کہانی غيرمسلم استاد کی۔۔۔

(Sadia Batool, Rawalpindi)
از ديا نور
وہ صبح ساڑھے سات بجے يونيورسٹی جانے کے ليے تيار ہوئيں۔
گزشتہ دو دھائيوں سے وہ تدريس کے شعبے سے منسلک تھيں۔
وہ ايک قابل، ذہين اور زيرک استاد تھيں۔
آج يونيورسٹی ميں فنکشن ميں شرکت کے ليے وہ بھی سب کی طرح تيار ہو کے آئيں ۔
يونيورسٹی جاتے ہوئے دعا کے ليئے گاڑی چرچ کی جانب موڑ دی۔
ہال ميں باقی استادوں کے برعکس وہ پچھلے دروازے سے داخل ہوئيں۔
ذہن ابھی تک وہيں اُلجھا ہوا ہے کہ جب عہدے اور قابليت ميں فرق نہيں تو
ايسا طرز عمل کيوں۔۔۔
کہيں ھمارا رویہ تو اس سب کا زمہ دار نہيں؟
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: diya noor
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Oct, 2016 Views: 692

Comments

آپ کی رائے