غریب کی دیوار

(Prof Niamat Ali Murtazai, )
شدید بارشوں اور آندھیوں کے تھپیڑے برداشت نہ کرتے ہوئے غریب کی دیوار آخر کار زمیں بوس ہوگئی۔ غریب نے خدا سے رو رو کے دعائیں مانگیں کہ اس کی دیوار تعمیر کرنے کے لئے غیب سے کوئی مدد آ جائے۔ لیکن وہ غریب اعمال میں اتنا اچھا نہ تھا کہ کوئی کرامت ہو جائے۔ روزے آئے، اس کے گھر بار کو اندر باہر سے دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے چلے گئے۔ عیدیں آئیں اور امیروں کے گھروں میں ہی دو، تین دن گزار کر چلتی بنیں۔ سردی آئی اور گری ہوئی دیوار پر گہری دھند کی چادر تان دی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 177037 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
17 Oct, 2016 Views: 613

Comments

آپ کی رائے
Masha Allah bohoth acha likha hay aap nay ... Jazak Allah Hu Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Oct, 17 2016
Reply Reply
0 Like
zabrdast tehreer.... khuda haamiy-o-nasir ho sb ka (ameen).... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Oct, 17 2016
Reply Reply
0 Like