ذیابیطس کا مرض اور طرزِ زندگی

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

قارئین ہمارے ہاں دن بدن ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ آرام طلبی ، ورزش نہ کرنا، بسیار خوری اور مرغن غذاؤں کا بے دریغ استعمال ہے۔ ذیابیطس کا مرض ہونے کی چند علامات بتا دیتا ہوں تاکہ اگر آپ میں سے کوئی بھی ان علامات کو محسوس کرے تو وہ اپنا ٹیسٹ ضرور کروا لے۔
 


٭ بھوک کا زیادہ لگنا، تھکاوٹ محسوس کرنا، پیشاب کا بار بار آنا خاص طور پر رات کے وقت، بینائی کا کمزور ہو جانا، زخموں کا جلد ٹھیک نہ ہونا، ہاضمہ کا درست نہ رہنا، جنسی کمزوری کا ہو جانا، وزن کا کم ہو جانا وغیرہ علامات پائی جا سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فوری اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور ٹیسٹ کے بعد باقاعدہ اپنا علاج کروائیں۔

خدانخواستہ اگر آپ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں تو پھر یقیناً آپ کو اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ بیماری کوئی بھی ہو انسان جب تک پرہیز نہیں کرے گا تب تک وہ اپنی بیماری سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا خاص طور پر شوگر کے مریضوں کو اپنا طرزِ زندگی ضرور تبدیل کرنا چاہیے تاکہ وہ مرض کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی تجاویز ہیں جن پر عمل کر کے ذیابیطس کے مرض کے باجود ہم بہتر زندگی گزار سکتے ہیں-

غذا اور شوگر:
ایک صحت مند انسان کے لئے متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک ذیابیطس کے مریض کے لئے ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جس میں چکنائی، شکر اور نمک کا مقدار کم ہو۔ اس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے کھانوں کے وقت مقرر کر لیں اور روزانہ ایک مخصوص حرارے تک ہی لیں حراروں میں کمی بیشی سے شکر کی سطح متاثر ہوتی ہے۔ غذا کے سلسلے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

متناسب وزن:
کوشش کریں کہ آپ کا وزن بڑھنے نہ پائے بلکہ اگر آپ کا وان بڑھ چکا ہے تو اس میں کمی لائیں۔ وزن کو کم کرنے کے لئے آپ کو روزانہ ورزش کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے وقت میں سے ایک گھنٹہ ورزش کے لئے ضرور نکالیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے پیدل چلنا سب سے بہتر ورزش ہے اگر آپ کو تھکاوٹ ہو جائے تو تھوڑی دیر آرام کر لیں۔ ورزش کرنے سے ذیابیطس کے مریضوں میں شکر کی سطح نارمل رہتی ہے اور جسم میں بننے والی انسولین بہتر کام کرتی ہے۔ ورزش سے آپ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو بھی نارمل سطح پر رکھ سکتے ہیں۔ اور اس طرح آپ دل کے امراض سے بچ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں آپ اپنی عمر کے مطابق ورزش کا انتخاب کریں ضروری نہیں کہ آپ کوئی سخت ہی ورزش کریں ۔ آپ پہلے کم دورانیہ سے ورزش کا آغاز کریں پھر اس کو آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں۔ جیسے جیسے آپ ورزش معمول کے مطابق کریں گے آپ اس کے عادی ہوتے چلے جائیں گے۔ ورزش میں آپ پیدل چلیں، سائیکل چلائیں، باغبانی کریں،ٖ فٹ بال کھیلیں یہ تمام ورزشیں آپ کے بہتر ثابت ہو سکتی ہیں۔
 


دوا کا وقت پر استعمال:
ذیابیطس کے مریضوں کو وقت پر دوا لینی چایئے اس کے وقفے سے اپنا ٹیسٹ بھی کرواتے رہیں جس میں اپنی ذیابیطس کا ٹیسٹ، بلڈ پریشر وغیرہ کو چیک کرتے رہیں اور کوشش کریں کہ آپ کا بلڈ پریشر بڑھنے نہ پائے۔ دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے شروع کریں اور اپنے طور پر ہرگز کسی بھی دوا کا استعمال نہ کریں کیونکہ وہ آپ کے لئے فائدے کی بجائے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

صفائی کا خیال رکھیں:
اس کے علاوہ روزانہ غسل کی عادت بھی اپنائیں۔ اپنے تمام جسم کی صفائی کا خاص خیال رکھیں خاص طور پر اپنے پاؤں کو ہر قسم کے انفیکشن سے بچائیں۔ اپنے پاؤں کو روزانہ کی بنیاد پر صاف کریں اگر پاؤں کی جلد خشک ہو تو اس پر کریم اور لوشن لگائیں جس سے جلد میں نمی پیدا ہوتی ہے اور پاؤں کی خشکی دور ہو جاتی ہے۔ننگے پاؤں نہ رہیں ہمیشہ نرم جوتے کا استعمال کریں اور اسی طرح تنگ موزے بھی نہ پہنیں۔

آنکھوں کا معائنہ:
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کی بینائی تیزی کے ساتھ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ کسی ماہر چشم سے اپنی آنکھوں کا معائنہ باقاعدگی سے کرواتے رہیں۔تاکہ آنکھوں میں کسی قسم کی خرابی کا بر وقت پتا چل جائے اور اس کے علاج میں کسی قسم کی دقت نہ ہو۔

قارئین امید کرتا ہوں کہ آپ کو آج کا مضمون بھی پسند آیا ہوگا۔مجھ سے رابطہ کے لئے 03004716259 پر ایس ایم ایس یا کال کریں۔شکریہ

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
19 Oct, 2016 Views: 5920

Comments

آپ کی رائے
depression se bhi suger ho jati hai............jo ke aaj kal sab se bari waja hai ,
By: azeem, paklahore on Oct, 20 2016
Reply Reply
0 Like
When it comes to food and eating, we’re all different – some of us like having one meal day, while some of us eat three square meals sticking to specific meal times. Sometimes our busy schedules dictate the way we eat. Throw diabetes into the mix and it can quite difficult to know what and when to eat as well as manage the condition.