کچھ ہونے والا ہے

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)
 بیشک اﷲ تعالیٰ جسے عزت بخش دے کوئی اُس کو رسوانہیں کرسکتا،جسے اﷲ رب العزت ذلیل کردے اُسے کوئی عزت نہیں دے سکتا،میڈیامیں سستی شہرت کیلئے لوگ اکثراپنے بیانات میں کہتے ہیں کہ فلاں سازشی اسلام کی جڑیں کھوکھلی کررہاہے یافلاں نے اسلام کو بہت تقصان پہنچایاہے،اس نقطہ نظر کے لوگوں کے جذبات اپنی جگہ پرراقم کی وجدانی کیفیت اس منطق کوماننے سے صاف انکاری ہے،اسلام ،اﷲ تعالیٰ کادین ہے جس کاکوئی شریک نہیں ،اﷲ واحد خالق و مالک ہے ،اﷲ حاکم کل ہے،ساری کائنات اوراس میں بسنے والی مخلوقات اﷲ کی محتاج ہیں ،نہ اﷲ کسی کا محتاج ہے نہ دین اسلام کسی کا محتاج ہے،دین اسلام اپنے ماننے والوں کواﷲ تعالیٰ کی عبادت ،رسول اﷲ ﷺ کی اطاعت ،ادب واحترام،اُولیاء اﷲ واہل علم کا ادب و احترام ،رزق حلال ،مخلوق کی بھلائی اور دیگر نیک اعمال کادرس دیتاہے،اب کوئی اﷲ تعالیٰ،رسول اﷲ ﷺ ، اُولیاء اﷲ،شہدا اورصالحین کی تعلیمات کی پیروی کرے تویہ اُس کی خوش بختی ہے نہ کرے تو وہ بڑابد بخت ہے،دین اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنایانقصان پہنچانا کسی کے بس میں نہیں ،دین اسلام کو ہماری ضرورت نہیں بلکہ ہمیں زندگی میں قدم قدم پراﷲ تعالیٰ کے دین اسلام کی ضرورت پیش آتی ہے،ہمیں تو بس اپنے درست عقیدے پرقائم رہناہے کہ اﷲ تعالیٰ کادین اسلام ہی حق ہے،اﷲ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ،کریم آقاحضرت محمد ﷺ کی محبت اسلام(ہمارے ایمان)کی اولین شرط ہے، ختم نبوت کاانکاری کسی صورت مسلمان نہیں،گستاخ رسول اﷲ ﷺ کسی صورت قابل معافی نہیں،اﷲ تعالیٰ ہی کائنات کا اصل حاکم ہے ،اﷲ تعالیٰ جسے چاہتاہے اپنے کرم سے خاص کرتاہے ،جسے چاہتاہے اپنانائب مقررکرتاہے،جسے چاہے اپنے علم کے خزانے عطاکرتاہے ،جسے چاہتاہے اپنے محبوب (رسول اﷲ ﷺ)کی محبت عطاکرتاہے،جسے اﷲ پاک اس دنیامیں حکمرانی عطافرمائے وہی حاکم کہلانے کا حق دارہے،اﷲ تعالیٰ،رسول اﷲ ﷺ کے نافرمان دنیاوی اقتدارپرقابض توہوسکتے ہیں پر اﷲ تعالیٰ کے نائب کہلانے کے حق دار نہیں ہوسکتے،اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازکرجن کواپناخاص علم عطافرماتاہے،جواﷲ تعالیٰ،رسول اﷲ ﷺ کی احکامات کی پیروی کرتے ہیں ،جن کا سینہ محبت رسول اﷲ ﷺ سے روشن ہے،جوحلال و حرام کی تمیزکرتے ہیں،جو اﷲ تعالیٰ کی مخلوقات کی بھلائی کی ڈیوٹی پرمامور ہیں دراصل وہی لوگ حاکم ہیں ،وہی اہل علم ہیں،وہی سیدھے راستے پرہیں،انہیں پراﷲ تعالیٰ کاانعام ہواہے ،اہل علم اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے اور رسول اﷲ ﷺ ،آل رسول اﷲ ﷺ ،شہداوصالحین کاادب کرتے ہیں،گستاخان رسول اﷲ ﷺ کے سامنے کلمہ حق کہنے سے نہیں گھبراتے ،ایسے ہی ایک مردمجاہد عزت مآب حضرت مولاناعلامہ خادم حسین رضوی صاحب نے جب اپنے خطاب میں مرشد سرکارسید عرفان احمد شاہ المعروف نانگا مست بابامعراج دین کے روحانی درجات ،علم وعمل اوراﷲ تعالیٰ کے خصوصی فضل وکرم کاذکر کیاتوراقم قلم اُٹھائے بغیر نہ رہ سکا،حضرت علامہ خادم حسین رضوی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایاکہ لوگ اُن کورات کوسوتے جگاکرکہتے ہیں کہ ہم سردارشہداحضرت امیرحمزاؒ کے روضہ مبارک پرکھڑے ہیں ،مٹی سر میں ڈال رکھی توہم (خادم حسین رضوی صاحب)انہیں کہتے ہیں کہ ایک مُٹھی ہماری طرف سے بھی ڈالیں،کوئی ہمیں آدھی رات کو فون کرکے کہتاہے کہ وہ مدینہ منورہ روضہ رسول اﷲ ﷺ کے سامنے باادب حاضر ہے بتائیں ہماری کیا ڈیوٹی ہے،انہوں نے فرمایاکہ ہم رسول اﷲ ﷺ کی ناموس پر پہرہ دینے والے غلام ہیں اس لئے اﷲ تعالیٰ ہمیں عزت عطافرماتاہے،انہوں نے مرشد سرکارکا ذکرخیرکرتے ہوئے بتایاکہ سید عرفان احمد شاہ المعروف نانگامست بابامعراج دین 13سال عالم مجذوبی میں رہے،آپ کی روحانیت کے درجات اس قدر بلند ہیں کہ آپ ہر وقت شہداوصالحین کے ساتھ روحانی رابطے میں رہتے ہیں،سردارشہداحضرت امیرحمزہ ؒ کے ساتھ آپ کا قریبی رابطہ ہے،انہوں نے مزید بتایاکہ شاہ صاحب پراﷲ تعالیٰ،رسول اﷲ ﷺ،شہدا وصالحین کا خاص کرم ہے جس بیمار کودم کردیں وہ شفاء یاب ہوجاتاہے،،شاہ صاحب کوحکم نہیں ورنہ آج سودخور اقتدارپرقابض نہ ہوں ،حضرت علامہ خادم حسین رضوی صاحب نے بتایاکہ انہوں نے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں شاہ صاحب سے سوال کیاکہ اس وقت پیارے آقاحضرت محمد ﷺ اپنی اُمت سے کیاچاہتے ہیں تو شاہ صاحب نے فرمایارسول اﷲ ﷺ اپنی اُمت سے چاہتے ہیں کہ وہ لبیک یاروسول اﷲ ؑﷺ کانعرہ بلند کرے اورظالموں کے کیخلاف متحد ہوکرڈٹ جائے،گستاخان رسول اﷲ ﷺ،ان کے حماتیوں،سودخوروں اورظالم حکمرانوں ،صحابہ اکرام ،اُولیاء اﷲ سے بغض رکھنے والوں کی حمایت چھوڑکراہل اﷲ کاساتھ دیں ،اﷲ رب العزت قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے’’یہ ان کا بدلہ ہے جہنم اس پر کہ انہوں نے کفرکیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی(سورۃ الکہف۔۱۰۶)تم فرماؤظاہری صورت بشری میں تومیں تم جیساہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارامعبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہواسے چاہیے کہ نیک کام کرے اوراپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے(سورۃ الکہف۔۱۱۰)مرشد سرکارنے فرمایاجولوگ اﷲ تعالیٰ کے احکامات کونہیں مانتے یعنی اﷲ کریم نے سودخوری سے سختی کے ساتھ منع فرمایاہے جوپھربھی کھلم کھلاسودخوری کرتے ہیں،جونبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں اورجواُن کے حمایتی ہیں وہ لوگ نہ تواﷲ تعالیٰ کاکچھ نقصان کرسکتے ہیں اورنہ ہی رسول اﷲ ﷺ کی شان میں ذرہ برابربھی کمی کرنے کااختیاررکھتے ہیں اورنہ ہی ہم ان بدبختوں کے حمایتی ہیں،ہم ہراُس شخص کے ساتھ ہیں جواﷲ کوایک مانتاہے،کریم آقاحضرت محمد ﷺ کادل سے احترام کرتااورگستاخان رسول اﷲ ﷺکیخلاف لڑنے کاجذبہ رکھتاہے ،مرشد حضورنے فرمایاکہ خادم حسین رضوی صاحب بڑے خاص بندے ہیں اﷲ تعالیٰ نے اُن کے دل میں محبت رسول اﷲ ﷺ اورگستاخان رسول اﷲ ﷺ کے خلاف شدید نفرت ڈال رکھی ہے ،اس لئے ہماری دُعائیں اُن کے ساتھ ہیں ،علامہ خادم حسین رضوی صاحب نے رمضان المبارک میں مسجد نبوی کے گیٹ کے قریب ہونے والے بم دھماکے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پچاس سے زائد مسلم ممالک ہیں ،اپنے آپ کومسلمان کہلانے والے حکمرانوں میں کوئی ایسانہیں ہے جسے سرکارخواب میں آکرفرمائیں کہ اُٹھوکوئی بم چلاکرحرم مبارک کے تقدس کوپامال کرنے کیلئے چل پڑاہے،انہوں نے کہاکہ جس کے ساتھ تعلق ہو،محبت ہو،لین دین اُسے کے خواب خیال آیاکرتے ہیں آج کے مسلم حاکمین کو امریکی صدر کے خواب جگاتے ہیں یاپھرمودی کے خیال ستاتے ہیں ،جب مسجد نبوی کے گیٹ پر بم دھماکہ ہوامرشد سرکارمسجد نبوی میں اعتکاف فرمارہے تھے،راقم نے مرشد حضور سے عرض کیاکہ واقعہ ہی سرکاردوعالم ﷺکسی مسلم حاکم کوپسند نہیں فرماتے ؟مرشد پاک نے فرمایابیٹاایسی بات نہیں دراصل یہ لوگ حاکم ہیں ہی نہیں یہ تودنیاوی اقتدارپرقابض ہیں ،نبی کریم ﷺ کے اصل وارث ہی مسلم دنیاکے حاکم ہیں،پیارے آقا ﷺ نے خبربھی فرمائی اوربمبار کو مسجد کے اندرسے نکالابھی،ابھی حکم نہیں سارے پردے اُٹھانے کاورنہ آج ہی سارانظام ادھرکااُدھرکردیں، مرشد سرکار نے فرمایاکہ پرندے ہم سے اپنے لئے دُعاکی درخواست کررہے ہیں اور جب پرندے دُعاکی درخواست کرنے لگے توسمجھ لوکہ کچھ ہونے والاہے
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 301029 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2016 Views: 311

Comments

آپ کی رائے