لاحاصل

(Sehrish, Karachi)
ائیرپورٹ کی پارکنگ میں گاڑی سے نیچے اترا۔ برستی ہوئی بارش نے اس کے آنسوں چھپا ديئے تھے۔ ریان کو یاد تھا اس نے اپنے بھائی زین کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ یہ کہہ کر بیرون ملک چلا گیا کہ "اس ملک میں رہ کر کسی خودکش حملے میں بے بسی کی حالت میں نہیں مرنا چاہتا"
"یہاں جڑیں کھوکھلی کرنے والے بہت ہیں تم جیسے زرخیز دماغ کی ضرورت ہے۔'' ریان نے جواب دیا
اس کا جانا لاحاصل ٹہرا۔ آج ائیرپورٹ پر وہ زین کی باڈی لینے آیا تھا وہ فرانس میں ہونے والے خودکش حملے میں جان سے گزر گیا تھا-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sehrish
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Oct, 2016 Views: 578

Comments

آپ کی رائے
السلام علیکم
آہ ... موت کا تو ایک دن اور جگہ مقرر ہے
اور وہ اٹل ہے
البتہ انسان کو اپنے وطن کی ہر حال میں قدر کرنا چاہیئے
اور اب تو جو حالات عداوت کے سبب اس زمین
پر پیدا کئے گئے تھے ... آج وقت کی چال کے سبب
اغیار خود ایسے ہی مسائل سے دوچار نظر آتے ہیں

لکھتی رہا کریں ...
اللہ آباد و بے مثال رکھے آپ کو ... آمین صد آمین
By: Seen Noon Makhmoor (س ن مخمور), Karachi on Oct, 24 2016
Reply Reply
2 Like