احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

(Prof Talib Ali Awan, Sialkot)
 موضوع کا تعارف:
لفظ ’’مروت‘‘ کے معنی ’’شائستگی ،اطمینان ،سکون ، فراخدلی ،خوش خلقی، خاطر جمعی ،حسن ِ اخلاق ،پیار ،محبت ، شفقت وغیرہ‘‘ کے ہیں ، انگریزی زبان میں اس لفظ کے لئے ’’Complacency,Politeness Obligingness,‘‘کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔’’کچلنا‘‘ سے مراد’’ختم کرنا، روندنا (پاؤں تلے روندنا) ‘‘ ہے ،انگریزی زبان میں اس کیلئے ’’Crush یا Tramp‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔آلات ’’آلہ ‘‘ کی جمع ہے جس کے معنی ’’مشین،سامان،اوزار،ہتھیار،پرزہ ‘‘کے ہیں،انگریزی زبان میں اس لفظ
کے لئے ’’Tools یا Apparatus‘‘جیسے مرکب الفاظ استعمال ہوتے ہیں جو اپنے اندر کئی الفاظ سموئے ہوئے ہیں۔

اصطلاحی معنوں میں موضوع سے مراد’’ ایسی چیزیں(مشینیں،اوزار،ہتھیار) ؍ عادات و اطوار؍ الفاظ جو کسی فرد یا معاشرے کے حسن ِاخلاق،اطمینان و سکون،خاطر جمعی ،خوش خلقی اور مروت کو ختم کر دینے کا موجب بنیں یا بن رہے ہیں ۔‘‘

موضوع کی تفصیل:
اگرچہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور دنیا کی ہر شے اس کے قابو میں ہیں لیکن پھر بھی ماحول کے اثر سے خود بھی آہستہ آہستہ بدل کر کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے ،اس کے وجود ،طبیعت ،عادات واطوار اور احساسات میں بڑی لچک ہے اور اسی وجہ سے وقت اور ماحول کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے ۔ یہ چیز اس کی فطرت میں اس قدر رچی بسی ہوئی ہے کہ بعض حالتوں میں نہ بدلنا چاہے یا اپنے جذبات و احساسات کی تبدیلی پر تلملاتا بھی رہے تب بھی تبدیلی کا عمل اس پر طاری رہتا ہے ،جیسے مشینی دور اور صنعتی انقلاب نے انسان کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ سماجی ڈھانچے بدل گئے ۔ دانشوروں نے ان اثرات کو محسوس کیا ، چنانچہ اقبال ؒ بھی اپنی مشہور نظم’’ لینن خدا کے حضور ‘‘ لینن کی زبانی اس صورتحال کا اظہار کچھ یوں کیا :
ہے دل کے لئے موت ، مشینوں کی حکومت
احساس ِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اس شعر کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اگرچہ مشینوں کی ایجادات اور استعمال سے انسان نے مادی ترقی بہت زیادہ کر لی ہے مگر سائنسی دور نے انسان کو بھی مشین کی طرح بے حس کر دیا ہے اس کے دل میں اب وہ سوز،درد، دل گذاری اور محبت نہیں رہی جو مشینی دور سے پہلے تھی ۔ غربت ، جہالت ، بیماری ، بیروزگاری اور مادیت پرستی ایسے مسائل پیدا ہو گئے ہیں جنہوں نے ہم سے احساس ِمروت چھین لیا ہے اور مشینوں کا کاروبار یوں بڑھا ہے کہ انسانوں کی قدرو منزلت کم ہو گئی ہے ۔

ہم نے مشینی دور سے پہلے کا زمانہ نہیں دیکھا لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب سہولیات کا فقدان تھا ،نت نئی ایجادات اور مشینوں کی قلت تھی تو لوگ سیدھے سادھے تھے، جب مکان کچے تھے تو لوگ سچے تھے ، ان میں شائستگی ،خلوص ، اطمینان ،فراخ دلی ،خوش خلقی، خاطر جمعی ، حسن ِ اخلاق، سچائی ،ایمانداری ،زندہ دلی ، پیار ومحبت ، شفقت ، جذبہ ایثار ،عدل و انصاف، خوف ِ خدا ،احساس ِ مروت کی فروانی ہوتی تھی ،ایک دوسرے کے کام آنے کا جذبہ عام تھا ،کسی پر اچانک کوئی دکھ ، مصیبت ، پریشانی آجاتی تو اس کے ہمسائے ، عزیزو اقارب اس پر ’’سایہ ‘‘کر دیتے تھے ۔ آنکھوں میں شرم و حیاکوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔بیٹیاں اور عزت و آبرو سانجھی سمجھی جاتی تھیں ۔ چھوٹے بڑے میں تمیزکی جاتی تھی ،رشتہ داروں میں پیارو محبت اور خلوص عام تھا،لوگوں کی آنکھوں میں رشتوں کی قدر اور آنکھوں میں شرم و حیا کی کثرت ہوتی تھی۔ آج اس کا عشر عشیر بھی مشکل سے نظر آتا ہے ،ایک وہ زمانہ تھا کہ کوئی مسلمان لڑکی اپنے بھائیوں کو مدد کیلئے پکارتی تو مسلمانوں کی رگ حمیت پھڑک اٹھتی اور وہ یلغار کرتے ہوئے دشمن کو پامال کر دیتے ،فتح سندھ کی مثال ہمارے سامنے ہیں ۔ اس کے برعکس اس مشینی دور میں وہ غیرت و حمیت کہاں گئی ؟ آج واقعات ہمارے سامنے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ مشینوں کی ترقی نے انسانیت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ اخلاقی اقدار مٹتی جا رہی ہیں، آج نہ بھائی بھائی رہا اور نہ دوست دوست ۔ بقول ِ شاعر:
بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی ڈالیں جو یوسف ؑ سا برادر ہو وے

آج ہم خود غرض ،لالچی اور مادہ پرست بن کر رہ گئے ہیں ،رشتوں کا باہمی عزت و احترام گھٹتا جا رہا ہے ،نیک و بد اور حلال و حرام کا فرق ختم ہوتا جا رہا ہے ،لفظ ’’ احساس‘‘ ماضی کا قصہ پارینہ بنتا جارہا ہے، لوگوں کی جان و مال ،عزت و آبرو داؤ پر لگی ہوئی ہے ، مالی خود ہی گلشن کو اجاڑ نے میں لگے ہوئے ہیں ، محافظ چوروں سے ملے ہوئے ہیں ،قانون ساز ،قانون شکن بنے ہوئے ہیں ،گھر کے بھیدی لنکا ڈھا رہے ہیں ۔ یہ سب کام محض ’’ مال ‘‘ بنانے کی خاطرکئے جارہے ہیں ،پھر اسی ’’مال‘‘ سے مشینیں خریدی جاتی ہیں اور آخر کارانسان خود ہی ایک مشین بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس مادیت پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور دم توڑتی انسانیت پرشاعر کچھ یوں نوحہ کناں ہے :
بہتر ہے مہ و مہر پہ ڈالو نہ کمندیں
انساں کی خبر لو کہ وہ دم توڑ رہا ہے

سائنسدان کہتے ہیں کہ موجودہ دور انسانی ترقی اور فلاح و بہبود کا دور ہے ،لیکن حقیقت میں یہ ایک دھوکہ ہے ، یہ ایٹم بم ،ہائیڈروجن بم ، میزائل اوردیگر زہریلے ہتھیار انسانیت کو تباہ کرنے کیلئے ایجاد ہوئے ہیں ، ہیرو شیما اور ناگا ساکی کو یاد کرکے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔ آج سائنسی آلات نے لوگوں کا خون سفید کر دیا ہے ۔ نفسا نفسی کا دور دورہ ہے ،ہر ایک کو محض اپنی ذات کی فکر ہے ۔ آپ کسی بڑے مشینی شہر میں جائیں تو وہاں گاڑیوں کا دھواں اور ایندھن کی بدبو آپ کو پریشان کر دے گی ،حتیٰ کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جائے گا ۔ ہر قدم پر جان جانے کا خوف، بھوت کی طرح آپ کا پیچھا کرے گا ،کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنا اُلو سیدھا کرنا چاہتا ہے ۔ بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ برسوں ایک پڑوسی کی دوسرے پڑوسی سے ملاقات نہیں ہوتی ۔ باپ اپنی راہ پر گامزن ہے اور بیٹا اپنی راہ پر ، کسی کو کسی سے کوئی محبت نہیں ہے ۔ بقول شاعر:
موت تو نام سے بدنام ہوئی ورنہ
تکلیف تو زندگی بھی دیا کرتی ہے

سائنس کہتی ہے کہ انسانی عقل انتہائی بلندیوں کو چھو رہی ہے مگر ایک حساس انسان اس کوکچھ یوں پکا رتا ہے :
جہل خرد نے دن یہ دکھائے ہیں
گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے

اس بے چینی ،بے سکونی ،بے مروتی ،بے نیازی،بد اخلاقی اور دیگر سماجی و معاشرتی برائیوں کو مشینی دور کی پیداوار کیوں نہ سمجھیں جس میں انسان خود بھی ایک کل کا پرزہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اقبالؒ نے سچ ہی تو کہا تھا :
ہے دل کے لئے موت ، مشینوں کی حکومت
احساس ِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3316 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof Talib Ali Awan: 50 Articles with 45581 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Thanks bro u provided a whole speech on this topic and this is what I needed well done
By: Mustafa Zaidi, Karachi on Feb, 24 2020
Reply Reply
0 Like
Language: