غریب کی دیوار
(Prof Niamat Ali Murtazai, )
شدید بارشوں اور آندھیوں کے تھپیڑے برداشت
نہ کرتے ہوئے غریب کی دیوار آخر کار زمیں بوس ہوگئی۔ غریب نے خدا سے رو رو
کے دعائیں مانگیں کہ اس کی دیوار تعمیر کرنے کے لئے غیب سے کوئی مدد آ جائے۔
لیکن وہ غریب اعمال میں اتنا اچھا نہ تھا کہ کوئی کرامت ہو جائے۔ روزے آئے،
اس کے گھر بار کو اندر باہر سے دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے چلے گئے۔ عیدیں
آئیں اور امیروں کے گھروں میں ہی دو، تین دن گزار کر چلتی بنیں۔ سردی آئی
اور گری ہوئی دیوار پر گہری دھند کی چادر تان دی۔ |
|