امید کا چراغ کہاں سے لاؤں؟۔

(Sara Hussain Mughal, karachi)
عائشہ نے گاڑی سے نکل کر بچوں کو ڈانٹا اور بھگا دیا۔ اس چوک پر موجود تمام دکاندار مسکرا کر بچوں کی مستیاں دیکھ رہے تھے۔ بوڑھی دیوانی عورت جو منہ سے تو ان بچوں کو مسلسل گالیاں دے رھی تھی جو اسے پتھر مار رہے تھے اور پاگل پاگل چلارہے تھے لیکن عائشہ کے بچوں کو ڈانٹنے پر جب اُس عورت کی نظریں عائشہ سے ملیں تو عائشہ کو اُس دیوانی عورت کی آنکھوں میں پانی، دکھ، دعا اور تشکر کی صورت نظر آیا۔ عائشہ خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور ھوگئیُ۔۔۔۔ “کیا ھم مستقبل کی ایسی تربیت کر رہے ہیں؟“۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sara Hussain Mughal

Read More Articles by Sara Hussain Mughal: 6 Articles with 5466 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2016 Views: 940

Comments

آپ کی رائے