ایک معاشرتی المیہ ۔۔۔۔۔۔ موبائیل فوبیا

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)
میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا زمانہ آ گیا ہے۔
باپ بھی فون پر مصروف ہے۔
ماں بھی فون پہ لگی ہوئی ہے۔
بیٹا بھی فون پہ محو گفتگو ہے۔
بیٹی بھی فون پر سہیلیوں سے گپ شپ کر رہی ہے۔
سارا دن نہ کوئی آپس میں بات کرتا ہے۔
اور نہ ہی کسی کو کھانے پکانے کی فکر ہے۔
نہ کوئی ملک کا سوچتا ہے اور نہ ہی رشتہ داروں کا۔
سب کوخطرناک بیماری لگ گئی ہے جسے موبائیل فوبیا کہتے ہیں۔
کہیں آپ کے گھر میں بھی ایسا تو نہیں؟
ضرور سوچیں کہ ہم کدھر جارہے ہیں؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1339832 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
18 Oct, 2016 Views: 751

Comments

آپ کی رائے
شکریہ رانیا چوہدری صاحبہ بجا فرمایا آپ نے لیکن اس کا حل تو یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کو اس سے دور رکھا جائے تاکہ وہ اس پر لگنے والے جراثیموں سے محفوظ رہ سکیں لیکن بڑے بچوں کو ابھی ہم اس جراثیم سے نہیں بچا سکتے۔لیکن ماں باپ کا فرض بنتا ہے کہ بچوں پر نظر رکھیں۔استعمال کسی چیز کا برا نہیں ہوتا اس کو برا بنا لیا جاتا ہے۔جزاک اللہ
By: H/Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore on Oct, 20 2016
Reply Reply
0 Like
Dr sb bhout acha topic liya hai ap nay aij kal tu esa lagnay laga hai jasay phone hi hmari zindagi ban gya hai aik pal b ya dor hoa tu zindagi ruk jay gi or ise ka ise tara use bhout galt hai ab tu infant jine kach pata b nahi hota wo b ise ko bhout shok say pakhrtay hain ise khiltay hain ya din ba din bemari bharti ja rahi hai ap hi ise ka ilaj dhonday ab
By: Rania Ch, Lahore on Oct, 20 2016
Reply Reply
0 Like
شکریہ سید انور صاحب۔لگتا تو کچھ ایسے ہی ہے کہ یہ بیماری کم ہونے کی بجائے بڑھتی جائے گی۔لیکن اس کا تدارک ضروری ہے ورنہ یہ ہماری نوجوان نسل کو مزید خراب کر دے گی۔میں بھی اسی لئے اس موضوع چنا ہے۔

By: H/Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore on Oct, 19 2016
Reply Reply
0 Like
شکریہ ٖفرح اعجاز صاحبہ
By: H/Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore on Oct, 19 2016
Reply Reply
0 Like
محترم ڈاکٹر صاحب شاید کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے، گھر میں آٹا نہیں ہے کوئی بات نہیں لیکن اگر موبائل میں بیلنس نہیں تو پھر سکون نہیں، ممکن ہے کل کوئی اس بیماری کا علاج ڈھونڈ لے آج ایسا ممکن نظر نہیں آرہا۔
By: Syed Anwer Mahmood, Karachi on Oct, 19 2016
Reply Reply
1 Like
bohoth khoob janab ... Jazak Allah Hu Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Oct, 18 2016
Reply Reply
0 Like