حقیقی خوشیاں

(Madiha Iram, Mianwali)
عارضی اور ظاہری خوشیوں سے وقتی خوشی تو مل جاتی ہے لیکن حقیقی اور دیرپا خوشیاں صرف وہ خوشی ہوتی ہے جس سے دل اور ضمیر دونوں مطمئن اور خوش ہوں
انسان نے بہت ترقی کر لی ہے
ہاں! لیکن حقیقی خوشیوں سے محروم ہو گیا
وہ کیسے؟
روپے پیسے اور مال و دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے
اُسی سے تو ترقی ہوتی ہے
یہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کی خاطر جائز و ناجائز کام کرنا، رشتوں کو پامال کرنا، دوسروں کے حقوق اور خوشیاں چھیننا کیا ٹھیک ہے
نہیں ! لیکن اس کا حقیقی خوشیوں سے کیا تعلق؟
دوسروں کی خوشیاں یا حقوق چھیننے سے کبھی بھی حقیقی خوشی نہیں ملتی بلکہ دوسروں کو خوشیاں دے کر اور دوسروں کے دکھ کو کم کرنے سے حقیقی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Madiha Iram
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Oct, 2016 Views: 559

Comments

آپ کی رائے
A.A Ap ni reply nai kia.
By: kashif imran, Mianwali on Oct, 31 2016
Reply Reply
0 Like
Very nice. We do not care any one for ourselves.
By: kashif imran, Mianwali on Oct, 29 2016
Reply Reply
0 Like