اکیلی

(Asghar Ali Javed, )
نتھلی والی اس خوبصورت لڑکی کا باغِ جناح میں لوگوں کو شدت سے انتظار رہتا تھا گیٹ کیپر ، پارکنگ والے لڑکے اور سب سیر کرنے والے اسے دیکھنے کو بے تاب رہتے تھے ۔ لیکن وہ ہر چیز سے بے نیاز صدر دروازے کے باہر بیٹھے گل فروش کے پاس رکتی ، کچھ تکرار کے بعد گجرے خریدتی اور پھر اپنے ساتھی کی انگلیوں میں انگلیاں ڈالے باغ کے اندر چلی جاتی ۔ اسے کبھی بھی اکیلی نہ دیکھا گیا تھا ۔
کل صبح وہ اکیلی آئی اور گلدستہ لے کر چلی گئی ۔آج شام بھی وہ اکیلی تھی ، پھول والے نے پوچھا ، کیا دوں ؟
"پتیاں " اُس نے جواب دیا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asghar Ali Javed

Read More Articles by Asghar Ali Javed: 19 Articles with 14128 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Nov, 2016 Views: 4607

Comments

آپ کی رائے
Asghar Ali Javed
. sir bohat achi story likhe ha ap ni. is mukhtasir story main chupe ek pure kahani ha jo insan khud samjh sakta ha kise ko bayan karne ki zarorat bhi nhi ha ......
By: shohaib haneef , karachi on Feb, 14 2018
Reply Reply
0 Like
بہت اعلا ۔ مختصر سی تحریر کا اختتام بےحد چونکا دینے اور دل کو نچوڑ دینے والا ہے ۔ اتنے نادر خیال کو سپرد قلم کرتے ہوئے تھوڑی سی توجہ لفظوں کی گنتی پر دے لیتے تو اچھا تھا جس کو ایڈجسٹ کرنا کوئی ایسا مشکل نہ تھا ۔ خیر بہت اچھا لکھا ۔ اللہ آپ کی قلمی استعداد میں برکت عطا فرمائے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Nov, 02 2016
Reply Reply
1 Like