کلیم الدین احمد : ایک مثالی نقاد

(Safdar Imam Qadri, India)
اردو تنقید کی تاریخ میں حالی نے مغرب سے استفادہ کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا لیکن کلیم الدین احمد کی تنقید سے پہلے یہ معلوم نہ تھا کہ مغرب میں تنقید کا کیا مذاق ہے۔ تخلیقات کو ادبی اصولوں کی بنیاد پر توجہ کی نظر سے دیکھنا اور ادب کے عالمی سرمایے کے آئنے میں ان کا جائزہ لینا کلیم الدین احمد کا اصل کارنامہ ہے۔ اپنے تنقیدی فیصلوں میں انھوں نے روایتی وضع داری نبھانے کے بجائے حقیقت پسندانہ بے باکی کامظاہرہ کیا اردو تنقید کے لیے یہ چونکانے والی بات تھی۔ خاص طور پر مسلمہ شخصیات اوراصناف کی تاریخ پرگفتگو کرتے ہوئے کلیم الدین احمد کے سخت اورشدّت کے ساتھ بیان کیے گئے، جملوں سے اردو کے ایوان تنقید میں ہنگامہ برپا ہوا۔ اختلافات کے باوجودکلیم الدین احمدکے ادبی رایوں کے خلوص ،سچائی اور ذہانت کوماناگیا۔ اوراسی لیے اردوتنقید میں انھیں ممتازمقام عطاکیاگیا۔
کلیم الدین احمد کی تعلیم مغرب کی مشہوریونیورسیٹی کیمبرج میں ہوئی۔ انگریزی کے معروف اوراہم ناقد ایف ۔آر۔لیوس کے وہ شاگردِخاص تھے۔ انھوں نے لیوس کی نگرانی میں ہی ٹرائی پوس کیا۔ مغربی ادب کے بہترین تنقیدی سرمایے کا گہرامطالعہ اورممتازاسکالرکی نگرانی میں تربیت کلیم الدین احمدکی تنقیدی شخصیت کی تشکیل میں نشان ِراہ رہے۔ اسی وجہ سے کلیم الدین احمد پر مغرب زدگی اور مرعوبیت کے اعتراضات کیے گئے۔ لیکن ہمیں معلوم ہے کہ وہ مشرقی شعر و ادب پر کتنی گہری نظر رکھتے تھے۔ داستانوں سے لے کر اردو کی روایتی اصناف کا وہ جس گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرتے ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس مشرق ومغرب دونوں دھاروں کے علوم کا ذخیرہ موجود ہے۔
کلیم الدین احمد کی تنقیدی زندگی کا آغاز ’’گل نغمہ‘‘ کے پیش لفظ سے ہوتا ہے۔ جب وہ پہلی بار غزل کو ’’نیم وحشی صنف شاعری‘‘ کہتے ہیں۔ اس جملے کا ردعمل ابھی پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے ’’اردو میں تنقید کا وجود محض فرضی ہے‘‘ کہہ کر ایک دوسرا ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ نظیر اکبر آبادی کو اردو کے شعری آسمان کا جب کلیم الدین احمد نے ’’درخشندہ ستارہ‘‘ قرار دیا تب بھی اردو کے ادبی حلقے میں کافی لے دے ہوئی۔ ’’اقبالؔ کا عالمی ادب میں کوئی مقام نہیں‘‘ اور ’’میر انیس ایک معمولی صنعت گر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ ان جیسی کئی اور ادبی رایوں پر اردو میں اب بھی چہ می گوئیاں جاری ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اب یہ کہنے والا کوئی نہیں ہے کہ کلیم الدین احمد نے صرف چونکا نے کے لیے یہ باتیں کہی تھیں۔ کلیم الدین احمد کی تنقیدی تحریروں کو گہری سنجیدگی سے پڑھاجاتا ہے اور ان کی کتابوں اور نظریات سے روشنی لے کر تنقید کی کئی نسلیں سامنے آچکی ہیں۔
ترقی پسند ادب کے دور عروج میں کلیم الدین احمد نے ہم عصر شعراء اور ناقدین کی شہرت سے متاثر ہوئے بغیرابتدائی دور میں بھی اپنے تنقیدی فیصلے کیے۔ فیضؔ کی شاعرانہ اہمیت کا اقرار اور دوسرے کئی ترقی پسند شعراء کی بے جا اہمیت کے خلاف کلیم الدین کی راے اب عام طور پر مان لی گئی ہے۔ ترقی پسند تحریک اور اس کی اشتعال انگیزی کے بارے میں کلیم الدین احمد کے تنقیدی فیصلے صحیح ثابت ہوئے اور بعد کے دور میں ترقی پسند ادیبوں کے درمیان توازن اور احتیاط کی جھلک دکھائی دی، اس کے پیچھے کلیم الدین احمد کی سخت تنقیدوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ بعض ناقدین یہ مانتے ہیں کہ اردو ادب پر ترقی پسندوں کے غیر ادبی معیاروں کے حملوں کا تنہا مقابلہ کلیم الدین احمد نے اپنی تنقید ات سے کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔ ترقی پسندوں کا طوفان بالآخر تھم گیا اور اس میں توازن پیدا ہوا۔
کلیم الدین احمد کی شہرت اولاََ ان کی بے باکی کی وجہ سے ہوئی۔ ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۲ء کے دوران ’’گل نغمہ‘‘ ،’’اردو شاعری پر ایک نظر‘‘ ، ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ اور ’’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘ جیسی کتابیں مختصر وقفے سے منظر عام پر آئیں۔ ادب کی تنقید میں شاید ہی یہ کبھی ممکن ہوا ہوگا کہ تمام اہل قلم ایک نوجوان لکھنے والے کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ کلیم الدین احمد کی عمر ۳۲، ۳۳ سال تھی۔ لیکن اردو کے بڑے لکھنے والوں، شاعروں، ادیبوں کی تحریروں پر ان کے بے لاگ اور سخت ترین اعتراضات اور پھر ان پر چھڑی بحث کی وجہ سے کلیم الدین احمد اپنی ابتدائی تحریروں کی ہی بدولت اردو تنقید کے مرکزی اسٹیج پر متمکن ہوگئے۔
اردو تنقید ابھی گومگو کا شکار تھی اور روایتی محبت داریوں کے ساتھ یہ مان لیا گیا تھا کہ ’’خطاے بزرگاں‘‘ کا اظہار مناسب نہیں لیکن کلیم الدین احمد نے اپنی ناقدانہ راے کے اظہار میں۔ جس کی بنیاد دلیل اور تجزیوں پر تھی، میں کوئی رعایت نہیں برتی۔ غالبؔ ، میرؔ، اقبالؔ، انیسؔ اور دوسرے بڑے شاعروں کے بارے میں تجزیہ کر کے انھوں نے بتایا کہ ان کی خامیاں کیا ہیں۔ اہم اضاف سخن اور بالخصوص غزل کے بارے میں وضاحت کے ساتھ اپنی تنقیدی راے رکھی۔ ’’میری تنقید ایک بازدید ‘‘ میں پھر سے دہرایا کہ غزل کے تعلق سے میری پرانی راے اب بھی قائم ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کلیم الدین احمد نے گول مٹول اور ’’ہاں بھی‘‘، ’’نہیں بھی‘‘ انداز کو نہیں اپنا کر اردو تنقید میں فیصلہ کن رجحان کو فروغ دیا۔
کلیم الدین احمد اردو کے پہلے ناقد ہیں جنھوں نے اپنی تنقید کو بھرپور مثالوں سے آراستہ کیا۔ اکثر نقاد کچھ اصولی نکتے طے کر کے اپنی بات کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیتے ہیں۔ عام طور سے ایسی تنقید اصل تخلیق سے بے نیاز اور الگ تھلگ رہتی ہے اور تنقید نگار کی راے دلیلوں کی کمی کی وجہ سے اکثر بے اعتبار ہو کر رہ جاتی ہے۔ کلیم الدین احمد نے پہلے دن سے ہی کہ کوشش کی جس تخلیق کو نشانۂ نقد بنانا ہے اس کے مکمل متن پر ان کی پوری گرفت ہو اور کسی نتیجے تک پہنچنے میں وہ تفصیل سے نبرد آزما رہیں۔ کبھی کبھی کلیم الدین احمد کی کتابوں میں مثالوں کی یلغار سے قارئین ہر اساں ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسی تنقید کا فائدہ یہ ہے کہ پڑھنے والے کے لیے یہ بھی موقع ہوتا ہے کہ ناقد کی راے کا خود بھی مثالوں کی مدد سے محاسبہ کرتا چلے۔ اسی وجہ سے کلیم الدین احمد کو اپنی تنقیدی رایوں میں وقت کے بدلنے کے ساتھ نہ کسی انقلابی تبدیلی کی ضرورت پڑی اور نہ ہی پڑھنے والوں کو ان کے اندازِ تنقید کو سمجھنے کے لیے تربیت چاہیے تھی۔
کلیم الدین احمد نے حالیؔ پر لکھتے ہوئے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ کی نثر کی تعریف کی ہے۔ تنقیدی نثر کیسی ہو اور تخلیق کے سنجیدہ مطالعے میں کیسے اس کااستعمال ہو، اس موضوع پر انھوں نے بار بار اپنی راے کا اظہار کیا ہے۔ آل احمد سرور اور فراقؔ گورکھپوری یا محمد حسن عسکری کی زبان کو تنقید کے لیے نامناسب قرار دینا بھی یہ بتاتا ہے کہ کلیم الدین احمد اردو تنقید میں کس زبان کے خواہاں تھے انھوں نے اپنی نثر بالکل سادہ لکھی ہے، عام بول چال کی زبان کو اہمیت دی۔ آرائش اور سجاوٹ کے لیے الگ سے کوشش نہیں کی۔ جملوں کو مختصر بنایا اور بولنے کی رفتار میں تیزی لائی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس شخص پر وہ لکھ رہے ہیں اس کے ساتھ محوِ کلام بھی ہیں۔ تنقیدی نثر کی یہ سادگی کلیم الدین احمد کی کتابوں کے پڑھنے والوں کی تعداد بہت آسانی سے بڑھا ئی گئی۔ ان کے ہم عصروں میں شاید ہی کسی ناقد کی مکمل کتابیں اس سہولت اور مستعدی سے پڑھی گئی ہوں گی۔
تنقید کی بنیاد اصول پر ہونی چاہیے اور ناقد کے لیے یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنی تنقید کا اصولی چوکھٹا تیار کرلے پھر اس میں تخلیق کے مشتملات داخل کر کے طے کردے کہ کیا ٹھیک اور کیا غلط ہے۔ چوکھٹا تیار کرنا اگر اصولی تنقید ہے تو تخلیق کے متن کی خوبیوں اور خامیوں کی جانچ عملی تنقید ہے۔ اکثر ناقدین ان میں سے کسی ایک شعبہ کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن کلیم الدین احمد ابتدائی زمانے سے ہی اصولی اور عملی تنقید کے درمیان ایک نقطۂ اتصال تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ سب سے پہلے شعر و ادب کو جانچنے کے لیے کچھ اصولی نکات قائم کرتے ہیں اور اسی آئینے میں اپنا تنقیدی دائرۂ کار مخصوص کرتے ہیں۔ پھر تخلیق سے ضروری مثالیں اخذ کر کے بہ تفصیل جانچ پر کھ کرتے ہیں۔ تنقید کے اسی اسلوب کے وہ قائل بھی ہیں۔ احتشام حسین کی تنقید کو وہ اس لیے مناسب نہیں سمجھتے کہ وہ (احتشام حسین) اصول سازی کا کام جس مستعدی سے کرتے ہیں اسی تنومندی کے ساتھ تخلیقات کے جسم و جان میں اترنے کی کوشش نہیں کرتے نتیجے کے طور پر تخلیقات کی قدر شناسی کا کام آدھا ادھورا رہ جاتا ہے۔
کسی ناقد کا یہ اولین فریضہ ہے کہ اپنی زبان کے بنیادی سوالات پر غور و فکر کرے اور جو مسائل لوگوں کو الجھا رہے ہوں، انھیں سمجھنے سمجھانے میں مدد کرے۔ اس طور پر حالیؔ کے بعد کلیم الدین احمد پہلے ناقد ہیں جنھوں نے شعر و ادب کے بنیادی سوالات پر غور و فکر کرنے کی کوشش کی۔ الفاظ اور شاعری، اسلوب اور موضوع، ادب براے ادب، ادب براے زندگی، ادب اور اخلاق، ادب اور قومی زندگی، ادب اور سماج، ادب اور فرد کی زندگی، جیسے پریشان کن سوالات پر بار بار غور کرنے کے بعد کلیم الدین احمد نے اپنے نتائج سے ہمیں آگاہ کیا۔ یہ صحیح ہے کہ ان میں سے بیشتر سوالات پر اتفاق راے شاید ہی ممکن ہو لیکن کلیم الدین احمد نے اپنے خیالات کی وضاحت سے کبھی گریزنہیں کیا۔
کلیم الدین احمد نے اپنے ابتدائی دور سے ہی یہ کوشش کی کہ اردو ادب کے تمام سرمایے کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ تنقید، شاعری اور داستان تین اصناف پر ان کی جو کتابیں آئیں، وہ اب بھی موضوع کا کلی محاکمہ کرنے کی وجہ سے اہمیت کی حامل ہیں۔ عملی تنقید کے اصول اور طریقۂ کار کو بنیاد بنا کر انھوں نے ایک مکمل کتاب ’’عملی تنقید‘‘ کے عنوان سے لکھ دی۔ اردو کے دو اہم شعرا اقبالؔ اور میر انیسؔ کے ادبی سرمایے کا الگ الگ جلدوں میں جائزہ لے کر انھوں نے اپنی راے ظاہر کی شاد عظیم آبادی جیسے شعراء کے دوادین مرتب کر کے ان کا تنقیدی جائزہ لیا۔ شورش، عشق اور علی ابراہیم خاں خلیلؔ کے گمشدہ تذکروں کو اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔ تین جلدوں میں اپنی خود نوشت لکھی اور اپنی ادبی شخصیت کے فروغ کے اسباب اور محرکات روشن کیے۔ قدیم مغربی تنقید اور ادبی تنقید کے اصول جیسی کتابیں پیش کرنے کے بعد آخری زمانے میں اپنی تنقیدی زندگی کا ’’ میری تنقید ایک بازدید‘‘ میں محاکمہ بھی کردیا۔
تنقید کے لیے ایک مکمل شخصیت میں کیا ہونا چاہیے؟ کلیم الدین احمد کے تنقیدی کارناموں کا جائزہ ہمیں حیرت زدہ کردیتا ہے کہ کسی ایک شخص نے کیسے منظم طریقے سے اتنا سب کام کر لیا ہوگا۔ یہی نہیں انھوں نے اپنی کتابوں کی ہر نئی اشاعت میں ردوبدل اور ترمیم و اضافہ بھی کیا۔ نتیجے کے طور پر ’’اردوشاعری پرایک نظر‘‘ کی پہلی اشاعت اور ان کی زندگی میں آخری اشاعت کی ضخامت پرغورکریں توپتہ چلے گاکہ یہ کتاب دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی۔ کلیم الدین احمد تازہ اطلاعات اور اس دوران ابھرنے والے تخلیق کاروں اور ناقدین کی تازہ اورپرانی نگارشات کاجائزہ بھی لیتے چلتے ہیں۔ مثال کے طور پر’’اردو تنقید پرایک نظر‘‘ کی جب پہلی باراشاعت ہوئی تو اس وقت شمس الرحمن فاروقی کی عمر ۷ برس کی تھی۔ لیکن ۱۹۸۳ میں اپنی موت سے پہلے کلیم الدین احمد نے اس کتاب پرجب آخری بارترمیم واضافہ کیاتو شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کے لیئے چالس صفحات وقف کیے گئے۔ اسی طرح آل احمد سرور کی بعد کی تحریروں کاالگ سے جائزہ لیتے ہوئے پرانے اعتراضات واپس لیے گئے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ کلیم الدین اپنے خیالات اوراپنی تحریروں کووقت کے بدلتے ہوئے آیئنے میں رکھ کر دیکھنے کے قائل تھے اورخودکواپ ٹو ڈیٹ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے۔ کلیم الدین احمد کے اس ہنر کو ان کے ہم عصر ناقدین نے کبھی بھی نہیں اپنایا۔ اور’ مستندہے میرافرامایاہوا‘پر قائم رہے۔
اردو تنقید کی تاریخ میں ہمیں کوئی ایسی دوسری شخصیت نہیں ملتی جس کے تنقیدی کارناموں کی دنیا اتنی وسیع ہو۔ قدیم یونانی تنقید سے لے کر تذکروں تک اور پھرجدیدیت کے علم بردار شمس الرحمن فاروقی تک ! شاعری میں میرؔ وسوداؔ سے لے کرعلی سردارجعفری اور فیض تک ’’نوطرزمرصّع‘‘ سے لے کر’’طلسم ہوش ربا‘‘ اور’’بوستان خیال‘‘ تک ! تمام پہلوؤں پرکلیم الدین احمد کی گہری نظرہے۔ چینی اورجاپانی ادب، تنقید کی بھول بھلیاں، شاعروں کی نوک جھونک جیسے موضوعات پرکلیم الدین احمد کے علاوہ شاید ہی کوئی لکھنے والا ملے۔
کلیم الدین احمد تنقید میں ایک ایساسائنٹفک اسلوب استعمال میں لائے جسے بعد کے ناقدین اپنے لئے رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ آج کے زمانے کے سب سے ممتاز نقادشمس الرحمن فاروقی کے اندازنقد پرکلیم الدین احمد کی واضح پرچھائیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج کے ناقدین میں جدید اور یوروپی علوم کے ساتھ روایتی مطالعات کاجوشغف دکھائی دیتا ہے، وہ بھی کلیم الدین احمد کی پیروی میں ہے۔ اردو تنقید کی تاریخ حالی کے بعد کسی بھرے پرے اور مکمل ناقدکی تلاش میں بڑھے گی تواسے کلیم الدین احمد تک جانا ہوگا۔ کلیم الدین احمد کایہی تاریخی کارنامہ ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safdar Imam Qadri

Read More Articles by Safdar Imam Qadri: 50 Articles with 73563 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Oct, 2016 Views: 1388

Comments

آپ کی رائے