منحوس۔۔۔۔۔

(Ahmar Akbar, Burewala)
آسیہ تین سال سے اپنے ساس سسر کی جلی کٹی سن کر گزارہ صرف اس لیے کر رہی تھی کہ اس کے خاوند کے جیل سے رہا ہونے کے دن قریب آچکے تھےجو شادی کی پہلی ہی رات سے قتل کے جرم میں حوالات میں تھا یہ قتل اب کچھ شرائط پر معاف کیا جا رہا تھا کیونکہ ہوائی فائیرنگ پتہ نہیں کس نے کی تھی
وہ سج دھج کر مہندی لگا کر نیا جوڑا پہن کر آج بہت خوش تھی کہ ساس نے کہا ارے تم کیوں تیار ہوئے جا رہی ہو پنجائت میں فیصلہ ہوا تھا کہ دو لاکھ روپے اور تجھے طلاق دے کر ان کے بیٹے سے شادی کروائی جائے گی تب ہی میرا بیٹا باہر آ سکا ہے چل اب ڈرامے نہ کر جان چھوڑ ہماری منحوس کہیں کی نہ ہو تو ۔۔۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahmar Akbar

Read More Articles by Ahmar Akbar: 21 Articles with 9374 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Oct, 2016 Views: 511

Comments

آپ کی رائے
Allah hi hidayat de bht jaga pe abhi esa boht kuch ho raha ha
By: Muhammad Aslam, Burewala on Oct, 21 2016
Reply Reply
0 Like
abi b Pakistan k boht sy backward dehaat main esy e halaat hai.... khuda hidayat dy.... good work stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Oct, 18 2016
Reply Reply
0 Like