ماڈل گرل

(Ainee Niazi, Karachi)
 اماں ابا اسے ڈانٹ رہے تھے
ارے شر م نہ آئی۔ سارے زمانے میں
ماڈل گرل ہی ملی تھی پسند کرنے کو
ہم اسے اپنی بہو نہیں بناسکتے لوگ کیا کہیں گے
ہماری ناک کٹواؤ گے لو بھلا کوئی بات ہوئی
ہونہہ ماڈل گرل ،اچھے کپڑے پہن سج بن کر
دنیا کے سامنے پیش ہونا ،،بڑی بے حیائی ہے
دیدوں کا پانی گر گیا ہے ، نجانے ماں باپ کیسے ہیں
اچھا چھوڑو، کل تمہاری بہن کو دیکھنے
لڑکے والے آرہے ہیں، بیٹی بیوٹی پارلر ہو آؤ
کل ذرا ڈھنگ سے تیار ہو کر ان کے سامنے چائے پیش کرنا
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3275 Print Article Print
About the Author: Ainee Niazi

Read More Articles by Ainee Niazi: 144 Articles with 78652 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Ainee Niazi.
ap ki story bohat ache ha or main kehta hon ap ni bohat acha likha ha or is tarha k likhna chaeya ha is lia k jab tak bat hogi nhi us per tabsara nhi hoga jab tk kise hatmi nataejy tak nhi jaya ja sakta k kia sahi kia galt,,,is story ko parhne k bad main yahi kahonga k jo (Rana Tabassum Pasha) ne kaha ha ....haqiqt ha k larki k majboran tayar hona or bat ha or jan bujh kar jesam ki nomaesh krna mere hisab se galt ha ....ALLAH PAK REHAM FARMAE AMEEN .
By: shohaib haneef , karachi on Feb, 14 2018
Reply Reply
0 Like
بلکل۔ یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔
By: mini, mindi bhauddin on Dec, 02 2016
Reply Reply
0 Like
Really nice
By: Quaratulain , [email protected] on Nov, 04 2016
Reply Reply
0 Like
مجھے اس بات سے پورا اتفاق ہے کہ کسی ماڈل گرل سے شادی کر لینا اور اپنی بیٹی کو تیار کروانا دو الگ الگ معاملے ہیں ۔ بیٹی کو اس کا رشتہ لے کر دیکھنے آنے والوں کے لئے تیار کروانا برصغیر کے رسم و رواج کا حصہ ہے اور بیٹی والوں کی مجبوری بھی ۔ یہ کڑوا گھونٹ پئے بغیر گارا نہیں ہے ۔ لڑکی ڈھنگ سے تیار ہو کر لڑکے والوں کے سامنے نہیں آئے گی تو اسے کیسے پسند کر لیا جائے گا ۔ مگر ایک ماڈل گرل کسی باعزت روزگار کے حصول پر اختیار ہونے کے باوجود دولت اور شہرت کے لئے اپنی رضا سے ایسے راستے کا انتخاب کرتی ہے جس میں کم از کم آج کے دور میں تو نیم عریانی پہلی شرط ہے ۔ وہ ساری دنیا کے سامنے اپنے پورے لباس سے محروم وجود کی نمائش لگاتی ہے اور اسے باعث افتخار سمجھتی ہے ۔ اس کا ایک ایسی لڑکی سے تقابل کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے جو گھر کے اندر معقول لباس اور مناسب حلیے میں ایک ضرورت اور رسم کے تحت لڑکے والوں کے سامنے آتی ہے جو تکلیف دہ تو ہے مگر معیوب نہیں ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Nov, 02 2016
Reply Reply
5 Like
Rana Tabassum Pasha.
ap k comment tareef k kabil ha bohat hi khoobsurat andaz main ap ni har pehlo k jaeza letay hoay bat bayan ki ha or haqiqt likhe ha ...main ap ki bat se sehmat hon ..
By: shohaib haneef, karachi on Feb, 14 2018
0 Like
جی آپ کی بات درست ہے کہ یہ ایک بری قبیح رسم ہے پہلے زمانے میں اس طرح با قاعدہ طور پر دیکھنے جانے والوں کا چلن نہیں تھا کسی نے دیکھنا ہوتا کسی محفل میں دیکھ لیا افسوس تو اس بات کا بھی ہوتا ہے کہ لوگ پھر ریجکٹ بھی کر جاتے ہیں پھر یہ ایک طرح سے ماڈل ہی ہوئی
By: Ainee niazi, Karachi on Nov, 04 2016
0 Like
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کی تحریر بہتر ہے مگر یہاں لوگوں کی سوچ اپنے لئے کچھ اور ہے اور دوسروں کے لئے کچھ ہے۔لیکن ماڈل گرل سے شادی کرلینا اور اپنی بیٹی کو تیارکروانا الگ الگ معاملے ہیں،دونوں میں اگرچہ نمائش ہوتی ہے مگر اس میں فرق بھی ہے بہرحال سوچ منفی ہے تبھی یہ تحریر کچھ سوچنے پر مائل کر رہی ہے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Nov, 01 2016
Reply Reply
1 Like
Language: