابھی حج اور شیطان کو کنکریا ں مارنے کا مرحلہ باقی تھاکہ ہم نے حرم شریف (مکہ)میں اپنے قیام کے دوران ہی 22، اگست 2016کو پاکستان کے بڑے شیطان کو کنکریاں ماردی تھیں۔جس کو 23،اگست کو پاکستان میں بھی پتھر پڑے۔

اس مر تبہ سرکاری حج انتظامات کی لوگ تعریف تو کر رہے تھے مگر عزیزیہ میں حاجیوں کے مسلسل قیام سے ان کی عبادتوں میں جو خلل واقع ہو رہا تھا اس کوہر حاجی محسوس کر رہا تھا ۔حرمین شریفین میں دن میں گرمی کا یہ عالم تھا 50/52سے ٹمپریچر کم نہ تھا، کمروں میں بہترین اے سی سسٹم تھا تو باہر سورج آگ برسا رہا تھا۔جس کی وجہ سے ہر حاجی نزلہ کھانسی کا شکار بن جاتا تھا۔ مکہ(حرم شریف)میں 20دن روح پرور قیام اور عبادتوں کے دوران ہم نے کئی عمرے اور ہر دن کئی کئی طواف کئے۔ دل چاہتا تھا کہ عبادتوں کا یہ روح پرور دورانیہ ختم ہی نہ ہو۔ہر فرد اپنے اپنے انداز و زبان میں اپنی فریادیں اپنے مالکِ حقیقی کے دربا میں پیش کرہا تھا ۔جس میں ایسا سرور تھا جس کو لفظوں میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا ہے۔کسی کو کسی سے کوئی غرض نہ تھی ہر مسلمان اپنے بھائیوں کی ہمدردی میں سبقت لے جانے کی سوچ لیئے ہوئے تھا۔

ہمارے ٹور آپریٹر ضیاء بیگ نے نوید دی کہ ،مدینہ چلنا ہے ۔آقائے دوجہاں کے دربار میں حاضری کا سُنا توآنسو تھے کہ تھمنے میں ہی نہیں آرہے تھے ۔سوچ یہ ہی تھی کہ اے سیاہ کارشبیر!تو کس منہ سے اﷲ کے حبیب کے دربار میں حاضڑ ہوگا ؟کیا تجھے روضہِ رسول سے یہ صدا نہ آئے گی کہ اے سیاہ کار تونے شرک و بدعت میں ساری زندگی بسر کی اب تو میر ے پاس کیا لینے آیاہے؟تو میں اس کے لئے کیا جواب دوں گا؟پھر خیا ل آیاکہ ربِ کائنات خود فرماتا ہے کہ’’ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا‘‘تو دل کو تسلی ہوئی مت پوچھیئے زیارتِ روضہ رسول سے جو تشفی ملی،اُس کا سرور نہ ختم ہونے والا ہے۔9 دن کے بعد ہم مدینے سے عزیزیہ لیجائے گئے جوبیت اﷲ سے6/7 کلومیٹردور ہے جہاں حجاج کرام اپنے اپنے کمروں میں کھلے ڈُلے آرام کے ساتھ عبادتوں میں تومصروف رہے مگرروزانہ بیت اﷲ پہنچناہر ایک کیلئے مشکل تھایہاں عبادتوں کا سرور حرمین شریفین جیسا نہ تھا۔ 8ذلِالحج کو فجر کے بعد احرام باندھ کرجب ہم منیٰ کے خیموں میں پہنچے تویہ پانچ روزہ کا دورانیہ ہر چھوٹے بڑے حاجی کیلئے امتحان تھا ۔ہر حاجی پر احرام کی پابندیاں لگ گئیں۔اب ہر حلال کام حجاج کیلئے حرام تھا۔نہ خوشبو لگا سکتے تھے اور نہ مکھی مچھر مار سکتے تھے اور نہ ازداجی تعلقات کے حوالے سے کسی معمولی اور عام امر کابھی ارتکاب کرسکتے تھے۔ خیموں میں ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کے گدے پر ہرخیمے میں پارٹیشن کے بعد کم از کم 100مرد وخواتین مقیم تھے۔وہیں پر سونا ،کھانا،نمازیں اور قُر آن پڑھنا، اندازہ لگایئے کہ کسقدر دشوار ہوگا؟مگر منیٰ کے اس دشوار گذار قیام کے ہر فعل میں اس قدر لذت و سرور تھاجس اظہار الفاظ میں کرنا مشکل ہے۔اگلے دن کی فجر کے بعد حجا جِ کرام کو حکم ہے کہ عرفات کے میدان میں وقوف کی غرض قیا م کریں جہاں مسجد نمرامیں خطبہِ حج کے بعد ظہرو عصر ملا کر پڑھنے کا حکم ہے۔زوال کے بعد ہم وقوفِ عرفہ کھلے آسمان کے نیچے کر سکتے ہیں مگر عموماََ عصرسے غروب آٖفتاب تک لوگ اپنے مالک کے حضور گِڑ اگِڑاآنسوں کی جھڑی میں50/52 ٹمپریچر میں کھلے آسمان کے نیچے دعائیں کرتے ہیں جس کو وقوفِ اعظم کہا جاتا ہے۔،وقوف میں کی جانے والی ہر دعا دربارِ رب العزت میں قبولیت کا شرف رکھتی ہے-

وقوف عرفات اور غروبِ آفتاب کے بعد بغیر نماز مغرب پڑھے ہم نے مدلفہ پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ کھلے آسمان کے نیچے مٹی پتھر سے اٹے اونچے نیچے میدان میں پڑھی یہاں چاہے کوئی شہنشاہ ہے یا فقیر،محلے دو محلوں میں بہترین اے سی کی ٹھنڈک میں رہنے ولا ہے یا ٹوٹی جھونپڑی میں شدت کی گر می برداشت کرنے والا ہے ہر ایک، ایک معمولی چا در یا چٹائی پر لیٹ کر رات گذار رہا ہے اور مٹی کے ڈھیروں میں کنکریاں تلاش کرتا ہے۔ فجر کے بعد دعائیں طلوعِ آفتاب تک مانگی جاتی ہیں ۔وقوفِ مد زلفہ کے بعد جب ہم منیٰ کے لئے نکلے تو ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ یہاں سے منیٰ کیلئے بس جائے گی ہم کاہلی کے مارے بس میں سوار تو ہوگئے وہ فاصلہ جو لوگوں نے پیدل چل کر آدھے گھنٹے میں طے کیا ،اسکو ہم بس کے ذریعے پانچ گھنٹوں میں بھی طے نہ کر سکے تھے زوال کا وقت آیا چاہتا تھا کیونکہ ہمیں زوا ل سے پہلے بڑے شیطان کو کنکریاں مارنی تھیں بس کا ڈرائیور بھی بس کو بھگا بھگا کر نڈھال ہوچکا تھاکہ کہیں راستہ مل جائے ۔کہ مکتب نوجونوں نے ہماری ہم ت بندھائی اور بس کو چھوڑ کر ہم سے کہا ہم آپ لوگوں کو مکتب تک زوال کے ہونے سے پہلے پہنچا دیں۔ان جوانوں نے بزرگوں کا سامان خود لے لیا اور ایک گھنٹے کی پیدل مسا فت کے بعد ہمیں منیٰ کے خیمے میں پہنچادیا جب ہم نے انہیں زبردستی کچھ دینا چاہا تو ان بچوں نے وہ پیسے لینے سے انکار کر دیا ہر حاجی ان بچوں کو دعائیں دے رہا تھا۔۔اب ہمنے رمی کیلئے (بڑے شیطان) کو کنکریاں مارنے کی تیاری مکمل کر لی تو میں اپنے گروپ کے لوگوں سے بچھڑ کرخیمے کے مخالف سمت چلا گیا۔میرے ساتھی میری بیگم کو اکیلا چھوڑ کر رمی کیلئے نکل کھڑے ہوئے ۔ میری بیگم پاگلوں کے طرح مجھے تلاش کر رہی تھی اور میں اُنہیں ۔بڑی مشکل سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا اور میں کافی جدوجہد کے بعد اپنی بیگم تک پہنچنے کے قابل ہوا تو ہم بڑے شیطان کو کنکریاں مار کر جب واپس آنے لگے توہندوستان کے ایک بزرگ نے ہم سے سوال کیا کہ ’’کا آپ بہاری ہیں؟ہم نے جوباََ کہا نہیں پاکستانی ہیں۔تو وہ بولے’’بھیا ہم کا ای بتاؤ ہم نے سیطان کو تو پتھر مار دی،کا اب کھُپڑیا کھرچوالئی؟ہم نے انہیں بتایا نہیں ابھی آپ کی طرف سے قربانی ہوگی اسکے بعد آپ اپنے سر کے بال کٹوائیں گے اس گفتگو سے ہم بہت محظو ظ ہوے۔شام 5 بجے ہماری طرف سے قربانی ہوئی توہمنے(حلق کروایا) سر کے بال کٹوا کر ہم احرام کی پابندیوں سے آذاد ہوگئے۔

جس کے بعد ٹرانسپورٹ کے نا ہونے کی وجہ چار کلومیٹر کمرے تک پیدل سفر طے کر کے عزیزیہ پہنچے نہا دھو کر نئے کپڑے پہنے اور مغرب کی نماز پڑھ کرحرم شریف طوافِ زیارہ کیلئے پہنچے تو اس قدر رش تھاکہ جو طواف ہم نے پندرہ سے بیس منٹوں میں کئی مرتبہ کیا تھا وہ بمشکل قریباََ ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل ہوا شکرانہ پڑھنے کے بعد ہمیں سعی کیلئے صفا و مروہ کے سات چکروں میں بھی چلتے چلتے سوا گھنٹہ کے قریب لگا۔ اب ہم نے شکرا نے کے مزیدنفل پڑھنے چاہے تو یقین جانیئے ٹانگوں میں اتنی سکت نہ تھی کہ بیٹھنے کے بعد کھڑے ہو سکیں ۔آج کا دن ہمارے لئے انتہائی تھکا دینے والا تو تھا مگر مناسک کی ادائیگی کے دوران نہ جانے اﷲ نے کہاں کی طاقت ہمارے اند بھر دی تھی کہ تھکن کا ہمیں احساس تک نہ تھا۔ کھانا وغیرہ لینے بعدقریباََ رات کا ایک بج چکا تھا اور ہمیں منیٰ فجر سے پہلے پہنچنا تھا۔ٹیکسی والاپانچ ریال کی مسافت کیلئے کوئی پر ہیڈ 150 ریال مانگ رہا تھا تو کوئی 100 ریال،جیسے جیسے وقت گذر رہا تھا ان کے ریٹ بڑھتے جا رہے تھے۔ کافی جدوجہد کے بعد ایک سعودی ڈرا ئیو ر ہمیں 40ر یال پر ہیڈ کے حساب لے جانے پر راضی ہوا۔جو ہم سے پاکستانی ہونے کی حیثیت سینہایت ہی خوش ا خلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوے سینٹر پوائنٹ جو منی ٰسے قریباََ دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھاہمیں اتار گیا۔جہاں سے ہم پیدل منیٰ قریباََ چار بجے پہنچے تھکن کی وجہ سے فوراََ ہی نیند آگئی۔زوال کے بعد تینوں جمرات پر کنکریاں مار کرخیمے کے بجائے ہم شب گذاری کیلئے پیدل ہی کمرے میں پہنچے ۔12ذلِحج کو پھرمنیٰ جاکر تینوں جمرات کوکنکریاں ماریں اسطرح ہمارا حج پروسس مکمل ہواتو ہم طوافِ وداع کرکے عزیزیہ لوٹے اب ہماریہاں پروقت ہی گذارنا حرم سے دوری کی وجہ سے مشکل ہو گیا تھا۔جہاں عبادتوں کا سرور ماند پڑنے لگا تھا۔ بے چینی کے ساتھ واپسی کی فکر تھی کہ 21ستمبر کو کراچی پہنچے اورحج بیت اﷲ کی خوش اصلوبی سے تکمیل اور بہ حفاظت لوٹنے پر ربِ کائنات کے شکر گذار ہوئے -
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 116662 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Oct, 2016 Views: 675

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ