قاتل کون؟

(S.M Hashim, Karachi)
"یار!سامنے ہجوم دکھائی دے رہا ہے"
فرحان نے جم گھٹے کی طرف اشارہ کیا۔
"چلو جانی! دیکھتے ہیں ۔"
میں نے اپنا تکیہ کلام استعمال کرتے ہوئے کہا۔
"بابا جی ،کیا ہوگیا؟"
ہم نے ایک بزرگ سے پوچھا۔
"بد چلن عورت کا قتل۔ "
"ارے نہیں بدچلن نہیں تھی، "
پاس کھڑے شخص نے کہا،
"کسی لفنگے کو اس کا فون نمبر مل گیا ،
بیہودہ میسج کرتا تھا ،کمینہ ،
کیا حال ہے جانی ،کب ملو گی جانی ،
فون ساس کے ہتھے چڑھ گیا،
شوہر نے بلا تصدیق سینے میں چار گولیاں اُتار دیں۔"
میرے پیروں تلے زمین کھسک رہی تھی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheikh Muhammad Hashim

Read More Articles by Sheikh Muhammad Hashim: 77 Articles with 65442 views »
Ex Deputy Manager Of Pakistan Steel Mill & social activist
.. View More
20 Oct, 2016 Views: 1775

Comments

آپ کی رائے
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بےحد معیاری اور انتہائی چونکا دینے والا انجام رکھنے والی کہانی ہے ۔ تحریر نہایت ہی رواں اور شستہ ہے ۔ اور ایک دلچسپ بات یہ نظر آئی کہ لفظوں کی تعداد کو بالکل درست یعنی پورے سو رکھنے کے لئے جمگھٹے کو توڑ کر لکھا گیا ۔ ویسے ایسا کئے بغیر بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا ۔ ویسے بھی نتائج کا اعلان اور پھر ان سے اختلافات اور اعتراضات کے جواب میں ھماری ویب نے واضح کیا کہ مقابلے کے لئے لازمی طور پر سو لفظوں کی شرط نہیں بلکہ تقریباً سو لفظوں کی رعایت دی گئی تھی جس کا ہمیں بھی علم نہیں تھا یعنی اس طرح بتائے ہوئے پر ہماری توجہ نہیں گئی تھی ۔ مگر یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ایک لکھاری صرف ایک ہی انٹری بھیجنے کا اہل ہے ۔ نتیجتہً ہم بھی کئی کہانیوں کو سو لفظوں میں سمونے کی کوششوں میں کھپ گئے تھے بہت محنت اور وقت لگا ایسا کرنے میں ۔ اور پھر ھماری ویب کے دیئے گئے آپشن کے مطابق اپنی " مشہور ِ زمانہ " گدھے والی کہانی کو اس مقابلے کے لئے نامزد کرایا ۔ اب ہمیں کیا معلوم تھا کہ گدھے کے مقدر میں ہارنا ہی لکھا تھا ۔ اور پاکستان کے ساتھ ساتھ یہاں امریکہ میں بھی اس سانحے کا سامنا کرنا تھا ۔ اور وہ بھی ایک ہی دن ۔ سنبھلنے کا موقع تک نہیں مل رہا تھا ۔ سچی بات ہے کہ گدھے بےچارے کی ہار نے تو ہمیں ہلا کے رکھ دیا ہے )-: کم تو خیر یہ بھی نہیں ہے مگر ہاتھی کے مقابلے میں کچھ بہتر لگ رہا تھا ۔ اب ہاتھی اگر اپنی خرمستیوں پر آ گیا تو خاکم بدہن بہت سے پاکستانیوں کا حال دھوبی کے کتے والا ہو گا جو نہ گھر کا ہوتا ہے نہ گھاٹ کا ۔ غیر قانونی رہائشیوں کے علاوہ بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے یہاں قدم جمانے کے بعد اپنی ساری کشتیاں جلا دیں ۔ ہمارا شمار بھی تقریباً ایسے ہی عاقبت نااندیشوں میں ہوتا ہے ۔ بس اللہ ہی رحم کرے ۔ ہو سکتا ہے آگے خیریت ہی رہے ۔ مگر بالآخر ایک نہ ایک دن ایسا آنا ہی ہے کہ جب باہر سے آنے والوں کو واپس جانا ہو گا یہی نوشتہء دیوار ہے ۔
خیر بات شروع ہوئی تھی اس کہانی کے بہترین ہونے کے باوجود فاتحین میں شامل نہ ہونے کے ذکر سے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت بہتر کہانیوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے ۔ ان کا فیصلہ کرنا جج صاحبان کے لئے بھی یقیناً کسی امتحان سے کم نہیں رہا ہو گا ۔ پہلی دو کہانیوں کو منتخب کرنے کے بعد شاید وہ بھی خاصی مشکل میں پڑ گئے تھے ۔ ایسے میں معزز تجربہ کار اپنے اپنے شعبے کے ماہر منصفین سے کچھ فروگزاشت ہوئی ضرور ہے ۔ خیر ہم پر ان کے فیصلے کا احترام واجب ہے ۔ اور یہ بھی کیا کم ہے کہ ھماری ویب کے اس مقابلے کی بدولت لکھنے والوں کو اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع ملا ۔ اور اپنی تخلیقات کے خزانے میں سو لفظوں پر مشتمل کہانیوں کے جواہر کا بھی اضافہ مہیا ہؤا ۔ خود ہم ناچیز نے بھی اس بہانے پہلی بار اس صنف میں طبع آزمائی کی اور اپنی قلمی کاوشوں کے سوشل میڈیا پر کاپی پیسٹ کئے جانے کے شرف سے باریاب ہوئے (-:
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Nov, 21 2016
Reply Reply
5 Like
محترم جناب رانا تبسم پاشا صاحب,آپ کا تفصیلی تبصرہ پڑھا پڑھ کربڑی خوشی ھوئی ..جناب یقیناً ھماری ویب کی یہ کاوش انتہائی قابل ستائش ھے کہ انھوں نےسو لفظوں پر مشتمل کہانی کے مقابلے کا انقعاد کیا ..یہ بھی درست ھے کہ میں نے اپنی لکھی گئی کہانی کو پورے سو لفظوں تک محدود رکھنے کی کوشش کی ھے میرے ذھن میں یہ بات تھی کہ اگر کہانی سو لفظوں پرمشتمل نہیں ھے تو اسے سو لفظوں کی کہانی کاعنوان دینا مناسب نہیں ھوگا لیکن اس میں رعایت دینا بھی لکھنے والوں کا حوصلہ بڑھانے کا ذریعہ ثابت ھوا..جناب اپنی لکھی گئی کہانی میں میں نے لفظ جمگھٹے ھی لکھا تھا لیکن یہ شائع الگ الگ ھوا ھے...یہ بھی درست ھےکہ اس مقابلے میں ایک سے بڑھ کر ایک معرکۃالآرا کہانیاں لکھی گئیں جس میں آپکی گدھے والی کہانی بھی شامل کی جا سکتی ھے مجھے جج صاحبان کے فیصلے پر قطعی اعتراض نہیں میرا ھماری ویب والوں کو ایک مشورہ تھا کہ اگر ججز کے پینل میں سو لفظوں کی کہانی کے موجد "جناب مبشر علی زیدی صاحب " کو بھی شامل کرلیا جاتا تو زیادہ مناسب ھوتا ...والسلام
By: sheikh Muhammad Hashim, Karachi on Nov, 22 2016
0 Like
حیرت ہے معیاری مضامین کو انعام کا مستحق نہیں سمجھ گی۔۔
By: Amir Siddiqui, Karachi on Nov, 20 2016
Reply Reply
0 Like
kahani phle kahin prhi hui ha .
By: Farheen Naz Tariq, Chakwal on Nov, 09 2016
Reply Reply
1 Like
ھمیں بھی تو پتہ چلے کہاں پڑھ لیا..جہاں آپ نے تفصیل سے پڑھا ھے وہ بھی اتفاق سے میری ھی تحریر تھی..بہر حل پڑھنے اور کمنٹس دینے کا شکریہ
By: sheikh Muhammad Hashim, Karachi on Nov, 18 2016
2 Like
mashre ka Haqeeqi chehra sirf 100 lafzoon men dikhaya jis ki jitni dad di jaey kam hy
By: Nahawish Aftab, Lahore on Oct, 30 2016
Reply Reply
1 Like
Bhut khub
By: Amir Siddiqui, Karachi on Oct, 27 2016
Reply Reply
1 Like
معاشرے ک بھیانک سچ۔۔عمدہ انداز بیاں
By: Laiba, Karachi on Oct, 27 2016
Reply Reply
1 Like
آخری جملہ ہی معنی خیز ہے ۔۔بہت خوبصورت تحریر
By: Muhammad Siddiq Khan Alvi .Adv, Lahore on Oct, 24 2016
Reply Reply
1 Like
بہت خوب ھاشم بھائی اللہ کوشش کو کامیابی کی منازل عطا فرمائے آمین
By: Muhmmad Shahid Imran, Karachi on Oct, 22 2016
Reply Reply
1 Like
100 لفظوں میں ہوشیار باش کی بہترین صدا.
By: Asif Husain Syed , Karachi on Oct, 21 2016
Reply Reply
1 Like
بہت عمدہ کمنٹس کئے ۔۔۔بھت شکریہ جناب
By: sheikh Muhammad Hashim, Karachi on Oct, 22 2016
0 Like
pakistani society kai chubtay huway nasoor par excelent story
By: mirza maqsood, karachi on Oct, 21 2016
Reply Reply
1 Like
بہت شکریہ جناب
By: sheikh Muhammad Hashim, Karachi on Oct, 22 2016
0 Like
Very impressive
By: Sohail, Dallas on Oct, 20 2016
Reply Reply
1 Like
بہت شکریہ جناب
By: sheikh Muhammad Hashim, Karachi on Oct, 21 2016
0 Like
Samandar Ko qozay main band Kr diya..
Very nice
By: Atiqa, Karachi on Oct, 20 2016
Reply Reply
1 Like
نوازش
By: sheikh Muhammad Hashim, Karachi on Oct, 21 2016
0 Like
بہت خوب،معاشرے میں پائی جانے والی بے راہ روی اور سماجی تضادات کو عمدگی کے ساتھ 100 لفظوں میں بیاں کیا ہے قابل ستائش کاوش
By: Syed Muhammad Ishtiaq, Karachi on Oct, 20 2016
Reply Reply
1 Like
بہت شکریہ
By: sheikh Muhammad Hashim, Karachi on Oct, 20 2016
0 Like
bohoth umda janab ... Jazak allah Hu Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Oct, 20 2016
Reply Reply
1 Like
بہت نوازش محترمہ فرح اعجاز صاحبہ ۔۔۔میرے لئے یہ اعزاز ہے کہ میری تحریر کو آپ نے پسند فرمایا
By: sheikh Muhammad Hashim, Karachi on Oct, 20 2016
0 Like