"بہو"

(Arshiya Hashmi, Islamabad)
 "...بھئی ہم نے تو بہو اور بیٹی میں فرق نہ رکھا-" وہ اک تفاحر سے بول رہی تهیں-
" آپا ..یہ تو بڑائی ہے آپ کی،....ہر کوئی آپ جیسا نہیں ہوتا-" شبینہ ان کی قائل تھی-
زمر کچن کی طرف متوجہ تھی، جہاں ماہم اپنی نم آنکھوں کے ساتھ سبزی بنانے اور آٹا گوندھنے کے بعد اب روٹی بیلنے لگی-
"آنٹی عائزہ کہاں ہے؟ " زمر نے پوچه لیا-
" پڑھ رہی ہے.. بہت مشکل پڑھائی ہے اس کی-"
اگلے ہی لمحے عائزہ نیند سے بوجھل آنکھیں لئے نمودار ہوئی تو زمر کے سامنے نم آنکھوں والی "بہو" کا چہرہ لہرا گیا-
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arshiya Hashmi

Read More Articles by Arshiya Hashmi: 5 Articles with 3349 views »
میری چپ کو میری ہار مت سمجھنا...
میں اپنے فیصلے خدا پہ چھوڑ دیتی ہوں
.. View More
21 Oct, 2016 Views: 839

Comments

آپ کی رائے